لیبیا میں ایندھن کی تنصیبات پر لیبیا ڈرون حملے نے امن مذاکرات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اگست 2026 میں زاویہ آئل کمپلیکس اور طرابلس کی ایندھن تنصیبات پر کئی روز جاری رہنے والے ڈرون حملوں میں 4.5 ملین لیٹر پٹرول کا ذخیرہ تباہ ہوا، جس سے مغربی لیبیا میں بجلی کی بندش مزید بڑھ گئی۔ حملوں کے بعد حکومت برائے قومی اتحاد (جی این یو) نے 6 ستمبر کو ایک “تخریبی سیل” کے خاتمے اور پانچ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا، جبکہ صدارتی کونسل نے معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔
اہم نکات
- واقعہ: اگست 2026 میں زاویہ آئل کمپلیکس اور طرابلس/زاویہ کی ایندھن تنصیبات پر کئی روز جاری رہنے والے ڈرون حملے
- نقصان: تقریباً 4.5 ملین لیٹر پٹرول والا ٹینک تباہ، بڑی آگ، ٹینک گر گیا؛ نیشنل آئل کارپوریشن نے “انتہائی ہنگامی صورتحال” کا اعلان کیا
- اثر: مغربی لیبیا میں بجلی کی بندش میں نمایاں اضافہ؛ ریفائنری جزوی طور پر بند رہی
- گرفتاریاں: 6 ستمبر 2026 — جی این یو کے مطابق پانچ لیبیائی و غیر ملکی شہری گرفتار؛ حکومت کا دعویٰ کہ مزید منصوبہ بند حملے ناکام بنائے گئے
- الزامات: مغربی حلقوں اور کارکن احمد الزرروق کا دعویٰ کہ صدام حفتر اور ‘طارق بن زیاد’ بریگیڈ ملوث ہیں — حفتر کیمپ نے تردید کی ہے
- بین الاقوامی پیش رفت: صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی نے 19 ستمبر کو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر دفتر سے تحقیقات میں مدد کی باضابطہ درخواست کی
- امریکی کوششیں: صدر ٹرمپ کے مشیر مسعد بولوس کی مفاہمتی کوششیں جاری؛ حملوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد مزید کمزور
مذاکرات میں تعطل اور الزامات
مغربی لیبیا کی حکومت برائے قومی اتحاد (جی این یو) کے حکام نے ڈرون حملوں کا ذمہ دار حفتر سے وابستہ دھڑوں کو ٹھہرایا ہے۔ ان الزامات کے مطابق حملے ملک کو متحد کرنے کے جاری مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھے۔ دوسری جانب حفتر کیمپ کے ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ قوتیں ملک کی تقسیم برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ان متضاد دعووں نے امریکہ کی زیر قیادت مفاہمتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ لیبیا ٹریبیون کے تجزیے کے مطابق مغربی قوتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ ڈرون حملے حفتر کی طرف سے ہیں، جبکہ حفتر کا کہنا ہے کہ مغربی قوتیں جنوب میں ان کے خلاف اشتعال پھیلا رہی ہیں۔

شہر کے اوپر ڈرون — اگست 2026 میں زاویہ اور طرابلس کی ایندھن تنصیبات کئی روز تک ڈرون حملوں کا نشانہ بنیں (علامتی تصویر)
لیبیا میں ڈرون حملے: اگست کے واقعات کی تفصیل
اگست 2026 کے دوران ڈرون طیاروں نے مغربی لیبیا کے زاویہ آئل اسٹیشن اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی حملے میں پٹرول کے ایک ذخیرے والے ٹینک کو شدید نقصان پہنچا جس میں تقریباً 4.5 ملین لیٹر ایندھن موجود تھا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ ٹینک گر گیا اور پورے کمپلیکس میں “انتہائی ہنگامی صورتحال” نافذ کر دی گئی۔ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ کارروائیاں مکمل طور پر روک دے گی۔
زاویہ آئل کمپلیکس طرابلس سے تقریباً 47 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے اور ملک کی سب سے بڑی فعال ریفائنری ہے، جس کی یومیہ پروسیسنگ صلاحیت تقریباً 120,000 بیرل ہے۔ حملوں کے بعد ریفائنری کا ڈپو جزوی طور پر بند رہا، تاہم طرابلس ڈپو کے ذخائر سے سپلائی بحال کر دی گئی۔ ان حملوں سے خطے میں بجلی کی فراہمی مزید متاثر ہوئی اور عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ بڑھا۔

آئل کمپلیکس میں ایندھن کے ٹینک میں لگی آگ — اگست 2026 کے ڈرون حملوں میں 4.5 ملین لیٹر پٹرول کا ٹینک تباہ ہوا (علامتی تصویر)
امریکہ کی ثالثی کی کوششیں
امریکی حکام نے لیبیا کے مختلف دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افریقہ اور عرب امور کے مشیر مسعد بولوس ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے تھے جس کے تحت حفتر خاندان اور دبیبہ خاندان کے درمیان اقتدار کی شراکت کا انتظام ہو۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں خلیفہ حفتر کے بیٹے صدام حفتر کو سینئر ایگزیکٹو کردار جبکہ عبدالحمید دبیبہ کو وزیراعظم برقرار رکھنے کا تصور شامل تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ابراہیم دبیبہ وزیراعظم اور صدام حفتر صدر بنتے۔
بولوس کا موقف
مسعد بولوس نے 22 ستمبر کو نیویارک میں ایک تقریب میں ان خدشات کو مسترد کیا کہ امریکی منصوبہ حفتر خاندان کے کنٹرول کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا: “یہ کسی بھی طرح آمریت نہیں ہے۔ یہ ایک شخص کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ مکمل شراکت ہوگی۔” ان کے مطابق مقصد کسی فرد کو مسلط کرنا نہیں بلکہ انتخابات سے قبل حریف اداروں کو ایک سیاسی ڈھانچے کے تحت لانا ہے۔
حملوں کے ممکنہ محرکات
مبصرین کے مطابق ڈرون حملے ایسے وقت میں ہوئے جب مفاہمتی منصوبے پر پیش رفت ہو رہی تھی۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ حملے صدام حفتر کی اس ناراضی کا نتیجہ تھے کہ وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے مبینہ طور پر بولوس کے انضمام کے منصوبے میں تاخیر کی۔ ایک اور الزام یہ ہے کہ طرابلس نے جنوبی لیبیا کے قبائل کو حفتر کی افواج کے خلاف اکسایا تھا۔ یہ تمام دعوے متنازع ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں۔
گرفتاریاں اور بین الاقوامی تعلقات
6 ستمبر 2026 کو جی این یو نے اعلان کیا کہ اس نے ایک منظم “تخریبی سیل” کو ختم کر دیا ہے جو طرابلس اور زاویہ میں تیل کے ذخائر اور بجلی گھروں پر ڈرون حملوں میں ملوث تھا۔ حکومت کے مطابق پانچ لیبیائی و غیر ملکی شہری گرفتار کیے گئے، جن میں کارکنوں کے دعوے کے مطابق چار لیبیائی اور ایک ہسپانوی شہری شامل ہیں۔ حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ طرابلس ساؤتھ پاور پلانٹ اور اہم شخصیات پر مزید منصوبہ بند حملے ناکام بنا دیے گئے۔
کارکن احمد الزرروق نے دعویٰ کیا کہ گرفتار گروہ کا تعلق ‘طارق بن زیاد’ بریگیڈ سے تھا اور اس کے پیچھے صدام حفتر تھے۔ حفتر کیمپ کے قریبی ذرائع نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔ اسی تناظر میں صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی نے 19 ستمبر کو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر دفتر سے تحقیقات میں تکنیکی و قانونی مدد کی باضابطہ درخواست کی — آئی سی سی نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لیبیا کی سیاسی صورتحال
2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہے۔ مشرق پر خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیائی نیشنل آرمی کا غلبہ ہے جبکہ مغرب میں جی این یو کی حکومت ہے۔ اس تقسیم نے تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کو بدعنوانی، ملیشیاؤں، انسانی اسمگلروں اور متعدد بیرونی اداکاروں کا شکار بنا دیا ہے۔
نتیجہ
لیبیا میں ایندھن کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور ان کے بعد سامنے آنے والے باہمی الزامات نے ملک میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف ملک کی سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر رہے ہیں بلکہ عام لیبیائی شہریوں کو بھی مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں، جنہیں پہلے ہی طویل عرصے سے عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ آئی سی سی سے تحقیقات کی درخواست اس بات کی علامت ہے کہ طرابلس اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا چاہتا ہے — لیکن جب تک تمام فریق مذاکرات کی میز پر نہیں آتے، ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔



























