مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت: ڈھاکہ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟
سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پائے جانے کے بعد سے اس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے حوالے سے خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی شمولیت کے حوالے سے ڈھاکہ کی کیا رائے ہے؟ بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ

سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پائے جانے کے بعد سے اس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے حوالے سے خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کی شمولیت کے حوالے سے ڈھاکہ کی کیا رائے ہے؟
بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ڈھاکہ کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو شمولیت کی دعوت دی گئی تو وہ اسے ’مثبت‘ انداز‘ میں دیکھے گا۔
پاکستان کا موقف کیا ہے؟
دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ کے ساتھ مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔
- مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت کے حوالے سے ڈھاکہ میں بحث ہو رہی ہے۔
- پاکستان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ کے ساتھ مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر یہ معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو یہ دنیا بھر کی مسلم برادری کی سلامتی کے لیے ایک قدم ہوگا۔‘
مزید معلومات کے لیے وطن نیوز کا دورہ کریں۔
