یورپ بھر میں جمعرات، 5 نومبر کو بم دھمکیوں کی ایک نئی لہر نے فضائی سفر کا نظام ہلا کر رکھ دیا۔ کم از کم 21 مسافر پروازیں متاثر ہوئیں، کئی طیاروں کو فوجی اڈوں پر اتارنا پڑا اور بعض طیاروں کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں ان کی منزل تک پہنچایا گیا۔ خوش قسمتی سے تمام طیارے بحفاظت اتر گئے اور کسی بھی طیارے سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
اہم نکات
- جمعرات، 5 نومبر کو یورپ کے 16 ممالک میں کم از کم 21 پروازوں کو بم دھمکیاں موصول ہوئیں۔
- تمام طیارے بحفاظت اتر گئے؛ کسی طیارے سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا اور کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔
- ڈبلن سے روم جانے والی ایئر لنگس کی پرواز کو فرانس کے فوجی اڈے ایوروکس پر اتارا گیا۔
- لندن کے ہیتھرو اور برمنگھم ایئرپورٹس کو ملنے والی دھمکیاں غیر معتبر قرار دے دی گئیں۔
- یہ ایک ہفتے میں دھمکیوں کی دوسری لہر ہے؛ منگل کو بھی کم از کم سات پروازیں نشانہ بنی تھیں۔
- حکام نے ابھی تک کسی ملزم یا گروہ کا نام نہیں لیا اور تحقیقات جاری ہیں۔
ڈبلن سے روم جانے والی پرواز فوجی اڈے پر اتاری گئی
سب سے نمایاں واقعہ ایئر لنگس کی پرواز ای آئی 402 کا رہا، جو ڈبلن سے روم جا رہی تھی۔ اس ایئربس طیارے میں 151 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ دھمکی ملنے پر فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے اسے گھیر کر نارمنڈی میں واقع ایوروکس فوجی اڈے پر اتار لیا، جہاں بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے طیارے کی مکمل تلاشی لی۔ تلاشی میں کچھ بھی مشکوک نہیں ملا۔
ہیلسنکی سے روم جانے والی فن ایئر کی پرواز کو بھی دھمکی ملی۔ کروشیا کی فضائی حدود میں کروشین لڑاکا طیارے نے اسے اپنی نگرانی میں لیا اور پھر اطالوی فضائیہ کے طیاروں نے اسے بحفاظت روم پہنچا دیا۔ بلغاریہ میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے صوفیہ جانے والی تین رائن ایئر پروازوں کو زمین پر اتارا، جن میں لندن سے آنے والی پرواز بھی شامل تھی جسے پلوڈف میں اتارا گیا۔ کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے صوفیہ جانے والی دو پروازیں بھی بلغاریہ میں ہی اتاری گئیں۔

علامتی تصویر: رن وے پر کھڑا مسافر طیارہ
ایزی جیٹ نے تصدیق کی کہ نیوکاسل اور گلاسگو سے پراگ جانے والی اس کی دو پروازیں پولیس کی نگرانی میں پراگ پہنچیں اور مسافر معمول کے مطابق طیاروں سے اتر گئے۔ میلان سے وارسا جانے والی وز ایئر کی پرواز کو ویانا موڑ دیا گیا، جبکہ وارسا سے آنے والی ایک پرواز کو برسلز ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔ ہیلسنکی سے ویانا جانے والی پرواز بھی بحفاظت لینڈ کر گئی۔ متاثرہ پروازوں میں کوپن ہیگن، ہیلسنکی، میڈرڈ، میلان اور وارسا سے متعلق فضائی خدمات شامل تھیں۔
ہیتھرو اور برمنگھم کو دھمکیاں، آپریشن معمول پر
دھمکیوں کی لہر برطانیہ تک بھی پہنچی۔ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ اور برمنگھم ایئرپورٹ کو بھی دھمکیاں موصول ہوئیں، تاہم حکام نے انہیں غیر معتبر قرار دے دیا اور دونوں ایئرپورٹس پر فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہا۔ ہیتھرو انتظامیہ نے کہا کہ مکمل جائزے کے بعد مسافروں، عملے اور طیاروں کو کوئی خطرہ نہیں پایا گیا۔
برطانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ ہیدی الیگزینڈر نے ان دھمکیوں کو بدنیتی پر مبنی جھوٹی دھمکیاں قرار دیا اور کہا کہ حکومت ان واقعات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کی ہوائی نگرانی کی کمان صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ یورپ کے مختلف ہوائی اڈوں پر ان واقعات کے بعد سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ایک ہفتے میں دوسری لہر، تحقیقات جاری
یہ ایک ہفتے میں بم دھمکیوں کی دوسری لہر ہے۔ منگل، 3 نومبر کو بھی کم از کم سات پروازیں اور ایک بحری جہاز دھمکیوں کا نشانہ بنے تھے، جس کے بعد ہفتے بھر میں متاثرہ پروازوں کی مجموعی تعداد کم از کم 33 ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو متاثرہ پروازوں کی تعداد 27 تک تھی، جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ تعداد کم از کم 21 تھی۔
یورپی فضائی نگرانی کے ادارے یورو کنٹرول کے مطابق جمعرات کو یورپ بھر میں 27 ہزار 400 پروازیں طے تھیں، اس لیے متاثرہ پروازیں مجموعی فضائی سفر کا بہت چھوٹا حصہ تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان دھمکیوں کے پیچھے کوئی ریاست یا شدت پسند گروہ ہے، اور یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ یہ واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دھمکیاں کس نے بھیجیں اور کیا یہ مربوط مہم کا حصہ ہیں۔
یورپ اور دنیا بھر کی تازہ ترین خبروں کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔
































