لندن: انگلینڈ اور ویلز کی سبز پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں ارکان نے اتوار کو ایک متنازعہ تحریک ایک ہزار بائیس کے مقابلے میں آٹھ سو تیرہ ووٹوں سے منظور کر لی، جس میں صہیونیزم کو نسل پرستی کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور اسرائیل کی جگہ تمام تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی شدید اندرونی بحران کا شکار ہو گئی ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔
اہم نکات
- برائٹن میں پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں اتوار چار اکتوبر کو “صہیونیزم نسل پرستی ہے” کے عنوان سے تحریک ایک ہزار بائیس کے مقابلے میں آٹھ سو تیرہ ووٹوں سے منظور ہوئی۔
- یہ تحریک فلسطین کے لیے گرینز نامی گروپ نے پیش کی تھی؛ اس کے بعد پارٹی باضابطہ طور پر خود کو اینٹی صہیونی قرار دیتی ہے۔
- پارٹی کے پانچ ارکان پارلیمنٹ میں سے چار نے اس تحریک کی کھل کر مخالفت کی تھی۔
- پارٹی رہنما زیک پولانسکی نے ووٹ میں حصہ نہیں لیا؛ وہ ہولبورن اور سینٹ پینکراس کے ضمنی انتخاب کی انتخابی مہم میں مصروف تھے۔
- اتوار کی شام اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کا اعلان کر دیا۔
- یورپی گرین پارٹی اور جرمن گرینز نے اس تحریک کی مذمت کی ہے۔
تحریک میں کیا کہا گیا ہے
منظور شدہ تحریک میں صہیونیزم کو “ایک نسلی قوم پرست سیاسی منصوبہ” قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسے نسل پرستی کی کسی بھی دوسری شکل کی طرح سمجھا جائے گا۔ تحریک کے متن کے مطابق صہیونیزم کی “حقیقی، مادی شکل” فلسطینیوں کی “تاریخی اور جاری غیر انسانی سلوک، بے دخلی، محرومی اور تباہی” رہی ہے۔
تحریک میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام تاریخی فلسطین میں دارالحکومت یروشلم کے ساتھ ایک جمہوری فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس میں سب کے لیے مساوی حقوق ہوں اور فلسطینی پناہ گزینوں کو واپسی کا حق ملے۔ اس میں اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں کی تحریک کی حمایت اور اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
تین ترامیم مسترد کر دی گئیں، جن میں ایک ترمیم یہ بھی تھی کہ یہ تحریک یہودی ارکان کو ان کی یہودی کمیونٹی اداروں سے وابستگی کی بنیاد پر دباؤ یا تادیبی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

پارٹی کے اندر گہری تقسیم
ووٹ سے پہلے ہی پارٹی قیادت میں اختلاف کھل کر سامنے آ چکا تھا۔ پارٹی کے پانچ ارکان پارلیمنٹ میں سے چار نے اس تحریک کی مخالفت کی، جبکہ رہنما زیک پولانسکی کانفرنس سے جلدی روانہ ہو کر ہولبورن اور سینٹ پینکراس کے ضمنی انتخاب کی مہم میں مصروف رہے اور ووٹ میں حصہ نہیں لیا۔
گارڈین کے مطابق بعض یہودی گرینز نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ پالیسی ان کے لیے پارٹی میں رہنا مشکل بنا سکتی ہے۔ پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس تحریک کا “نظام یا تادیبی طریقہ کار پر کوئی عملی اثر نہیں” پڑے گا اور اس بحث کو “سنجیدہ اور گہری محسوس کی گئی” قرار دیا۔
اسرائیل اور یورپ کا سخت ردعمل
ووٹ کے چند گھنٹوں بعد اتوار کی شام اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اعلان کیا کہ پارٹی رہنما زیک پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ تحریک بین الاقوامی تعریف کے مطابق “واضح طور پر سام دشمن متن” ہے کیونکہ یہ یہودی عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کرتی ہے۔
یورپی گرین پارٹی اور جرمن گرینز نے بھی اس تحریک کی مذمت کی ہے۔ جرمن گرینز کے رہنما نے اسے “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے وجود کے حق کے بارے میں ان کے عقیدے کے منافی ہے۔
نتیجہ
برطانیہ کی کسی بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے خود کو باضابطہ طور پر اینٹی صہیونی قرار دینا ایک تاریخی اور انتہائی متنازعہ قدم ہے۔ ایک ہزار بائیس کے مقابلے میں آٹھ سو تیرہ ووٹوں کا قریبی نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اس معاملے پر تقریباً دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ پالیسی پارٹی کے انتخابی مستقبل کو مضبوط کرتی ہے یا اسے مزید کمزور کرتی ہے۔



























