غزہ: غزہ کی صورتحال تین برس گزرنے کے بعد بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2026 کے آغاز تک اسرائیلی کارروائیوں میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی نے بھاری جنگ کو روکا ہے، مگر حملے اور پابندیاں جاری ہیں اور جنگ بندی بھی نازک ہے، جبکہ تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو کر خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اہم نکات
- غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اکتوبر 2026 کے آغاز تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے ان اعداد کو عمومی طور پر قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں؛ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً نصف خواتین اور بچے ہیں۔
- اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی نے شدید لڑائی کو روکا، مگر وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار چار سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک اور پانچ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
- غزہ کے 38 میں سے صرف 19 اسپتال کام کر رہے ہیں؛ ایندھن، ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے۔
- اقوام متحدہ کے مطابق آبادی کا تقریباً 90 فیصد بے گھر ہے اور عمارتوں کا بڑا حصہ تباہ یا ناقابل رہائش ہو چکا ہے۔
- امدادی اداروں کے مطابق خیمے اور سرپناه کی اشیاء نہ ہونے کے برابر ہیں؛ سردیوں سے پہلے بے گھر خاندانوں کو بنیادی سامان کی شدید ضرورت ہے۔
جنگ بندی کے باوجود جاری خونریزی
غزہ کی صورتحال اس وقت بھی غیر مستحکم ہے کیونکہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2026 کے پہلے ہفتے میں بھی متعدد فلسطینی حملوں میں ہلاک ہوئے، اور صرف دیر البلح، خان یونس اور شمالی غزہ میں نئے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نے شدید ترین بمباری کو تو روک دیا ہے، مگر روزمرہ کی زندگی پر اس کا اثر محدود رہا ہے: ناکہ بندیاں، امداد کی محدود فراہمی اور مسلسل حملوں نے عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔

صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر
غزہ کا طبی نظام مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ 38 اسپتالوں میں سے صرف 19 کام کر رہے ہیں اور ان میں بھی کئی ادارے ایندھن اور جنریٹروں کے اسپیئر پارٹس کی کمی کے باعث خدمات کم کر رہے ہیں۔ بنیادی ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے، اور زخمیوں کی مسلسل آمد نے باقی بچے ہوئے اسپتالوں پر انتہائی دباؤ ڈال دیا ہے۔
طبی نظام کی تباہی کے باعث بیماریوں کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ ناکافی صفائی، آلودہ پانی اور گنجان خیمہ بستیوں میں متعدی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہر روز بڑھ رہا ہے، جبکہ بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
بے روزگاری اور معاشی تباہی
جنگ نے غزہ کی معیشت کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ کارخانے، بازار اور کھیت تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری بے پناہ بڑھ گئی ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے امداد پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی بحالی میں دہائیاں لگ سکتی ہیں، کیونکہ نہ صرف عمارتیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے بلکہ پیداواری صلاحیت بھی تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
خیموں میں زندگی: یادیں اور صبر
خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندان اپنی پرانی زندگی کی یادوں کے سہارے جی رہے ہیں۔ دیر البلح کے قریب ایک خیمے میں رہنے والے 43 سالہ ایک ڈرائیور اور مکینک اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی چند پلاسٹک کی کرسیاں ان کی قیمتی ترین ملکیت ہیں جو انہیں اپنے تباہ شدہ آبائی گھر کے باغ کی یاد دلاتی ہیں۔
خان یونس سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ ایک طالبہ، جو اپنے خاندان کے ساتھ المواسی کے ساحلی علاقے میں عارضی پناہ گاہ میں رہتی ہے، اپنے گھر سے صرف اپنا اسکول بیگ ساتھ لا سکی ہے — جو اس کے لیے اسکول کے دنوں اور دوستوں کی یاد کی علامت ہے۔

مستقبل کا خوف اور بین الاقوامی ذمہ داری
فلسطینی عوام مستقبل کے بارے میں شدید خدشات کا شکار ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود روزانہ کے حملے، اقتصادی بدحالی اور تعمیر نو کا نہ ہونا ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ امریکی حمایت سے جاری مذاکرات میں حماس کی غیر مسلح کاری اور اسرائیلی انخلا کے ربط پر بات چیت ہو رہی ہے، مگر کسی جامع سیاسی حل کے آثار ابھی نظر نہیں آ رہے۔
انسانی ہمدردی کے ادارے خبردار کرتے ہیں کہ سردیوں کے آغاز سے پہلے بے گھر خاندانوں کو خیموں، ادویات اور خوراک کی فوری فراہمی نہ ہوئی تو انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ ان کے مطابق پائیدار امن اور تعمیر نو کے بغیر غزہ کے عوام کی حالت زار بہتر نہیں ہو سکتی۔
نتیجہ
غزہ کی صورتحال آج بھی ایک گہرے انسانی بحران کی تصویر پیش کرتی ہے۔ 74 ہزار سے زائد ہلاکتیں، تباہ شدہ طبی نظام، برباد معیشت اور بے گھر ہونے والی تقریباً پوری آبادی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جنگ کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ جنگ بندی ایک نازک وقفہ ضرور ہے، مگر اس کے بغیر کہ پائیدار امن، بلا روک امداد اور تعمیر نو کا کام شروع ہو، غزہ کے عوام بیماری، مایوسی اور تباہی کے سائے میں ہی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔ بین الاقوامی برادری کی فوری اور موثر مداخلت اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مزید معلومات کے لیے یہ خبر ہماری مرکزی ویب سائٹ پر اور دنیا کی دیگر خبریں پڑھیں۔



























