دبئی: ایمریٹس شپنگ لائن نے یکم اکتوبر 2026 سے پلاسٹک کے فضلے کی ترسیل مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ یہ فیصلہ صفر فضلہ کی عالمی مہم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ ایمریٹس شپنگ لائن اس تجارت پر مکمل پابندی لگانے والی دنیا کی دوسری بڑی بحری کمپنی بن گئی ہے۔ اس سے قبل 2022 میں سی ایم اے سی جی ایم نے یہ قدم اٹھایا تھا۔
اہم نکات
- دبئی کی ایمریٹس شپنگ لائن نے یکم اکتوبر 2026 سے پلاسٹک کے فضلے کی ترسیل بند کر دی
- یہ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کے بعد اس تجارت پر مکمل پابندی لگانے والی دوسری بڑی بحری کمپنی ہے
- 15 ستمبر کو جاری مشاورتی نوٹس میں ایچ ایس کوڈ 3915 کے تحت آنے والے پلاسٹک فضلے کی بکنگ روک دی گئی
- فیصلے کی وجہ سمندری ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ قرار دی گئی
- بیسل ایکشن نیٹ ورک کی مہم کے بعد یہ فیصلہ نو بڑی بحری کمپنیوں کو ہدف بنانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے
صفر فضلہ کی جانب بڑا قدم
ایمریٹس شپنگ لائن نے 15 ستمبر کو جاری کردہ مشاورتی نوٹس میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایچ ایس کوڈ 3915 کے تحت درج پلاسٹک کے فضلے کی بکنگ قبول نہیں کرے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے بچاؤ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پابندی صرف پلاسٹک کے فضلے پر ہے، عام پلاسٹک مصنوعات کی ترسیل اس سے متاثر نہیں ہوگی۔

بیسل ایکشن نیٹ ورک کی مہم
یہ فیصلہ بیسل ایکشن نیٹ ورک اور ورلڈ شپنگ کونسل کے اراکین کے درمیان رابطوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ماحولیاتی تنظیم کا موقف ہے کہ بحری کمپنیاں عالمی پلاسٹک فضلہ تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک کو روزانہ سیکڑوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ بھیجا جاتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس فضلے کا بڑا حصہ محفوظ طریقے سے دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جا سکتا اور اسے پھینک دیا جاتا ہے، جلا دیا جاتا ہے یا غیر محفوظ حالات میں ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔
کمپنی اور تنظیم کے بیانات
ایمریٹس شپنگ لائن کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور مشرق وسطی کے ریجنل منیجنگ ڈائریکٹر مائیکل ڈیوس نے کہا کہ پلاسٹک کے فضلے کی ترسیل پر پابندی کا فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے اور یہ ذمہ دارانہ اور ضابطوں کے مطابق بحری طریقوں پر کمپنی کی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب بیسل ایکشن نیٹ ورک کے سینئر پالیسی مشیر کرسٹوفر ہڈاک نے اس فیصلے کو ترقی پذیر ممالک کو نقصان دہ پلاسٹک فضلے کی برآمد کے خاتمے کی جنگ میں ایک اور بڑا سنگ میل قرار دیا اور ورلڈ شپنگ کونسل کے دیگر اراکین سے بھی اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
عالمی سیاق و سباق
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ موسمیاتی خبروں کے مطابق سمندروں میں پلاسٹک کا فضلہ سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کی ترسیل پر پابندی صفر فضلہ کے ہدف کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید بحری کمپنیاں اس کی پیروی کریں تو عالمی پلاسٹک فضلہ تجارت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
نتیجہ
ایمریٹس شپنگ لائن کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ نجی شعبہ بھی ماحولیاتی ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔ یہ پابندی نہ صرف سمندری ماحول کے تحفظ میں مدد دے گی بلکہ دیگر بحری کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گی۔
عمومی سوالات
پابندی کب سے نافذ ہوئی؟
یہ پابندی یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہو گئی ہے اور اس کا اعلان 15 ستمبر کو کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے کس کمپنی نے یہ قدم اٹھایا تھا؟
2022 میں سی ایم اے سی جی ایم نے بیسل ایکشن نیٹ ورک کی مہم کے بعد پلاسٹک فضلے کی ترسیل بند کی تھی۔
کیا یہ پابندی تمام پلاسٹک مصنوعات پر ہے؟
نہیں، یہ پابندی صرف ایچ ایس کوڈ 3915 کے تحت آنے والے پلاسٹک کے فضلے پر ہے، عام پلاسٹک مصنوعات اس سے مستثنی ہیں۔

















