مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی کمپنیوں ڈیپ سیک اور مون شاٹ اے آئی نے اپنے تازہ ترین ماڈلوں کی تربیت کے لیے اوپن اے آئی کے طاقتور ماڈل جی پی ٹی 6 ایسٹرا کے نتائج پر بھاری انحصار کیا۔ یہ خبر دی انفارمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آئی ہے، جس میں براہ راست علم رکھنے والے افراد کا حوالہ دیا گیا ہے۔

کون سے ماڈل متاثر ہوئے
رپورٹ کے مطابق مون شاٹ اے آئی کا کیمی کے 3.1 پرو ماڈل، جو گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا، اور ڈیپ سیک کا بہتر شدہ وی 4.1 فلیش 1017 ماڈل، جو سترہ اکتوبر کو جاری ہوا، دونوں نے ایسٹرا سے حاصل شدہ نتائج سے فائدہ اٹھایا۔ اس عمل کو ڈسٹلیشن کہا جاتا ہے، جس میں ایک ماڈل کو دوسرے ماڈل کے نتائج پر تربیت دی جاتی ہے۔
اوپن اے آئی، ڈیپ سیک اور مون شاٹ اے آئی نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم اوپن اے آئی نے تیس ستمبر کی ایک بلاگ تحریر میں کہا تھا کہ اس نے جولائی سے شروع ہونے والی ایک ڈسٹلیشن مہم کے ایک اہم حصے کو مون شاٹ اے آئی سے منسلک افراد سے جوڑا ہے۔
ڈسٹلیشن کیوں تنازعہ بن گئی
بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹلیشن سے حریف کمپنیاں جدید صلاحیتیں زیادہ تیزی سے اور کم لاگت میں حاصل کر لیتی ہیں۔ اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک سبھی اس عمل پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں اینتھروپک نے کہا تھا کہ اس کے نئے حفاظتی اقدامات نے اس کے کلاڈ ماڈلوں کے خلاف ڈسٹلیشن حملوں میں حاصل کیے جانے والے ڈیٹا کو تقریباً نوے سے ننانوے فیصد تک کم کر دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت اور بھی حساس ہو گیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی مسابقت شدت اختیار کر رہی ہے۔ جدید چپس کی برآمد پر پابندیوں کے درمیان، ماڈلوں کے نتائج تک رسائی ایک نئی محاذ بن گئی ہے، جہاں کمپنیاں اپنے ماڈلوں کو نقل سے بچانے کے لیے نئے دفاعی طریقے آزما رہی ہیں۔
اہم نکات
- دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک اور مون شاٹ اے آئی نے اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 6 ایسٹرا کے نتائج سے اپنے تازہ ماڈلوں کی تربیت کی۔
- متاثرہ ماڈل مون شاٹ کا کیمی کے 3.1 پرو اور ڈیپ سیک کا وی 4.1 فلیش 1017 ہیں۔
- اوپن اے آئی نے تیس ستمبر کو کہا تھا کہ اس نے جولائی سے شروع ہونے والی ایک ڈسٹلیشن مہم کو مون شاٹ سے منسلک افراد سے جوڑا ہے۔
- اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس کے نئے اقدامات نے ڈسٹلیشن حملوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو نوے سے ننانوے فیصد تک کم کر دیا ہے۔
- تینوں کمپنیوں نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔
نتیجہ
یہ رپورٹ مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ایک بنیادی سوال کو سامنے لاتی ہے: ایک ماڈل کے نتائج کس حد تک دوسرے ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب مستقبل میں اس صنعت کے قواعد، مسابقت اور تعاون کی شکل طے کرے گا۔






























