کراچی کے زیرِ زمین ہپ ہاپ موسیقی کے منظرنامے پر بننے والی دستاویزی فلم ’وی ریلی آر پاکستان‘ نے گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول ۲۰۲۶ کے ساتویں ایڈیشن میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔ صبا کریم خان کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم کراچی کے تین نوجوان ریپرز کی زندگی، جدوجہد اور موسیقی کے سفر کو فلمی پردے پر لاتی ہے۔ فیسٹیول کی انتظامیہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر فاتحین کی فہرست میں اس فلم کو دستاویزی شعبے کی بہترین فلم قرار دیا ہے۔
اہم نکات
- دستاویزی فلم ’وی ریلی آر پاکستان‘ گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول ۲۰۲۶ میں بہترین دستاویزی فلم قرار پائی
- فلم کی ہدایت کاری مصنفہ اور فلم ساز صبا کریم خان نے کی ہے
- فلم کراچی کے زیرِ زمین ہپ ہاپ فنکاروں کی زندگی اور موسیقی پر مبنی ہے
- فیسٹیول میں ۳۵ ملکوں سے تقریباً ۶ ہزار فلموں کی درخواستیں آئیں، ۶۰ فلمیں منتخب ہوئیں
- ساتویں ایڈیشن کے پروگرام آن لائن اور کراچی کی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں منعقد ہوئے
فیسٹیول میں آزاد سنیما کا جشن
گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول کا ساتواں ایڈیشن اس سال مخلوط یعنی ہائبرڈ طرز پر منعقد ہوا۔ ڈیجیٹل پروگرام ۱۸ سے ۳۰ ستمبر تک آن لائن نشر کیا گیا، جبکہ کراچی کی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں فلموں کی باقاعدہ نمائش بھی ہوئی۔ فیسٹیول کے دوسرے روز مقامی آزاد فلم سازوں کی کاوشوں کا خاص طور پر جشن منایا گیا اور نوجوان فلم سازوں کے لیے مکالمے کے سیشن بھی رکھے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار فیسٹیول کو دنیا بھر سے تقریباً ۶ ہزار فلموں کی درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے ۶۰ فلمیں منتخب کی گئیں۔ ان میں سات غیر ملکی زبانوں کی فیچر فلمیں، ۲۵ بین الاقوامی مختصر فلمیں اور ۲۸ پاکستانی مختصر فلمیں شامل تھیں۔ پاکستان کے شعبے میں بہترین فلم کا ایوارڈ ’پرماننٹ گیسٹ‘ کو، بہترین ہدایت کاری کا ’خزانہ‘ کو، جبکہ بہترین مرد اداکار کا ایوارڈ عدنان شاہ ٹیپو نے جیتا۔ دستاویزی شعبے میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ ’دی آفٹر: اے شیفز وش‘ کے عمر ریاض کو ملا۔

کراچی کا ہپ ہاپ منظرنامہ فلمی پردے پر
’وی ریلی آر پاکستان‘ کراچی کی تنگ گلیوں میں پروان چڑھنے والے آزاد ریپ موسیقی کے منظرنامے کی کہانی ہے۔ یہ ان نوجوان فنکاروں کی زندگی پر روشنی ڈالتی ہے جو دن کو ملازمت کرتے ہیں اور رات کو اپنے ریپ کے ذریعے اپنے جذبات، خواہشات اور شہر کی حقیقتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح موسیقی ان نوجوانوں کے لیے اپنی شناخت اور آواز بننے کا ذریعہ بنی۔
صبا کریم خان کراچی میں پیدا ہونے والی مصنفہ اور ایوارڈ یافتہ فلم ساز ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے سماجی بشریات کی تعلیم حاصل کی اور اس وقت ابوظہبی کی ایک یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کی پہلی دستاویزی فلم ’کنکریٹ ڈریمز‘ بین الاقوامی فلم فیسٹیولوں میں اعزازات حاصل کر چکی ہے۔ ’وی ریلی آر پاکستان‘ میں انہوں نے کراچی کے نوجوانوں کی موسیقی اور ان کی زندگی کے رنگوں کو قریب سے دکھایا ہے۔
نوجوانوں کے لیے پیغام
اس ایوارڈ سے پاکستان کے آزاد سنیما اور نوجوان موسیقاروں کی محنت کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ یہ کامیابی ان نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے فن کے ذریعے معاشرے میں مثبت پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اردو بولنے والے ناظرین کے لیے یہ فلم اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کراچی کی گلیوں کی اپنی کہانی، اپنی زبان اور اپنے لوگوں کے خوابوں کو دنیا کے سامنے رکھتی ہے۔
پاکستان کی فلمی صنعت اور ثقافتی خبروں کے لیے وطن نیوز اردو کے ساتھ جڑے رہیں۔






























