پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج (منگل، 20 اکتوبر 2026ء) ایران کے دورے پر تہران پہنچیں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
اہم نکات
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج ایران کے دورے پر تہران جائیں گے — رائٹرز کی رپورٹ ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے حوالے سے۔
- تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں متوقع؛ ایجنڈے میں دوطرفہ تعاون، اہم امور اور خطے کی صورتحال شامل۔
- دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
- اس سے قبل گرمیوں میں بھی فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے بات چیت میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کی دوبارہ کھولنے پر توجہ دی گئی تھی۔
عاصم منیر ایران دورہ کا پس منظر اور ایجنڈا
تہران کی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون، اہم امور اور خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت ہو گی۔ دورے کا وقت اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اتوار کو کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو سات دن میں دوبارہ کھولنے کی تہران کی تجویز بدستور موجود ہے، تاہم پیش رفت واشنگٹن کے جواب پر منحصر ہے۔ ایرانی مطالبات میں بندرگاہوں پر امریکی رکاوٹوں کا خاتمہ اور تیل کی برآمد پر پابندیوں میں نرمی شامل ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو ترجیحی موضوع بنانا چاہتا ہے۔

ثالثی میں پاکستان کا کردار
پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ گرمیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ہونے والی بات چیت میں کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام اور آبنائے ہرمز کی دوبارہ کھولنے پر توجہ مرکوز تھی۔
ایک روز قبل وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے قطر کے شہر دوحہ میں عالمی سیکیورٹی فورم سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل کوششیں درکار ہیں اور پائیدار امن کسی ایک ملاقات میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر اس دورے کو سفارتی حلقوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیے۔






























