ڈنمارک مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے خلاف قانون سازی میں یورپ میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ میں 22 اکتوبر 2026 کو ایک ایسے بل کی پہلی پڑھائی ہوئی، جس کے تحت کسی شخص کے چہرے، آواز یا حرکات کی حقیقی نظر آنے والی ڈیجیٹل نقل اس کی اجازت کے بغیر عوام میں شیئر کرنا غیر قانونی ہو جائے گا۔
اہم نکات
- ڈیپ فیک بل 8 اکتوبر 2026 کو وزیر ثقافت زینیا اسٹیمپے نے پارلیمنٹ میں پیش کیا، اور 22 اکتوبر کو اس کی پہلی پڑھائی ہوئی۔
- بل ڈنمارک کے کاپی رائٹ قانون میں ترمیم کرے گا اور ذاتی خصوصیات کے تحفظ کا نیا حق قائم کرے گا۔
- یہ تحفظ کسی شخص کی موت کے 50 سال بعد تک برقرار رہے گا۔
- طنز، پیروڈی اور تنقید کے لیے استثنیٰ رکھا گیا ہے، لیکن خطرناک غلط معلومات اس استثنیٰ میں نہیں آئیں گی۔
- اگر پارلیمنٹ نے بل منظور کر لیا تو اس کے یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے کی امید ہے۔
بل میں کیا شامل ہے؟
بل میں دو طرح کے تحفظ شامل ہیں۔ پہلا عام تحفظ ہے جو ہر شخص کے چہرے، آواز اور حرکات کی حقیقی نظر آنے والی ڈیجیٹل نقل پر لاگو ہوگا۔ دوسرا تحفظ فنکاروں اور اداکاروں کی پرفارمنس کی ڈیجیٹل نقل کے لیے ہے، جسے اجتماعی طور پر لائسنس بھی دیا جا سکے گا۔
بل کے مطابق مواد شیئر کرنے والے پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہوگی کہ اس کے پاس متعلقہ شخص کی اجازت تھی۔ عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ ایسے مواد کو اس ذریعے سے ہٹانے کا حکم دیں جہاں وہ شائع ہوا ہو۔
یہ قانون کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟
ڈیپ فیک ایسی تصویر، ویڈیو یا آڈیو کلپ ہوتی ہے جو مصنوعی ذہانت سے بنائی یا بدلی جاتی ہے، تاکہ کوئی شخص وہ کہتا یا کرتا نظر آئے جو اس نے کبھی نہیں کہا یا کیا۔ اس طرح کی جعلسازی سے مالی فراڈ، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے چند کلکس میں ایسی جعلی ویڈیوز بنانا ممکن بنا دیا ہے، اور اس بل کا ایک اہم مقصد ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسا مواد جلد ہٹانے پر مجبور کرنا ہے۔ بل کے حامیوں کے مطابق یہ قانون عام شہریوں کو اپنی شناخت پر کنٹرول واپس دے گا۔

کیا چیز اس قانون میں نہیں آئے گی؟
بل میں طنز، پیروڈی اور تنقید کے لیے واضح استثنیٰ رکھا گیا ہے، تاکہ اظہار رائے کی آزادی متاثر نہ ہو۔ تاہم یہ استثنیٰ اس صورت میں ختم ہو جائے گا جب جعلی مواد اس حد تک حقیقی لگے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور سنگین نقصان کا باعث بنے۔
ماہرین کے مطابق یہ بل عوامی مواد سے مصنوعی ذہانت کے ماڈلوں کی تربیت پر پابندی نہیں لگاتا، اور نہ ہی یہ کسی شخص کو اپنی ہر تصویر پر اجارہ داری دیتا ہے۔ اس کی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کسی مخصوص شخص کی حقیقی نظر آنے والی نقل اس کی اجازت کے بغیر عوام میں شیئر نہ کی جائے۔
بل کا سفر اور آئندہ مراحل
یہ پالیسی جون 2025 کے ایک وسیع سیاسی معاہدے پر مبنی ہے، جس میں حکومت اور کئی جماعتوں نے ڈیجیٹل جعلسازی کے خلاف تحفظ مضبوط کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بل کا ایک پہلا مسودہ عام انتخابات کے بعد ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد اسے نئی شکل میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔
اب بل پارلیمانی کمیٹی کے زیر غور ہے۔ وزیر ثقافت کو امید ہے کہ یہ قانون 2026 کے اختتام اور 2027 کے آغاز کے آس پاس نافذ ہو جائے گا۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو ڈنمارک دنیا کے ان پہلے ملکوں میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے کاپی رائٹ قانون کے ذریعے چہرے اور آواز پر ذاتی حق قائم کیا ہو۔






























