اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے (ایف اے او) کے ایک سینئر امریکی عہدیدار بینجمن ڈیوس 26 سالہ خدمات کے بعد 30 ستمبر کو روم کے ہیڈکوارٹر سے رخصت ہو گئے — ادارے نے ان کے معاہدے کی تجدید سے انکار کر دیا۔ ڈیوس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایف اے او عہدیدار کی برطرفی غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید اور غزہ کے لیے خاموشی کے لمحات میں شرکت کی قیمت ہے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو کے ‘انسانی حقوق کا کھیل’ والے تبصروں نے اقوام متحدہ کے اندر آزادی اظہار پر بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔
اہم نکات: ایف اے او عہدیدار کی برطرفی
- بینجمن ڈیوس، 62 سالہ امریکی عہدیدار، ایف اے او میں دیہی تبدیلی اور صنفی مساوات ڈویژن (ای ایس پی) کے ڈائریکٹر تھے اور 26 سال سے ادارے سے وابستہ تھے۔
- یکم جولائی کے باضابطہ میمو میں بتایا گیا کہ ان کا معاہدہ 30 ستمبر تک بڑھایا گیا ہے، اس کے بعد مزید تجدید نہیں ہوگی — وجہ سینئر مینجمنٹ میں غیرجانبداری اور قیادت کے ضوابط پر ‘اعتماد کا فقدان’ قرار دی گئی۔
- ڈیوس کے مطابق انہیں دو وجوہات بتائی گئیں: (1) ہر جمعرات دوپہر غزہ میں مارے گئے فلسطینیوں کے لیے خاموشی کے لمحات (پہلی خاموشی 22 مئی 2025)، اور (2) مئی 2025 کی ایک بریف جس میں غزہ میں کیلوری کی دستیابی کے تجزیے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا — قانونی دفتر نے اسے چند ہفتوں بعد ہٹا دیا۔
- 29 ستمبر کو جنگلات سے متعلق ایک تقریب میں ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا کہ افسران ‘انسانی حقوق کا کھیل’ نہیں کھیل سکتے، جو ایسا چاہتے ہیں وہ جنیوا جائیں جہاں انسانی حقوق کا مخصوص ادارہ موجود ہے، اور ضوابط کی خلاف ورزی پر عملے کو ‘برطرف’ کر دیا جائے گا۔
- دی نیو ہیومینیٹیرین کے مطابق ایف اے او نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا؛ ادارے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عملہ ‘شدید بے چین’ ہے۔
خاموشی کے لمحات اور متنازع رپورٹ: دو وجوہات
ڈیوس ایک سال سے زائد عرصے سے ہر جمعرات دوپہر ایف اے او کی پارکنگ میں عملے کے غیررسمی اجتماع میں شریک ہوتے تھے، جہاں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے گئے فلسطینیوں کی یاد میں ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لمحات کا اہتمام نہ انہوں نے کیا نہ ان کے ڈویژن نے — یہ عملے کا ایک غیررسمی، منظورشدہ گروپ تھا جس کی سکیورٹی سروس سے کوآرڈینیشن ہوتی تھی۔
دوسری وجہ ان کے ڈویژن کی مئی 2025 کی تکنیکی بریف تھی، جس میں غزہ میں خوراک کی دستیابی کے تجزیے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے ممکنہ اثرات کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ ڈیوس کے بقول یہ بریف چند ہفتے ویب سائٹ پر رہی، پھر قانونی دفتر نے اسے یہ کہہ کر ہٹا دیا کہ ادارہ اپنے مینڈیٹ سے آگے بڑھ گیا ہے اور اسے انسانی حقوق کے قانون کی تشریح کی اجازت نہیں۔

ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو کا مؤقف
جب گزشتہ ہفتے ڈیوس کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ روم میں ایف اے او کی عالمی کانفرنس کے موقع پر کہہ رہے تھے کہ انہیں غزہ پر آواز اٹھانے کی وجہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا، تو 29 ستمبر کو ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے جنگلات کی ایک تقریب میں بظاہر اسی ہنگامے کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی افسران کو ‘انسانی حقوق کا کھیل’ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی، ضوابط توڑنے والا عملہ ‘برطرف’ کر دیا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی سینئر کیوں نہ ہو۔
ڈیوس نے دی نیو ہیومینیٹیرین کو بتایا کہ یہ ادارے کے اندر برسوں سے جاری دباؤ کا حصہ ہے کہ ‘انسانی حقوق’ کے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں — ‘حقوق پر مبنی’ کہنا تو چلتا ہے، مگر ‘انسانی حقوق’ کہنا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈیویکس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایف اے او ‘کافی محتاط’ ادارہ ہے جس کی پالیسی ہے کہ ‘ہم تکنیکی ایجنسی ہیں، سیاسی نہیں’، اور ان کے خیال میں کو ڈونگ یو ذاتی طور پر ‘شاید فلسطینی کاز سے ہمدردی رکھتے ہیں، مگر انہیں مسائل پسند نہیں’۔
ڈیوس کا جواب اور عملے میں بے چینی
دی نیو ہیومینیٹیرین کو دیے گئے انٹرویو میں ڈیوس نے کہا: ‘مجھے لگا کہ میں خاموشی سے نہیں جا سکتا۔ میں صرف چاہتا تھا کہ لوگ جانیں کہ کیا ہوا، کیا گزرا، اور خود دیکھیں۔’ ان کے بقول پورے معاملے میں مناسب کارروائی (ڈیو پراسیس) کا فقدان رہا — انہیں بغیر کسی منصفانہ طریقہ کار کے سزا دی جا رہی ہے، اور اس سے بڑھ کر اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں پر بحث کی خاموشی کو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔
اطالوی ان سائیڈر کے مطابق ڈیوس نے ساتھیوں سے کہا تھا: ‘مجھے یہ بتانے میں کوئی شرم نہیں، دراصل میں چاہتا ہوں کہ سب جانیں۔ مجھے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عزم پر بے حد فخر ہے۔’ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے الفاظ دہرائے کہ بنیادی انسانی حقوق، سماجی انصاف اور انسانی وقار وہ اقدار ہیں جنہیں بین الاقوامی سول سرونٹس کے ہر عمل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ادارے کے ایک ذریعے نے دی نیو ہیومینیٹیرین کو بتایا کہ عملہ ‘شدید بے چین’ ہے — ایک طرف بین کی ذاتی صورتحال، دوسری طرف ادارے کا سربراہ مرضی سے لوگوں کو نکالنے کی بات کر رہا ہے۔

نتیجہ
بین ڈیوس کا معاملہ اقوام متحدہ کے اداروں میں آزادی اظہار اور غیرجانبداری کے درمیان تناؤ کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے: ادارہ کہتا ہے کہ معاہدہ سینئر قیادت کے ضوابط پر اعتماد کے فقدان پر ختم ہوا، جبکہ ڈیوس کا اصرار ہے کہ قیمت غزہ پر حقائق بیان کرنے کی چکائی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل کے سخت تبصروں اور ایف اے او کی خاموشی نے عملے میں بے چینی بڑھا دی ہے، اور یہ بحث کہ تکنیکی اداروں میں انسانی حقوق کی بات ‘سیاسی کھیل’ ہے یا اقوام متحدہ کی بنیاد، اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ دنیا کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
























