بھارت کے مشرقی ساحل پر سمندری طوفان ارنب کے ٹکرانے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والا یہ طوفان بہت شدید سمندری طوفان کی شدت اختیار کر چکا ہے اور بدھ کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ حکام نے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- طوفان ارنب خلیج بنگال میں بہت شدید سمندری طوفان کی شدت اختیار کر چکا ہے۔
- بدھ 28 اکتوبر کی صبح آندھرا پردیش اور ینم کے ساحلوں سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
- ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی جبکہ جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
- 53 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور آندھرا پردیش میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد خطرے سے دوچار علاقوں میں موجود ہیں۔
- 4 ہزار 711 حاملہ خواتین کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور 1 ہزار 763 پناہ گاہیں تیار ہیں۔
- اڑیسہ کے 6 جنوبی اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور سری لنکا میں بھی الرٹ جاری ہے۔
طوفان کی شدت اور ممکنہ لینڈ فال
بھارتی محکمہ موسمیات کے تازہ بلیٹن کے مطابق طوفان ارنب منگل کی صبح خلیج بنگال کے مغربی وسطی حصے میں موجود تھا اور مغرب و شمال مغرب کی سمت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ محکمے کا کہنا ہے کہ یہ طوفان بدھ کی صبح باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان آندھرا پردیش اور ینم کے ساحلوں کو عبور کرے گا۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی جبکہ جھکڑوں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث ساحلی علاقوں میں شدید بارش ہو گی، کچے مکانات کو مکمل نقصان پہنچ سکتا ہے، بجلی اور مواصلات کے کھمبے اکھڑ سکتے ہیں اور کھڑی فصلوں کو وسیع نقصان کا خدشہ ہے۔ کاکیناڈا اور ینم کے قریب نشیبی علاقوں میں سمندر کی سطح سے 1 سے ڈیڑھ میٹر بلند لہریں اٹھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حفاظتی اقدامات اور بڑے پیمانے پر منتقلی
آندھرا پردیش کی حکومت نے طوفان سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ریاست میں 1 ہزار 763 پناہ گاہیں تیار کی گئی ہیں، ضلعی اور مقامی سطح پر 2 ہزار 907 کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے 3 ہزار 185 افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ قومی اور ریاستی آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں 11 خطرناک اضلاع میں پہلے سے موجود ہیں۔
خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔ حکام کے مطابق 2 ہزار 107 دیہی اور شہری یونٹوں میں انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ 4 ہزار 711 حاملہ خواتین کو حفاظتی طور پر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ 30 ہزار 43 ماہی گیر کشتیوں کو بندرگاہوں پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ریلوے نے احتیاطی طور پر 53 ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں اور ساحلی سڑکوں پر آمد و رفت منگل کی دوپہر سے روک دی گئی ہے۔
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ طوفان کی مسلسل نگرانی کی جائے اور پیشگی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔ فضائی کمپنیوں نے بھی مسافروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے اور وشاکھاپٹنم و وجے واڑہ سے پروازیں متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

طوفان سے قبل ساحلی شہر میں حفاظتی تیاریاں، علامتی تصویر
پڑوسی ریاستوں اور سری لنکا پر اثرات
اڑیسہ میں بھی طوفان کے پیش نظر تیاریاں جاری ہیں۔ ریاست کے 6 جنوبی اضلاع گنجام، گجاپتی، رائے گڑھ، ملکانگیری، کوراپٹ اور نبرنگ پور میں 28 اور 29 اکتوبر کو اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ان علاقوں میں 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی ہوائیں چل سکتی ہیں۔ تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور پڈوچیری میں بھی الرٹ جاری ہے جبکہ مشرقی اتر پردیش، بہار اور جنوبی بنگال میں شدید بارش کا امکان ہے۔
پڑوسی ملک سری لنکا میں بھی طوفان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ وہاں محکمہ موسمیات نے موسلا دھار بارش کے باعث اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کی وارننگ جاری کی ہے، اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور فوج کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ کولمبو میں منگل کو بارش کے باعث ساحلی علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی۔
حکام نے ساحلی علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ طوفان کے گزرنے کے بعد نقصان کا جائزہ لے کر بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔
مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا صفحہ ملاحظہ کریں۔































