یرےوان میں فطرت کے نقصان کو روکنے کے عالمی منصوبے کے پہلے جائزے میں سب سے مشکل سوال سامنے آ گیا ہے: اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اقوام متحدہ کی حیاتیاتی تنوع کانفرنس، کاپ17، اپنے فیصلہ کن ہفتے میں داخل ہو رہی ہے اور حکومتیں کاپ17 حیاتیاتی تنوع مالیات پر منقسم ہیں — کیا تحفظ کے لیے رقم دینے والے ممالک کا دائرہ بڑھنا چاہیے، اور اس نمایاں فنڈ کا کیا کیا جائے جسے اب تک صرف چند ہزار ڈالر ملے ہیں؟
یہ کانفرنس آرمینیا کے دارالحکومت یرےوان میں 19 سے 30 اکتوبر 2026 تک “فطرت کے لیے عمل” کے موضوع کے تحت جاری ہے اور اس میں کنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر پیش رفت کا پہلا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ فریم ورک دسمبر 2022 میں اپنایا گیا تھا اور اس میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اسے واپس موڑنے کے 23 اہداف مقرر ہیں۔ مذاکرات سے پہلے شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی تشخیص میں بتایا گیا کہ تقریباً 90 فیصد ممالک نے قومی حیاتیاتی تنوع اہداف مقرر کر لیے ہیں، لیکن جن اہداف کا جائزہ لیا گیا ان میں سے نصف سے کم درست راستے پر ہیں۔
مالیات مرکزی اختلاف بن کر ابھری ہے، اور وزرا 27 اور 28 اکتوبر کو اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بحث کو براہ راست اٹھائیں گے، جس کے بعد 30 اکتوبر کو مذاکرات ختم ہوں گے۔
کاپ17 حیاتیاتی تنوع مالیات: کون ادا کرے گا؟
1992 میں اپنائے گئے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے تحت ترقی یافتہ ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں تحفظ کے اقدامات کی مالی مدد کریں۔ فرانس کی ماحولیاتی منتقلی کی وزیر مونیک باربو کے دفتر کے مطابق، رقم دینے والے ممالک کی فہرست 2006 سے تبدیل نہیں ہوئی ہے، حالانکہ اس کے بعد عالمی معیشت بہت بدل چکی ہے۔
اس لیے یورپی یونین اور فرانس چاہتے ہیں کہ رقم دینے والوں کا دائرہ بڑھا کر اس میں بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں، خاص طور پر چین اور بھارت، اور خلیجی ممالک شامل کیے جائیں۔ خبر رساں ادارے آژانس یورپ نے 21 اکتوبر کو فرانس کے موقف کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ فرانس اس تجویز کو انصاف کا معاملہ اور وسائل بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اس تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
اخبار لی مونڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور قطر نے گزشتہ موسم گرما میں اس سے متعلقہ مذاکرات روک دیے تھے۔ یہ بات بین الاقوامی حیاتیاتی تنوع حکمرانی کی محقق جولیٹ لینڈری نے کہی۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ چین ترقی پذیر ممالک میں عملی طور پر پہلے ہی رقم دے رہا ہے، لیکن وہ باضابطہ ذمہ داری نہیں لینا چاہتا۔
مذاکراتی کمروں میں یہ اختلاف صاف الفاظ میں سامنے آیا۔ افریقی گروپ کی طرف سے بات کرتے ہوئے سینیگال نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور بتائیں کہ ضروری وسائل کیسے جمع کیے جائیں گے۔ یورپی یونین کی طرف سے بات کرتے ہوئے آئرلینڈ نے مالی ذرائع بڑھانے اور رقم دینے والوں کا دائرہ وسیع کرنے کی حمایت کی۔ عرب لیگ کی طرف سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب نے کنونشن کے آرٹیکل 20 سے آگے مالی انتظامات بڑھانے کے خلاف خبردار کیا۔ ہم خیال حیاتیاتی تنوع والے ممالک کی طرف سے بات کرتے ہوئے جنوبی افریقہ نے موجودہ مالی ذمہ داریوں پر زور دیا۔
خلیج کے پیچھے اعداد و شمار
فریم ورک میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے لیے تمام ذرائع سے سالانہ کم از کم 200 ارب ڈالر کی ضرورت بتائی گئی ہے، جن میں ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ کم از کم 30 ارب ڈالر بین الاقوامی حیاتیاتی تنوع مالیات شامل ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے اندازوں کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران عالمی حیاتیاتی تنوع مالیات سالانہ 74.9 ارب سے 92.4 ارب ڈالر کے درمیان رہی — جو 2030 کے ہدف سے بہت کم ہے، اگرچہ اعداد و شمار کی کوریج میں فرق کی وجہ سے ان اعداد سے درست کمی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
پالسن انسٹی ٹیوٹ، دی نیچر کنزروینسی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی مشترکہ رپورٹ “فنانسنگ نیچر: اے مڈ ڈیکیڈ اپ ڈیٹ” 23 ستمبر کو جاری ہوئی، جس میں سالانہ حیاتیاتی تنوع مالی خلیج کا اندازہ 1.317 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے، جو 2020 میں 711 ارب ڈالر تھا۔ رپورٹ میں خود کہا گیا ہے کہ طریقہ کار اور افراط زر میں تبدیلی کی وجہ سے یہ اعداد براہ راست موازنہ کے قابل نہیں ہیں۔
حکومتوں نے ماحول کے لیے نقصان دہ مراعات میں 2030 تک سالانہ 500 ارب ڈالر کمی کا بھی وعدہ کیا ہے، لیکن یرےوان سے خبر رساں ادارے فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے حکومتوں کو “غلط چیزوں پر پیسہ خرچ کرنے” پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا: “فوسل ایندھن پر سبسڈی دینا خودکشی پر سبسڈی دینا ہے۔”
کالی فنڈ: بڑی امید، چھوٹی رقم
مالیات کے مسئلے کی سب سے واضح مثال کالی فنڈ ہے، جو 2024 میں کولمبیا کے شہر کالی میں ہونے والی کاپ16 کے بعد قائم ہونے والا فائدہ بانٹنے کا نظام ہے۔ یہ ان کمپنیوں سے رقم جمع کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو فطرت سے حاصل کردہ ڈیجیٹل ترتیباتی معلومات سے تجارتی فائدہ اٹھاتی ہیں، اور اس رقم کا ایک حصہ تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کی نگہبانی کرنے والی برادریوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اخبار لی مونڈ کے مطابق بڑی کمپنیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سالانہ منافع کا 1 فیصد یا سالانہ آمدنی کا 0.1 فیصد دیں۔ چونکہ یہ نظام رضاکارانہ شراکت پر منحصر ہے، اس لیے جمع ہونے والی رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔ کانفرنس کی کوریج میں دی گارڈین کے حوالے سے بتایا گیا کہ 19 اکتوبر تک فنڈ کو صرف 10,656 ڈالر کے وعدے ملے تھے، جن میں سے 7,085 ڈالر جمع ہوئے تھے — جو سالانہ 1 ارب ڈالر جمع کرنے کی امید سے بہت کم ہے۔ لی مونڈ نے الگ سے بتایا کہ صرف دو کمپنیوں نے 6,000 ڈالر ادا کیے تھے۔
فنڈ کو روکنے والے تین اختلافات
مذاکرات میں تین بڑے اختلافات سامنے آئے ہیں: کون رقم دے گا، وسائل کیسے تقسیم ہوں گے، اور اس نظام کو کون چلائے گا۔ افریقی گروپ کی طرف سے بات کرتے ہوئے مصر نے خبردار کیا کہ صرف کمپنیوں کی صوابدیدی شراکت پر انحصار نہ کیا جائے۔ یورپی یونین اور روس نے زیادہ قانونی وضاحت چاہی، جس میں شراکت اور سرٹیفکیشن کے واضح انتظامات شامل ہیں۔ بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک کی طرف سے بات کرتے ہوئے فجی نے اقوام متحدہ کے پیمانے کو ترجیح دی، جس میں کمزور ممالک کے حالات کو مدنظر رکھا جائے۔ برازیل نے مصنوعات پر مبنی شراکت کے ساتھ عبوری تقسیم کے فارمولے کی حمایت کی، جبکہ کولمبیا نے کاپ17 میں عارضی منظوری اور کاپ18 میں مزید بہتری کی تجویز دی۔
یرےوان میں آگے کیا ہوگا؟
27 اور 28 اکتوبر کا وزرا کا اعلیٰ سطحی اجلاس مذاکرات کے آخری دنوں کو سیاسی رفتار دینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مطابق یورپی کمشنر جیسکا روزوال اس اجلاس میں یورپی یونین کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گی اور “فرینڈز آف کریڈٹس فار نیچر اینڈ بائیو ڈائیورسٹی” کے نام سے ایک نیا اقدام شروع کریں گی، جس میں دیکھا جائے گا کہ حیاتیاتی تنوع کریڈٹس نجی سرمایہ کاری کو کیسے راغب کر سکتے ہیں۔
مذاکرات کار ایک مجوزہ یرےوان لائحہ عمل پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد پہلے عالمی جائزے کو تیز تر عمل کے ٹھوس اقدامات میں بدلنا ہے۔ یہ لائحہ عمل ابھی زیر بحث ہے اور 16 اکتوبر کو فطرت کے لیے قائدین کے اجلاس میں اپنائے گئے یرےوان اعلامیے سے الگ ہے۔
مذاکراتی کمروں سے باہر، افریقی ترقیاتی بینک کا وفد، جس کی قیادت ماحولیات اور سبز ترقی کے ڈائریکٹر انتھونی نیونگ کر رہے ہیں، مالیات کے دن کی بحثوں اور وزرا کے اجلاسوں میں شریک ہے اور افریقی ممالک کو ان کی قومی حیاتیاتی تنوع حکمت عملیوں پر عمل کے لیے زیادہ مالی اور تکنیکی مدد کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس ہفتے گرین زون میں ہونے والے ایک سائیڈ ایونٹ میں خواتین، نوجوانوں اور آبائی قیادت نے بھی حیاتیاتی تنوع مالیات تک براہ راست رسائی اور فطرت کی حفاظت کرنے والی برادریوں کے لیے زیادہ فیصلہ سازی کے اختیار کا مطالبہ کیا۔
جیسا کہ وطن نیوز نے کانفرنس کے افتتاح پر خبر دی تھی، یرےوان کے مذاکرات اس بات کا پہلا امتحان ہیں کہ کیا 2030 کے فطرت کے وعدوں کو مالی مدد یافتہ عمل میں بدلا جا سکتا ہے: کاپ17 کا یرےوان میں افتتاح، وعدوں کو عمل میں بدلنے کی اپیل۔
اہم نکات
- کاپ17، حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کی کانفرنس آف پارٹیز کا 17 واں اجلاس، 19 سے 30 اکتوبر 2026 تک یرےوان، آرمینیا میں جاری ہے۔
- کنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک، جو دسمبر 2022 میں اپنایا گیا، میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور واپس موڑنے کے 23 اہداف مقرر ہیں۔
- فریم ورک میں 2030 تک تمام ذرائع سے سالانہ کم از کم 200 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، جن میں سالانہ کم از کم 30 ارب ڈالر بین الاقوامی مالیات شامل ہے۔
- فرانس اور یورپی یونین چاہتے ہیں کہ 2006 سے تبدیل نہ ہونے والی رقم دینے والوں کی فہرست میں چین، بھارت اور خلیجی ممالک شامل کیے جائیں؛ اس تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
- کالی فنڈ، جس کا مقصد سالانہ 1 ارب ڈالر تک جمع کرنا تھا، کو 19 اکتوبر تک دی گارڈین کے مطابق صرف تقریباً دس ہزار ڈالر کے وعدے ملے تھے۔
- وزرا 27 اور 28 اکتوبر کو اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملیں گے؛ مذاکرات 30 اکتوبر کو ختم ہوں گے۔
نتیجہ
یرےوان کے مذاکرات نے ایک بات واضح کر دی ہے: دنیا کے پاس فطرت کے اہداف کی کمی نہیں ہے، بلکہ اس بات پر اتفاق کی کمی ہے کہ ان کی مالی مدد کون کرے گا۔ کیا وزرا کا ہفتہ رقم دینے والوں کے اختلاف کو ختم کر کے کالی فنڈ کو حقیقی رقم دے سکے گا — یہی طے کرے گا کہ کاپ17 کو ایک ایسے جائزے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں صرف خامیاں گنوائی گئیں، یا ایک ایسی کانفرنس کے طور پر جس نے آخرکار عمل کی قیمت ادا کی۔



























