LIVE
اہم خبر
ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہےفورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدفکاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقعآرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخدنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہزیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقغیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہاینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گےغریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشافگھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوششدفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریعلی ظفر کی پاکستانی کرائم سیریز میں واپسی: ہمایما ملک، فیروز خان اور سونیا حسین بھی کاسٹ میں شاملمہاراشٹر ہائبرڈ قابل تجدید منصوبے کے لیے 750 کروڑ روپے کی مالی معاونت2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کو ریلیف کی امیداقوام متحدہ نے ماؤں اور بچوں کے تحفظ کے لیے گرمی سے صحت کے خطرات کے پہلے اشارے جاری کر دیےگوادر میں سیکیورٹی آپریشن کے بعد امن بحال، 10 دہشت گرد مارے گئےایسپن یوتھ ایمبیسیڈر گرانٹ: نوجوانوں کے موسمیاتی منصوبوں کے لیے 1500 ڈالر تک کی معاونتفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزمایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہےفورڈ کا 2028 تک عالمی فیکٹریوں سے لینڈفل کو صفر فضلہ بھیجنے کا ہدفکاپ31 انطالیہ مقام تیار: سابقہ ایکسپو گراؤنڈز میں 85 عالمی رہنماؤں کی آمد متوقعآرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخدنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہزیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقغیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہاینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گےغریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشافگھانا کا کم کاربن ہاؤسنگ منصوبہ: 18 لاکھ 30 ہزار گھروں کی کمی پوری کرنے کی کوششدفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریعلی ظفر کی پاکستانی کرائم سیریز میں واپسی: ہمایما ملک، فیروز خان اور سونیا حسین بھی کاسٹ میں شاملمہاراشٹر ہائبرڈ قابل تجدید منصوبے کے لیے 750 کروڑ روپے کی مالی معاونت2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کو ریلیف کی امیداقوام متحدہ نے ماؤں اور بچوں کے تحفظ کے لیے گرمی سے صحت کے خطرات کے پہلے اشارے جاری کر دیےگوادر میں سیکیورٹی آپریشن کے بعد امن بحال، 10 دہشت گرد مارے گئےایسپن یوتھ ایمبیسیڈر گرانٹ: نوجوانوں کے موسمیاتی منصوبوں کے لیے 1500 ڈالر تک کی معاونتفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
پاکستان

غریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشاف

News Desk 6شائع شدہ 23 اکتوبر، 2026
غریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشاف
Share this story

غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ملک کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ وہ رقم وصول کرتے رہے جو دراصل نادار گھرانوں کا حق تھی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت غریبوں تک امداد کی شفاف ترسیل کے دعوے کر رہی ہے، اور اب اس معاملے نے سرکاری نگرانی کے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اہم نکات

  • بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مجموعی طور پر 24 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
  • ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے مستحقین کی رقم وصول کی۔
  • مالی سال 2019-20 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے 23 ارب 13 کروڑ روپے حاصل کیے۔
  • اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں اب تک صرف 71 کروڑ روپے کی واپسی ہو سکی ہے۔
  • مزید چھان بین کے لیے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بینک میں رقم کی گنتی کرتے عملے کے ہاتھ اور کرنسی نوٹ
بینک میں رقم کی گنتی کرتے عملے کے ہاتھ اور کرنسی نوٹ

بی آئی ایس پی بے ضابطگیاں: قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات میں کیا سامنے آیا

وزارت تخفیف غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 23 ارب 13 کروڑ روپے وصول کیے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 2019 میں ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو جانے کے باوجود چھ برس تک ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا، اور نشاندہی کے بعد بھی مزید 90 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔

دستاویزات میں سال بہ سال اعداد بھی درج ہیں۔ مالی سال 2020-21 میں بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 14 کروڑ 67 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد مالی سال 2021-22 میں دو ہزار چار سو سینتالیس، مالی سال 2022-23 میں دو ہزار دو سو پینتیس، مالی سال 2023-24 میں دو سو ستائیس اور مالی سال 2024-25 میں بارہ ہزار اٹھہتر سرکاری ملازمین کے پروگرام سے رقم لینے کا انکشاف ہوا۔ دستاویزات کے مطابق اس معاملے میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کے شریک حیات بھی ملوث رہے، اور رقم لینے والوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اپنے دو سو چھتیس ملازمین بھی شامل ہیں۔

ریکوری اور کارروائی: واپس آنے والی رقم نہ ہونے کے برابر

کارروائی کے دوران آٹھ ڈیوائس ہولڈرز کو گرفتار کر کے بایو میٹرک آلات، اہم ریکارڈ اور تیرہ لاکھ چھیاسی ہزار روپے سے زائد کی رقم برآمد کی گئی۔ ملوث سرکاری ملازمین سے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چون کروڑ روپے وصول کیے، جب کہ دیگر سرکاری محکموں نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپے کی واپسی کی۔ پروگرام نے اپنے ملازمین سے دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے وصول کیے۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً ستر کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے، یعنی لگ بھگ اکہتر کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی، جو چوبیس ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

پروگرام کی انتظامیہ نے بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا ہے، جب کہ مزید چھان بین کے لیے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق معاملے میں ریکوری اور تحقیقات کا عمل جاری ہے، تاہم واپس آنے والی رقم اور بے ضابطگیوں کے حجم کے درمیان بڑے فرق نے سرکاری نگرانی اور احتساب کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مستحقین کی فہرستوں کی سخت جانچ اور رقم کی واپسی کا مؤثر نظام نہیں بنے گا، غریبوں کا حق اسی طرح ضائع ہوتا رہے گا۔

مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

دفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریپاکستان

دفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاری

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان ایران سرحد کی بندش سے متعلق کوئی زمینی معلومات نہیں ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان زائرین کی آمد و رفت جاری ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہے
نمایاں خبر

ایتھوپیا کی گرین لیگیسی: 47 ارب پودے، اصل امتحان ان کی بقا ہے

2019 سے 47 ارب سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں اور 50 ارب کا ہدف قریب ہے، لیکن تربیت اور پانی ہی فیصلہ کریں گے کہ گرین لیگیسی دیرپا جنگل بنے گی یا نہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔