پیرس کا سب سے بڑا بین الاقوامی آرٹ میلہ اس سال وقت سے پہلے بند ہو رہا ہے۔ آرٹ بازل پیرس نے اعلان کیا ہے کہ اس کا دو ہزار چھبیس کا ایڈیشن جمعے کی شام ختم ہو جائے گا اور ہفتے اور اتوار کے عوامی دن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ منتظمین نے یہ فیصلہ سلامتی کے خدشات کے باعث کیا ہے، کیونکہ ہفتے کو گرینڈ پیلس کے باہر مظاہروں کی کال دی گئی تھی۔ اس فیصلے نے پیرس کی ثقافتی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں یہ میلہ سال کے اہم ترین فنکارانہ اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔
اہم نکات
- آرٹ بازل پیرس جمعے کی شام سات بجے وقت سے پہلے بند ہو جائے گا۔
- چوبیس اور پچیس اکتوبر کے عوامی دن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
- فیصلہ سلامتی کے خدشات اور ہفتے کو مظاہروں کی کال کے بعد کیا گیا۔
- گرینڈ پیلس کے باہر رکاوٹیں لگائی گئیں اور داخلے پر شناختی جانچ کی گئی۔
- منسوخ دنوں کے ٹکٹ رکھنے والوں سے براہ راست رابطہ کیا جا رہا ہے۔
میلے میں کیا دیکھنے کو ملا
میلے کے آخری دنوں میں فن کے شائقین کو کئی نمایاں کام دیکھنے کو ملے۔ گیگوشین گیلری میں جیف کونز کے کانسی کی بوتلوں کے ڈھکنوں سے بنے بڑے مجسمے اور پیروٹن گیلری میں تکاشی موراکامی کے منگا سے متاثر مجسمے کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ دیکھا گیا۔ دونوں فنکار برسوں سے عالمی آرٹ مارکیٹ کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
لیکن میلہ صرف بڑے ناموں تک محدود نہیں تھا۔ کرسٹوف گیلارڈ کی گیلری میں مکمل سیاہ و سفید انداز میں لگائی گئی نمائش کو میلے کی سب سے خوبصورت پیشکشوں میں شمار کیا گیا، جس کے مرکز میں امریکی فنکار اسٹیون پارینو کا ایک بڑا، سلوٹوں والا کینوس تھا۔ اس کے قریب انیتا مولینیرو کا ایک چھوٹا جلا ہوا کوڑے دان بھی رکھا گیا تھا، جس کی معنویت حالیہ دنوں کے واقعات کے بعد مزید گہری ہو گئی تھی۔

پیرس میں فن کے دیگر مواقع
میلے کے جلد بند ہونے کے باوجود پیرس میں فن سے محبت کرنے والوں کے لیے کئی دیگر مواقع موجود ہیں۔ ثقافتی صحافیوں نے شہر بھر میں مفت اور ٹکٹ والی گیارہ آرٹ تقریبات کی فہرست مرتب کی ہے، جن میں گیلریوں کی نمائشیں اور عجائب گھروں کے پروگرام شامل ہیں۔ البتہ زائرین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جانے سے پہلے یہ ضرور جانچ لیں کہ متعلقہ تقریب ہفتے کو منعقد ہو رہی ہے یا نہیں، کیونکہ کچھ مقامات نے عارضی طور پر اپنے دروازے بند کر دیے ہیں یا اپنے پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔
اس ہفتے ثقافتی مقامات پر کشیدگی کے اثرات بھی دیکھے گئے۔ ایکول ڈو لوور میں طلبہ کی سرگرمیوں سے عجائب گھر تک رسائی متاثر ہوئی، کچھ گیلریوں نے عارضی طور پر دروازے بند کیے، اور ژو ڈی پوم نے اسٹین ڈگلس کی نمائش کی افتتاحی تقریب منسوخ کر دی۔ یہ صورت حال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فن کی دنیا بھی معاشرتی حالات سے الگ نہیں رہ سکتی۔
ٹکٹ رکھنے والوں کے لیے کیا ہوگا
منتظمین نے کہا ہے کہ منسوخ شدہ ویک اینڈ کے ٹکٹ رکھنے والوں سے براہ راست رابطہ کیا جا رہا ہے۔ البتہ ابھی یہ اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ نمائش کنندگان کو فیس میں کوئی رعایت یا معاوضہ دیا جائے گا یا نہیں۔ میلے کے آخری گھنٹوں کو محفوظ بنانے کے لیے گرینڈ پیلس کے باہر رکاوٹیں لگائی گئیں اور داخلے پر شناختی جانچ کا انتظام کیا گیا۔
نتیجہ
آرٹ بازل پیرس کا جلد بند ہونا اس سال کی ثقافتی کیلنڈر کی ایک افسوسناک خبر ہے، لیکن اس سے پیرس کی فنکارانہ زندگی ختم نہیں ہوتی۔ شہر کی گیلریاں، عجائب گھر اور آزاد نمائشیں اب بھی فن کے شائقین کو اپنی طرف بلا رہی ہیں — بس جانے سے پہلے تازہ معلومات جانچ لینا دانشمندی ہوگی۔






























