پمز ہسپتال میں آتشزدگی: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، والدین اور عینی شاہدین کی دلچسپ باتیں
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کی جانب سے تحقیقات اور معطلی حکام کے مطابق تمام 14 بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کی جانب سے تحقیقات اور معطلی
حکام کے مطابق تمام 14 بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
والدین اور عینی شاہدین کی باتیں
میتوں کی حوالگی سے قبل ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور لواحقین بڑی تعداد میں پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی عمارت کے باہر موجود تھے۔
اِس سینٹر کے باہر بہت سی ایسی مائیں بھی صدمے کی حالت میں موجود تھیں جنھوں نے اس افسوسناک واقعے میں اپنے نومولود بچوں کو کھویا ہے۔
ایسی ہی ایک ماں جویریہ، جنھوں نے دو روز قبل ہی سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا، وہ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے باہر زمین پر بیٹھی تھیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن کا اصرار تھا کہ وہ اس مقام سے تب تک نہیں اٹھیں گی جب تک انھیں اُن کا بچہ نہیں دے دیا جاتا۔
اِسی طرح زار و قطار روتے ایک والد بس یہی دہائی دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بس میرے بچے کی میت دے دیں۔‘
سہولیات اور عملے کی شکایات
یہاں موجود بہت سے والدین اور لواحقین ہسپتال میں سہولیات اور عملے کے رویے کی شکایات کرتے بھی نظر آئے جبکہ کئی عینی شاہدین اور والدین نے دعویٰ کیا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت نرسری میں ہسپتال کے عملے کا کوئی رُکن موجود نہیں تھا جبکہ نرسری کا داخلی دروازہ لاک تھا۔
- ہسپتال کے عملے کی عدم موجودگی
- نرسری کا داخلی دروازہ لاک ہونا
- والدین اور لواحقین کی سہولیات کی شکایات
ہلاک ہونے والے ایک بچے کے والد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ گذشتہ آٹھ دن سے اس وارڈ میں آ جا رہے تھے اور وہاں جو صورتحال تھی وہ افسوسناک تھی۔
مزید برآں، وطن نیوز کی ویب سائٹ پر اس واقعے سے متعلق مزید معلومات اور اپ ڈیٹس حاصل کی جا سکتی ہیں۔
