LIVE
اہم خبر
مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے العربیہ کو بتایااردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘ جاریڈرونز کے خلاف پاکستان ایئر فورس کا نیا دفاعی سسٹمسرگودھا ڈویژن نے تیسری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گیمز کرکٹ چیمپئن شپ جیت لیافغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش: طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان معاہدہڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مددپاسپورٹ کی Obtainance میں انقلاب: ڈیجیٹل سسٹم اور ای پاسپورٹ کی ابتداءدوارکا میں پاکستانی بحریہ کی کارروائی: انڈیا کے بحری جہاز میڈیا کے سامنےاسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلانمٹھی کی گلیوں میں ماتو رام بھگت کا آخری سفر: ایک شاہانہ ڈولی اور وینکٹھیپنجاب کے شعبہ صحت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیںافغان طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہپنجاب میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکانمیر رضا کیس: خاندان کو سوال کرنے سے روکنے کا معاملہفریڈم گیٹ پراسپرٹی اور نسٹ میں این سی اے آئی کا ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل جدت کے فروغ کیلئے تعاونشہزادہ ہیری اور میگھن: شاہی خاندان کے غیر فعال ارکانیمنی حوثیوں کے حملوں میں 73 زخمی: سعودی عرب کا جوابپاکستان ڈرامہ ’آپ کی عزت‘ کا سین جسے ’شاہکار‘ کہا گیاصحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ: عدالت میں کیا کہا گیا?صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ: ’میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں، نیکٹا کے بارے میں بات کی‘مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے العربیہ کو بتایااردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘ جاریڈرونز کے خلاف پاکستان ایئر فورس کا نیا دفاعی سسٹمسرگودھا ڈویژن نے تیسری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گیمز کرکٹ چیمپئن شپ جیت لیافغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش: طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان معاہدہڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مددپاسپورٹ کی Obtainance میں انقلاب: ڈیجیٹل سسٹم اور ای پاسپورٹ کی ابتداءدوارکا میں پاکستانی بحریہ کی کارروائی: انڈیا کے بحری جہاز میڈیا کے سامنےاسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلانمٹھی کی گلیوں میں ماتو رام بھگت کا آخری سفر: ایک شاہانہ ڈولی اور وینکٹھیپنجاب کے شعبہ صحت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیںافغان طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہپنجاب میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکانمیر رضا کیس: خاندان کو سوال کرنے سے روکنے کا معاملہفریڈم گیٹ پراسپرٹی اور نسٹ میں این سی اے آئی کا ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل جدت کے فروغ کیلئے تعاونشہزادہ ہیری اور میگھن: شاہی خاندان کے غیر فعال ارکانیمنی حوثیوں کے حملوں میں 73 زخمی: سعودی عرب کا جوابپاکستان ڈرامہ ’آپ کی عزت‘ کا سین جسے ’شاہکار‘ کہا گیاصحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ: عدالت میں کیا کہا گیا?صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ: ’میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں، نیکٹا کے بارے میں بات کی‘
پاکستان

مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے العربیہ کو بتایا

Ch Usmanشائع شدہ 16 ستمبر، 2026
مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے العربیہ کو بتایا
خصوصی کوریج: مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے العربیہ کو بتایا / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

اسلام آباد — پاک فوج کے ترجمان نے بدھ کو کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا مقصد اجتماعی دفاعی روک تھام ہے، اور اس میں کوئی علاقائی عزائم شامل نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی فریق پر حملہ ہو تو عملی ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک مل کر کریں گے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ باتیں 16 ستمبر 2026 کو العربیہ انگلش کے خصوصی انٹرویو میں کہیں، جن کی تفصیل دی نیوز انٹرنیشنل اور دی ایکسپریس ٹریبیون کی انگلش رپورٹس میں سامنے آئی۔

یہ سہ فریقی معاہدہ تقریباً 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط ہوا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان، اور ترک صدر رجب طیب اردوغان موجود تھے۔ دفترِ خارجہ اور جیو نیوز نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا، اور اس میں وسیع تر دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی روک تھام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

جب پوچھا گیا کہ اگر کوئی شراکت دار حملے کا نشانہ بنے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے کہا کہ دفاعی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تفصیلات خفیہ ہیں اور عسکری خطاب میں علانیہ نہیں بتائی جاتیں۔ دی نیوز کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ فیصلہ تینوں ممالک کا ہے؛ یہی جانیں گے اور یہی اسے عملی شکل دیں گے۔«

معاہدے کی نوعیت بیان کرتے ہوئے انھوں نے العربیہ انگلش سے کہا: »یہ دفاعی ہے، جیسا کہ لفظ سے ظاہر ہے۔ اس میں کوئی جارحیت نہیں۔ کوئی علاقائی عزائم نہیں۔ یہ اجتماعی دفاعی روک تھام ہے۔« ٹریبیون نے بھی رپورٹ کیا کہ معاہدے میں »نہ کوئی جارحانہ پہلو ہے، نہ مداخلت، نہ جارحانہ عنصر۔«

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے اس انتظام کو تینوں ممالک کے دیگر تعلقات کا مقابل نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا۔ دی نیوز کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ باہمی دفاعی معاہدہ تکمیلی نوعیت کا ہے۔ یہ ان ممالک کے دوسرے تعلقات سے مقابلہ نہیں کر رہا۔« ٹریبیون کی رپورٹ میں انھوں نے اسے دوسرے اتحادوں سے ہم آہنگ بتایا اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں بھی مکہ معاہدے کو حریف نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا۔

انھوں نے معاہدے کو »مسلم اتحاد« کا لیبل لگانے سے انکار کیا اور اسے علاقائی استحکام کا انتظام قرار دیا جو غیر جارحیت، غیر مداخلت اور اجتماعی دفاعی روک تھام والے رضامند شراکت داروں کے لیے کھلا ہے۔ ٹریبیون کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ کوئی ایسا کلب نہیں جو صرف مسلم ممالک کے لیے بنایا گیا ہو۔« توسیع کا معاملہ تینوں ممالک کی قیادت پر چھوڑا۔

مکہ فریم ورک کے علاوہ دی نیوز نے رپورٹ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے پاک بھارت عسکری صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ دو جوہری ہمسائیوں کے درمیان فوجی تصادم »سوال ہی نہیں«، اور پاکستان »برابر کی بنیادوں پر امن« کا قائل ہے؛ البتہ جارحیت پر اسلام آباد اپنی سلامتی کا تحفظ کرے گا۔ العربیہ انٹرویو کے کچھ انگلش خلاصوں—بشمول ڈیلی قدرت انگلش—میں انھوں نے بھارت کے دفاعی اخراجات کا ذکر کیا اور دہرایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ نکات ثانوی ہیں؛ مرکزی موضوع مکہ دفاعی معاہدہ ہی ہے۔

دفترِ خارجہ نے پہلے بھی مکہ معاہدے کو خالصتاً دفاعی اور کسی ملک کے خلاف نہیں قرار دیا تھا—جو بدھ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے ہم آہنگ ہے۔

ذرائع: العربیہ انگلش انٹرویو (16 ستمبر 2026)، دی نیوز انٹرنیشنل، دی ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز (دستخط، 7 اگست 2026)؛ ڈیلی قدرت انگلش (ثانوی نکات)۔

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مددماحولیات
نمایاں خبر

ڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مدد

ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے فضائی دفاع کو مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے اور یہ سوال اہم ہو چکا ہے کہ آخر کم قیمت اور چھوٹے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملوں کو کیسے روکا جائے؟ پاکستان ایئر فورس کا نیا دفاعی سسٹم بظاہر اسی

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں