میڈرڈ: اسپین کے ہاؤسنگ بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج کی علامت بننے والی ماریہ ڈیل کارمین اباسکل، جنہیں پورا ملک ماریکارمین کے نام سے جانتا تھا، 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ 23 ستمبر کو میڈرڈ کے اسی اپارٹمنٹ سے بے دخل کی گئی تھیں جہاں وہ 1956 سے مقیم تھیں۔ ہسپتال میں زیر علاج رہتے ہوئے انہوں نے مظاہرین کی کھل کر حمایت کی تھی، اور انہیں بے دخل کرنے والی سرمایہ کاری فرم کے ساتھ واپسی کے معاہدے پر دستخط سے چند گھنٹے قبل ان کا انتقال ہو گیا۔
اہم نکات
- ماریہ ڈیل کارمین اباسکل (ماریکارمین)، 87 سال کی عمر میں 7 اکتوبر 2026 کو ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔
- وہ 1956 سے میڈرڈ کے ریٹیرو علاقے کے ایک اپارٹمنٹ میں مقیم تھیں — تقریباً ستر سال۔
- 23 ستمبر کو عدالتی حکم پر انہیں اسٹریچر پر گھر سے نکالا گیا؛ بے دخلی کے دوران پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔
- عمارت خریدنے والی سرمایہ کاری فرم ارباگیستھیون نے ان کا کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر 2,650 یورو کر دیا تھا۔
- 26 ستمبر کو میڈرڈ میں دسیوں ہزار افراد نے مارچ کیا؛ منتظمین کے دعوے کے مطابق تعداد تقریباً تین لاکھ تھی۔
- 28 ستمبر کو آٹھ سالہ نئے لیز کا معاہدہ طے پایا، مگر وہ واپس گھر جانے سے پہلے ہی چل بسیں۔
ستر سالہ گھر سے ماریکارمین کی بے دخلی
ماریکارمین کے والد نے یہ اپارٹمنٹ 1956 میں کرائے پر لیا تھا، اور والدین کے انتقال کے بعد وہ پرانے کرائے کے معاہدے کے تحت وہیں رہتی رہیں۔ ان کی 50 فیصد معذوری تسلیم شدہ تھی اور انہیں کرایہ نہ دینے پر بے دخل نہیں کیا گیا تھا — یہ ایک طویل قانونی جنگ تھی جس میں تین بار بے دخلی کی کوششیں ملتوی ہو چکی تھیں۔
2018 میں عمارت ارباگیستھیون نامی سرمایہ کاری فرم نے خریدی، جس نے ان کا ماہانہ کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر 2,650 یورو کر دیا اور بعد میں اسے کم کر کے 1,650 یورو کیا — جو ان کی معمولی پنشن پر بھی ان کے بس سے باہر تھا۔ 23 ستمبر کی صبح پولیس بھاری نفری کے ساتھ پہنچی، حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی، اور ماریکارمین کو اسٹریچر پر گریگوریو مارانیون ہسپتال منتقل کیا گیا۔
| تفصیل | ماہانہ کرایہ (یورو) |
|---|---|
| بے دخلی سے قبل اصل کرایہ | 500 |
| فرم کا بڑھایا ہوا کرایہ | 2,650 |
| بعد میں کم کیا گیا کرایہ | 1,650 |
| 28 ستمبر کے معاہدے کے تحت کرایہ | آمدنی کا 30 فیصد (تقریباً 500) |

ملک گیر احتجاج اور احتجاجی کیمپ
بے دخلی کے مناظر پورے اسپین میں خبروں کی زینت بنے۔ 26 ستمبر کو میڈرڈ کی کرایہ دار یونین کی کال پر دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے اور پویرتا ڈیل سول میں احتجاجی کیمپ قائم کر دیا گیا۔ مظاہرین نے ‘شرم’ اور ‘ہم سب ماریکارمین ہیں’ جیسے نعرے لگائے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شرکا کی تعداد دسیوں ہزار تھی جبکہ منتظمین نے تقریباً تین لاکھ کا دعویٰ کیا۔
احتجاج کی لہر صرف میڈرڈ تک محدود نہ رہی — سیویا، مالاگا، سانتیاگو ڈی کومپوستیلا اور پالما ڈی مایورکا سمیت کئی شہروں میں بھی کیمپ لگے۔ ماریکارمین اسپین کے ہاؤسنگ بحران میں پیچھے رہ جانے والے لاکھوں افراد کی علامت بن گئیں۔

ہسپتال سے ماریکارمین کا پیغام
شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کے باعث ہسپتال میں زیر علاج رہتے ہوئے ماریکارمین نے کرایہ دار یونین کے ذریعے ویڈیو پیغامات جاری کیے۔ ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنا گھر تو نہیں بچا سکیں، لیکن انہوں نے جدوجہد کی ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنا گھر بچانا سیکھیں۔ انہوں نے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور تحریک کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ ان کے نام پر تیار کردہ ‘ماریکارمین فرمان’ منظور کیا جائے تاکہ بے دخلیوں کے خلاف ٹھوس قانونی اقدامات ہوں اور ان جیسا واقعہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔
سیاسی ردعمل: ہنگامی فرمان اور ہڑتال کی کال
بے دخلی کے بعد حکومت نے 29 ستمبر کو دو ہنگامی شاہی فرمان منظور کیے، جنہیں پارلیمان نے 2 اکتوبر کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد 6 اکتوبر کو حکومت نے متبادل فرمان (28/2026 اور 29/2026) منظور کیے جو 7 اکتوبر کو شائع ہوئے۔
دوسری جانب مزدور یونینوں سی سی او او اور یو جی ٹی نے ہاؤسنگ بحران پر موسم خزاں میں 24 گھنٹے کی عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جبکہ کرایہ دار یونین نے ہاؤسنگ کے لیے عام ہڑتال کی تاریخ 11 نومبر تجویز کی ہے۔
واپسی کا معاہدہ اور انتقال
28 ستمبر کو ارباگیستھیون نے ماریکارمین کے نمائندوں کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت وہ آٹھ سالہ نئے لیز پر اپنے اپارٹمنٹ واپس جا سکتی تھیں اور کرایہ ان کی آمدنی کے 30 فیصد سے زیادہ نہ ہوتا — تقریباً وہی رقم جو وہ پہلے ادا کرتی تھیں۔ انہوں نے ہسپتال میں ہی یہ معاہدہ قبول کر لیا تھا۔
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا — نئے لیز پر دستخط سے چند گھنٹے قبل، 7 اکتوبر کو ان کا ہسپتال میں انتقال ہو گیا اور وہ اپنے ستر سالہ گھر کو آخری بار نہ دیکھ سکیں۔
نتیجہ
ماریہ ڈیل کارمین اباسکل کی موت صرف ایک فرد کا انتقال نہیں، بلکہ اسپین کے ہاؤسنگ بحران کی المناک حقیقت کا آئینہ ہے۔ ان کی بے دخلی نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے — بڑے مظاہرے، چوکوں میں کیمپ، نئے ہنگامی فرمان اور عام ہڑتال کی کال۔ اگرچہ ان کی موت نے لاکھوں افراد کو رنجیدہ کیا، لیکن ان کی جدوجہد نے ہاؤسنگ کے بنیادی حق کے لیے ایک نئی بیداری پیدا کی ہے۔ یہ خبر وطن نیوز اردو پر بھی شائع ہوئی ہے۔































