الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی تجویز دے دی ہے۔ مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد ووٹروں کو گمراہ کن اور جعلی مواد سے محفوظ رکھنا اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ تجاویز کے تحت سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
اہم نکات
- الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں۔
- مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ انتخابی مواد پر واضح نشاندہی لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔
- ووٹروں کو دھوکا دینے والا ڈیپ فیک مواد بنانا اور پھیلانا ممنوع ہوگا۔
- جعلی رجحانات بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے بوٹس اور خودکار اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی تجویز کی گئی ہے۔
- مجوزہ ترامیم پر عوام اور سیاسی جماعتوں سے 20 نومبر تک تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے مجوزہ شرائط
مجوزہ ضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتیں، امیدوار اور ان کے حامی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح نشاندہی کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی آوازوں اور مصنوعی ذہانت سے بنی دیگر چیزوں پر یہ واضح کرنا لازم ہوگا کہ متعلقہ مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ایسا مواد تیار کرنا یا پھیلانا ممنوع ہوگا جس سے ووٹروں کو دھوکا دیا جا سکے۔ کسی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی انداز میں پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح ججوں، انتخابی عملے اور مسلح افواج سے متعلق جعلی ڈیپ فیک مواد بنانے پر بھی پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابی عمل کے دوران تیار کردہ تمام مصنوعی ذہانت کے مواد کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا ہوگا۔ روبو کالز اور آواز کی نقل پر مبنی پیغامات کے آغاز میں یہ بتانا لازم ہوگا کہ پیغام مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق میڈیا کی ذمہ داریاں
مجوزہ ترامیم میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کے لیے بھی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ان کے تحت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر واضح لیبل لگانا ضروری ہوگا۔ کسی امیدوار یا انتخابی معاملے سے متعلق مصنوعی تصویر، ویڈیو یا آڈیو نشر کرتے وقت اس کی وضاحت کرنا لازم قرار دینے کی تجویز ہے۔

گمراہ کن یا بغیر نشاندہی کے شائع ہونے والے مصنوعی ذہانت کے مواد کو فوری طور پر ہٹانا یا درست نشاندہی کے ساتھ شائع کرنا میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہوگی۔ میڈیا کو انتخابات سے متعلق مواد کی تیاری اور تجزیے میں مصنوعی ذہانت کا مشروط استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس کے استعمال کو ظاہر کرنا اور مواد کی درستگی کی ذمہ داری خود میڈیا پر عائد ہوگی۔
تجاویز اور آئندہ مراحل
الیکشن کمیشن نے مجوزہ ترامیم پر عوام، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ حلقوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ موصول ہونے والی آرا کی روشنی میں ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد انتخابی عمل کو جعلی اور گمراہ کن مواد سے پاک رکھنا ہے تاکہ ووٹر درست معلومات کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں انتخابی عمل کے لیے واضح ضوابط وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ مجوزہ ترامیم سے نہ صرف ووٹروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ انتخابی مہم میں شفافیت بھی بڑھے گی۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































