واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں نے ایک رضاکارانہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ AI کی خود نگرانی کریں گی۔ یہ معاہدہ عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
AI کمپنیوں کا رضاکارانہ معاہدہ
صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں AI کمپنیوں کے اعلیٰ ایگزیکٹوز کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے رہنماؤں کے ایک بڑے گروپ نے ایک رضاکارانہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے میں اندرونی اور بیرونی جائزے شامل ہوں گے۔
- ستمبر 30، 2026 کو صدر ٹرمپ نے AI کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی۔
- ملاقات کا مقصد AI ٹیکنالوجی کے بارے میں امریکی عوام کے خدشات کو دور کرنا تھا۔
- کمپنیوں نے AI کی خود نگرانی کے لیے ایک رضاکارانہ معاہدے پر اتفاق کیا۔
- اس معاہدے میں اندرونی اور بیرونی جائزے شامل ہوں گے۔
خود نگرانی کی ضرورت اور معاہدے کی تفصیلات
ٹرمپ نے کہا کہ وہ “زبردست خود نگرانی” دیکھ رہے ہیں اور کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ انہیں خود نگرانی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ “اخلاقی طور پر پابند” ہوگا۔
معاہدے کے اہم نکات
- کمپنیوں نے “مضبوط اندرونی کنٹرولز” نافذ کرنے پر اتفاق کیا۔
- اندرونی اور بیرونی آڈیٹرز کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اندر کمیٹی قائم کی جائے گی۔
- کمپنیوں نے کنٹرولز کے کام کرنے کا اندازہ لگانے کے لیے “آزاد بیرونی آڈیٹر” کے ساتھ شراکت کا وعدہ کیا۔
- معاہدے میں مستقبل میں قوانین اور ضوابط کو شامل کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
AI میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
ٹرمپ اور ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ملک بھر کی کمیونٹیز میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سمیت AI انفراسٹرکچر بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والی ٹیکنالوجی فرموں کے معروف ایگزیکٹوز سے ملاقات کی۔
- اینتھروپک (Anthropic) کے سی ای او داریو اموڈی
- گوگل (Google) کے سی ای او سندر پچائی
- میٹا (Meta) کے سی ای او مارک زکربرگ
- اوپن اے آئی (OpenAI) کے صدر گریگ بروک مین
- این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او جینسن ہوانگ
- ایکس اے آئی (xAI) کے بانی ایلون مسک (جو اب اسپیس ایکس کا حصہ ہے)
AI کے ممکنہ خطرات اور خدشات
اینتھروپک کے سی ای او داریو اموڈی، جو AI کی ترقی کو سست کرنے کے حامی رہے ہیں، نے کہا کہ “ٹیکنالوجی کے بہت حقیقی خطرات ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ان خطرات سے نمٹنے کا طریقہ ابھی بھی زیر بحث ہے۔”
AI کے ممکنہ فوائد
ٹرمپ نے کاروباری ایگزیکٹوز کی تعریف کی جنہوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ” ناقابل یقین ترقی” پیدا کرے گی۔
- ڈیٹا سینٹرز اور متعلقہ کمپیوٹر آلات میں سرمایہ کاری نے معیشت کو تیز کیا ہے۔
- اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اعلیٰ آمدنی والے امریکیوں کے سرمایہ کاری اکاؤنڈٹس میں اضافہ ہوا ہے۔
- اسٹاک مارکیٹ میں اضافے سے ان کی خرچ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
AI کی خود نگرانی کا مستقبل
ٹرمپ نے تجویز دی کہ تقریباً 10 افراد کو “پورے منصوبے کی نگرانی” کے لیے ایک کمیٹی میں نامزد کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ صنعت کے ساتھ مشاورت کے بعد آنے والے دنوں میں اس معاہدے کی نگرانی کے لیے کسی کو نامزد کریں گے۔
نتیجہ
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے AI کمپنیوں کے ساتھ رضاکارانہ معاہدے پر زور دینا، مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں اندرونی اور بیرونی جائزے شامل ہیں، ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے اور عوام کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اقدام خود نگرانی پر مبنی ہے، لیکن اس میں مستقبل میں باقاعدہ قوانین کی تشکیل کا امکان بھی موجود ہے۔ AI میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری معیشت کے لیے فوائد فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حقیقی خطرات اور ان کے حل کے لیے جاری بحث کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ معاہدہ AI کے مستقبل کی تشکیل میں ایک اہم قدم ہے، جو جدت اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کمپنیوں کی طرف سے خود نگرانی کا عزم ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کے موثر نفاذ اور شفافیت پر ہوگا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
AI کی خود نگرانی کا معاہدہ کیا ہے؟
یہ ایک رضاکارانہ معاہدہ ہے جس پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں اور صدر ٹرمپ نے دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنیاں AI کی خود نگرانی کریں گی اور اندرونی و بیرونی جائزے کرائیں گی۔
اس معاہدے میں کون سی کمپنیاں شامل ہیں؟
اس معاہدے میں اینتھروپک، گوگل، میٹا، اوپن اے آئی، این ویڈیا، اور ایکس اے آئی جیسی بڑی ٹیکنالوجی فرمز کے رہنما شامل ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد کیا ہے؟
اس معاہدے کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کے بارے میں امریکی عوام کے خدشات کو دور کرنا اور اس کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
کیا یہ معاہدہ قانونی طور پر پابند ہے؟
معاہدے کو “اخلاقی طور پر پابند” قرار دیا گیا ہے، اور اس میں مستقبل میں ان اقدامات کو قوانین اور ضوابط میں شامل کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔


















