کاپ31 کے نامزد صدر مراد کوروم نے امیر ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاپ31 موسمیاتی اخراجات دفاع سے “بہت زیادہ” کریں، اور خبردار کیا ہے کہ جی ڈی پی کا پانچ فیصد دفاع پر لگانے والی حکومتیں ایک اور بھی بڑے حفاظتی خطرے — موسمیاتی بحران کو کم سرمایہ دے رہی ہیں۔
کوروم نے یہ بات پانچ سے آٹھ اکتوبر کو فجی کے شہر نادی میں کاپ سے قبل کی تیاری کانفرنس میں کہی، جہاں انطالیہ کے کاپ31 کی تیاری کے لیے تیرہ قومی رہنماؤں اور تقریباً تیس وزراء سمیت تقریباً چار ہزار شرکاء جمع ہوئے۔ آسٹریلیا نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا، جو مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے؛ ترکی صدارت اور عملی ایجنڈے کی ذمہ داری رکھتا ہے۔
نیٹو ممالک نے دو ہزار چھتیس میں وعدہ کیا تھا کہ وہ دو ہزار پینتیس تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھائیں گے۔ کوروم کا کہنا تھا کہ یہی ممالک موسمیاتی بحران کے لیے کہیں کم رقم کا وعدہ کرتے ہیں۔ پوچھے جانے پر کہ کیا موسمیات پر اتنا ہی خرچ ہونا چاہیے جتنا دفاع پر، انہوں نے ترجمان کے ذریعے جواب دیا: “بہت زیادہ۔”
بچاؤ بحالی سے سستا ہے
گارڈین سے کوروم نے کہا: “موسمیاتی مسئلہ خود حفاظتی مسئلہ ہے۔ اگر آپ آفتوں سے پہلے ایک یونٹ رقم خرچ نہیں کرتے تو آپ کو آفت کے بعد دس یونٹ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ آفت سے پہلے خرچ کرنا سستا ہے۔”
آٹھ اکتوبر کو نادی میں رائٹرز سے انہوں نے کہا: “پانچ فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا کیا مطلب ہے اگر آپ کے پاس رہنے کے لیے کوئی ملک ہی نہ ہو؟” بحر الکاہل کے بارے میں: “ڈیڑھ ارب ڈالر ڈیڑھ ڈگری کے لیے بحر الکاہل کو بچا لیں گے۔ یہ اتنا ہی آسان ہے۔” — یہ وفود کے ٹووالو کے دورے کی جانب اشارہ تھا، وہ نچلی جزیرہ ریاست جسے سمندر کی بڑھتی سطح سے وجودی خطرہ لاحق ہے۔
کاپ31 موسمیاتی اخراجات: پانچ فیصد تجویز
یہ موازنہ ستمبر دو ہزار چھبیس میں استنبول میں کوروم کی تجویز کی بنیاد پر ہے: ممالک جی ڈی پی کا کم از کم پانچ فیصد موسمیاتی حفاظت پر لگائیں، جو سات سے دس فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
بحر الکاہل کی حقیقت سنگین ہے: آسٹریلیا کے موسمیاتی وزیر کرس بوئن نے کہا کہ عالمی موسمیاتی مالیات کا صرف صفر اعشاریہ دو فیصد چھوٹی جزیرہ ریاستوں تک پہنچتا ہے۔ بحر الکاہل کے رہنماؤں نے قابل رسائی مالیات، سمندری صحت اور ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ کے پختہ عزم کا مطالبہ کیا — حالانکہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ پرامید منظرناموں میں بھی کم از کم ایک اعشاریہ آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ گرمی کی پیش گوئی کرتی ہے۔
انطالیہ کا راستہ
کوروم اور بوئن نے فوسل ایندھن سے عالمی “منتقلی” کی حمایت میں کئی ممالک کے مشترکہ بیان کی حمایت کی — کاپ اٹھائیس کی زبان — اور دو ہزار پینتیس تک پینتیس فیصد بجلی کے ہدف پر زور دیا، جو اب تقریباً اکیس فیصد ہے۔ کوروم نے خبردار کیا کہ انطالیہ میں مزید واضح خاتمے کی زبان شاید شامل نہ ہو سکے۔
فجی آخری بڑی تیاری کانفرنس تھی، اس سے پہلے کہ نو نومبر کو انطالیہ میں کاپ31 کا آغاز ہو؛ عالمی رہنماؤں کا سربراہی اجلاس گیارہ اور بارہ نومبر کو ہوگا اور تقریباً ایک لاکھ شرکاء متوقع ہیں۔ انطالیہ کے راستے پر وطن نیوز انٹرنیشنل کی موسمیاتی کوریج مزید پڑھیں۔
اہم نکات
- کوروم نے فجی تیاری کانفرنس (پانچ سے آٹھ اکتوبر، نادی) میں امیر ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دفاع سے “بہت زیادہ” موسمیات پر خرچ کریں۔
- نیٹو ممالک نے دو ہزار چھتیس میں وعدہ کیا کہ دو ہزار پینتیس تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھائیں گے؛ کوروم نے پانچ فیصد موسمیاتی حفاظت کے لیے تجویز کیا، جو سات سے دس فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
- “موسمیاتی مسئلہ خود حفاظتی مسئلہ ہے”؛ “ڈیڑھ ارب ڈالر ڈیڑھ ڈگری کے لیے بحر الکاہل کو بچا لیں گے۔”
- کرس بوئن کے مطابق عالمی موسمیاتی مالیات کا صرف صفر اعشاریہ دو فیصد چھوٹی جزیرہ ریاستوں تک پہنچتا ہے۔
- کاپ31 نو نومبر کو انطالیہ، ترکی میں؛ عالمی رہنماؤں کا سربراہی اجلاس گیارہ اور بارہ نومبر کو؛ تقریباً ایک لاکھ شرکاء متوقع۔



























