عدن: یمن کے جنوبی شہر عدن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹر معاشیق صدارتی محل پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے۔
یمن کی وزارت صحت کے مطابق یہ عدن صدارتی محل حملہ جمعرات کو ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں وزیر اعظم کے سیکیورٹی عملے کے ارکان اور محل میں کام کرنے والے شہری ملازمین شامل ہیں۔ وزیر اعظم شائع الزندانی اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
اہم نکات
- عدن صدارتی محل حملے میں حوثیوں نے میزائل اور ڈرون استعمال کیے؛ پانچ ہلاک، سولہ زخمی۔
- وزیر اعظم شائع الزندانی حملے کے وقت محل میں موجود تھے مگر محفوظ رہے۔
- حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے محل کے اندر سعودی فوجی آپریشنز ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
- سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق یکم اکتوبر سے اب تک ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے پر حوثیوں کے 20 حملے ہو چکے، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔
عدن صدارتی محل حملہ کیسے ہوا؟
یمنی حکومت کے مطابق حوثیوں نے معاشیق محل کمپلیکس پر میزائل اور ڈرون داغے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محل کے علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا میں دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کم از کم چھ دھماکے محل کے قریب ہوئے۔

ایک یمنی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے کے وقت وزیر اعظم شائع الزندانی محل میں موجود تھے مگر انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق حوثیوں نے محل پر پانچ میزائل داغے۔
حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے محل کے اندر سعودی فوجی آپریشنز کے ہیڈکوارٹر اور ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یمن کی وزارت اطلاعات نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاشیق محل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز ہے اور لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد محل پر یہ پہلا حملہ ہے۔
کشیدگی کا پس منظر
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ حوثیوں نے یکم اکتوبر سے اب تک ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک اور 330 سے زائد زخمی ہوئے۔
المالکی نے بتایا کہ 10 اکتوبر کو ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ ان میں سب سے مہلک تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے نہ صرف مملکت کے ہوائی اڈوں بلکہ مسافروں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اتحاد کے مطابق یمن کے پہاڑی علاقوں میں ہتھیاروں کے 127 ذخائر اور لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کیے جا چکے ہیں۔

حملوں کے بعد ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے پر پروازیں 17 اکتوبر تک معطل ہیں۔ ادھر حوثیوں کے ترجمان نے ایک بار پھر ایئرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈے غیر محفوظ ہیں، البتہ مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کی فضائی حدود اس انتباہ سے مستثنیٰ ہیں۔
جمعرات کو ہی سعودی قیادت والے اتحاد نے خمیس مشیط کے علاقے میں ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ سعودی سول ڈیفنس نے نجران اور جازان کے علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیشگی انتباہ جاری کیے، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ اراکین نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ یمن میں پائیدار امن تشدد یا طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اور تنازع کا مستقل حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مبصرین کے مطابق معاشیق محل پر حملہ کشیدگی میں نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے مرکز پر براہ راست حملہ ہے۔ مزید تازہ ترین خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیں۔































