LIVE
اہم خبر
عالمی سیمیکمڈکٹر الائنس نے نیکسٹ جنریشن ریسرچ لیبارٹریز کے لیے ریکارڈ فنڈنگ کا اعلان کر دیا۔ • مرکزی بینک نے سود کے رہنما خطوط کو ایڈجسٹ کیا، جس سے مالیاتی انڈیکس اوپر گئے۔ • کاپ 30 کے منتظمین نے گرین انیشیٹو کے نفاذ کے لیے حتمی شیڈول کی تصدیق کر دی۔ • دو طرفہ سفارتی صف بندیوں نے وسطی ایشیائی راہداریوں میں ٹرانزٹ معاہدوں کو مضبوط کیا۔ • کوانٹم کمپیوٹنگ پائلٹ پروجیکٹس نے معیاری درجہ حرارت پر مستحکم فیز ہم آہنگی حاصل کی۔ • عالمی سیمیکمڈکٹر الائنس نے نیکسٹ جنریشن ریسرچ لیبارٹریز کے لیے ریکارڈ فنڈنگ کا اعلان کر دیا۔ • مرکزی بینک نے سود کے رہنما خطوط کو ایڈجسٹ کیا، جس سے مالیاتی انڈیکس اوپر گئے۔ • کاپ 30 کے منتظمین نے گرین انیشیٹو کے نفاذ کے لیے حتمی شیڈول کی تصدیق کر دی۔ • دو طرفہ سفارتی صف بندیوں نے وسطی ایشیائی راہداریوں میں ٹرانزٹ معاہدوں کو مضبوط کیا۔ • کوانٹم کمپیوٹنگ پائلٹ پروجیکٹس نے معیاری درجہ حرارت پر مستحکم فیز ہم آہنگی حاصل کی۔ •
دنیا

نائن الیون حملوں کے ہائی جیکرز اور مبینہ سعودی جاسوس کی کہانی

11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے شدت پسند حملوں کے تقریباً 27 سال بعد، ہولی ریچفورڈ نے پہلی بار عوامی طور پر اس معاملے پر بات کی ہے۔ ہولی ریچفورڈ کی کہانی ہولی ریچفورڈ سان ڈیاگو میں ایک رہائشی کمپلیکس کا انتظام سنبھالتی تھیں۔ انھیں آج بھی یقین نہیں آتا کہ جو شخص

usman javedشائع شدہ 30 اگست، 20263 منٹ مطالعہ
نائن الیون حملوں کے ہائی جیکرز اور مبینہ سعودی جاسوس کی کہانی
خصوصی کوریج: نائن الیون حملوں کے ہائی جیکرز اور مبینہ سعودی جاسوس کی کہانی / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے شدت پسند حملوں کے تقریباً 27 سال بعد، ہولی ریچفورڈ نے پہلی بار عوامی طور پر اس معاملے پر بات کی ہے۔

ہولی ریچفورڈ کی کہانی

ہولی ریچفورڈ سان ڈیاگو میں ایک رہائشی کمپلیکس کا انتظام سنبھالتی تھیں۔ انھیں آج بھی یقین نہیں آتا کہ جو شخص اس کمپلیکس میں رہنے آیا تھا، اس پر امریکہ کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے شدت پسند حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگے گا۔

عمر البیومی کون تھا؟

عمر البیومی ایک سعودی شہری تھا جس کی عمر چالیس کی دہائی میں تھی۔ وہ ستمبر 1999 میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اس رہائشی کمپلیکس میں منتقل ہوا تھا۔

ہولی ریچفورڈ کی یادوں

ہولی ریچفورڈ نے بتایا کہ عمر البیومی بہت خوش مزاج تھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ رہتی، اور وہ انتہائی دوستانہ مزاج کا مالک تھا۔ وہ ان کے ساتھ پارک ووڈ اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر 152 میں رہتے تھے۔

چند ماہ بعد عمر البیومی نے ہولی ریچفورڈ کی ملاقات دو ایسے افراد سے کروائی جو بظاہر نہایت سادہ اور 'شائستہ' دکھائی دیتے تھے، اور جو بعد میں ان کے پڑوسی بھی بن گئے۔

11 ستمبر کے حملے

یہ دونوں افراد بعد میں اس 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے دوران امریکن ایئرلائنز کی پرواز 77 کو اغوا کرنے اور اسے امریکی محکمۂ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون سے ٹکرانے کی کوشش میں بدنام ہوئے۔

  • عمر البیومی کی شناخت مبینہ سعودی جاسوس کے طور پر ہوئی۔
  • ہولی ریچفورڈ گذشتہ 25 برس سے ان تینوں افراد کے ساتھ اپنے تعلق کی یادوں سے پریشان ہیں۔
  • ان کا خیال ہے کہ عمر البیومی نے ابتدا ہی سے انھیں دھوکے میں رکھا۔

ہولی ریچفورڈ کے مطابق، 'میرے لیے یہ قبول کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ اس شخص نے خود کو کیا ظاہر کیا اور حقیقت میں وہ تھا کیا۔ آج بھی مجھے یہ بات سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔'

ہولی ریچفورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو بھول نہیں سکتیں اور ان کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا وہ عمر البیومی کو پہچانتی تھیں؟

انھوں نے وطن نیوز کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو بھول نہیں سکتیں اور ان کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا وہ عمر البیومی کو پہچانتی تھیں؟

نائن الیون حملوں کے ہائی جیکرز اور مبینہ سعودی جاسوس کی کہانی - وطن نیوز انٹرنیشنل | Watan News International