امریکہ کی وفاقی حکومت نے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈل ڈیپ سیک پر باضابطہ پابندی لگا دی ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے جاری کردہ حکم کے تحت تمام شہری وفاقی اداروں کو اپنے معلوماتی نظاموں سے ڈیپ سیک کی مصنوعات اور اس کی ٹیکنالوجی پر بنی تیسری فریق کی خدمات فوری طور پر ہٹانی ہوں گی اور ان کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔ چین نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اہم نکات
- محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے پیر 19 اکتوبر کو 102 شہری وفاقی اداروں کے لیے ڈیپ سیک ہٹانے کا حکم جاری کیا۔
- پابندی ڈیپ سیک کی اپنی مصنوعات کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیکنالوجی پر بنی تیسری فریق کی خدمات پر بھی لاگو ہے۔
- ادارے 60 دن کے اندر استثنا کی تحریری درخواست سائبر سیکیورٹی ایجنسی سے کر سکتے ہیں۔
- امریکہ کا موقف ہے کہ ڈیپ سیک کے سرور چین میں ہیں اور حساس ڈیٹا کی منتقلی کا خطرہ ہے۔
- چین کی وزارت تجارت نے 20 اکتوبر کو اس اقدام کو امتیازی اور غلط قرار دیا اور جوابی اقدامات کا اشارہ دیا۔
ڈیپ سیک پر پابندی کی تفصیلات
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا حکم، جو فیڈرل رجسٹر میں شائع ہوا، خزانہ، انصاف، خارجہ امور اور زراعت سمیت 102 وفاقی شہری ایگزیکٹو برانچ اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ حکم کے مطابق ادارے ڈیپ سیک کے سافٹ ویئر اور اس سے منسلک اوزار فوری طور پر اپنے معلوماتی بنیادی ڈھانچے سے ہٹائیں اور اس کی مصنوعات و خدمات کی خریداری بند کریں۔ پابندی صرف ڈیپ سیک کی اپنی ایپس تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اے پی آئی اور کوڈنگ اوزاروں سمیت ڈیپ سیک ٹیکنالوجی پر بنی بیرونی مصنوعات اور خدمات بھی اس کی زد میں ہیں۔
اس پابندی کو نافذ کرنے کے لیے محکمہ نے فیڈرل ایکوزیشن سپلائی چین سیکیورٹی ایکٹ 2018 کا حوالہ دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بنیادی حکم جولائی کے آخر کا ہے، لیکن اس کا عوامی اعلان 19 اکتوبر کو کیا گیا۔ دسمبر 2025 میں منظور ہونے والے ایک قانون نے پہلے ہی ڈیپ سیک کو انٹیلیجنس اور قومی سلامتی کے نظاموں میں محدود کر دیا تھا، تازہ حکم ان پابندیوں کو شہری وفاقی اداروں تک بڑھا دیتا ہے۔
امریکہ کی سلامتی کے خدشات
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کے ماڈل متعدد خطرے کے راستے پیش کرتے ہیں۔ حکم میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈیپ سیک کے سرور چین میں واقع ہیں، جہاں کا قانونی نظام حکومت کو نجی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی کا وسیع اختیار دیتا ہے۔ حکام کے مطابق امریکی حکومتی ملازمین یا ٹھیکیداروں کے استعمال سے حساس آپریشنل سوالات غیر ملکی نگرانی کی زد میں آ سکتے ہیں اور امریکی افراد یا حکومتی پروگراموں کے بارے میں قابل عمل انٹیلیجنس حاصل ہو سکتی ہے۔ حکم میں میلویئر اور دیگر سلامتی کی خامیوں کے امکان کا بھی ذکر ہے، بشمول ڈیپ سیک کی آئی او ایس ایپ میں پائی گئی سنگین کمزوریوں سے متعلق عوامی تحقیق کا حوالہ۔
چین کا جوابی ردعمل
چین کی وزارت تجارت نے 20 اکتوبر کو جاری بیان میں امریکی اقدام پر شدید ناپسندیدگی اور سخت مخالفت کا اظہار کیا۔ وزارت نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو نظر انداز کرتا ہے، چینی کمپنیوں کے مفادات کو سنجیدہ نقصان پہنچاتا ہے اور معمول کی تجارتی تعاون میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ بیان میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر غلط طریقوں کو درست کرے اور متعلقہ امتیازی پابندیوں کو واپس لے۔ وزارت نے کہا کہ چین پیش رفت کو قریب سے دیکھے گا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کو کہا کہ بیجنگ قومی سلامتی کے تصور کو ضرورت سے زیادہ بڑھانے اور ٹیکنالوجی و تجارت کے معاملات کو سیاسی رنگ دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات کا پوری طرح تحفظ کرے گا۔ ڈیپ سیک نے خبر رساں ادارے کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
متعلقہ مضامین
- اینتھروپک نے سنگاپور میں دفتر کھولا، حکومت کے ساتھ اے آئی حفاظتی معاہدہ
- گوگل نے اے آئی مواد کی جانچ کا ٹول دنیا بھر کے لیے متعارف کرا دیا
نتیجہ
ڈیپ سیک پر امریکی پابندی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی کشمکش کا تازہ ترین باب ہے۔ ایک طرف امریکہ سلامتی کے خدشات کا حوالہ دے رہا ہے تو دوسری طرف چین اسے ٹیکنالوجی اور تجارت کو سیاسی بنانا قرار دے کر جوابی اقدامات کا اشارہ دے رہا ہے۔






























