LIVE
اہم خبر
انتخابات کے بعد ایران پر امریکی حملوں کا خدشہ، خلیج میں تیسرا بحری بیڑا اور دس ہزار اہلکار روانہایشیائی ترقیاتی بینک نے کمبوڈیا کے کسانوں کے لیے 72 ملین ڈالر کے موسمیاتی لچک پیکج کی منظوری دے دیآئرلینڈ نے 2027 کے کلائمیٹ ایمبیسیڈر پروگرام کے لیے درخواستیں کھول دیں، آخری تاریخ 30 نومبر 2026وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: ہائیکورٹس انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیںعارف الرحمان کو موسمیاتی انصاف میں ایک دہائی کی محنت پر یوتھ والنٹیئر ایوارڈکاپ17 کا آخری ہفتہ: عالمی فطری جائزے میں 149 اختلافات کے ساتھ وزرا کی آمدورلڈ فوڈ چیمپئن شپ 2026: 10 کیٹیگریز کے عالمی چیمپئنز کا اعلان، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکہ کے شیف سر فہرستیورپ بھر میں مظاہروں کی لہر: فرانس میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی احتجاجگرسٹ اور کلائمیٹ سینٹرل کی ڈسٹورٹڈ گفتگو: شدید موسم میں غلط معلومات کا مقابلہارتھ ایکو کے نوجوان رہنما یریوان میں کاپ17 میں سمندر کے تحفظ کی آوازاپالو کے ماہر معاشیات کا انتباہ: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ اے آئی سے کسی کو مالی فائدہ نہیں ہواچین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹ کے ایک اور گروپ کو خلا میں بھیج دیا، گووانگ نیٹ ورک میں اب 231 سیٹلائٹآسکر کی دوڑ میں پاکستانی مختصر فلم: دی لاسٹ گلانس نے سیئٹل میں جیوری ایوارڈ جیت لیاچیانگ مائی نے اسمارٹ سٹی سیاحت کے لیے گرین ای وی ٹرام متعارف کرا دیامریکہ میں مکانات کی طلبی قیمتیں مارچ کے بعد پہلی بار گر گئیں، خریداروں کو کچھ ریلیف کا امکانڈنمارک میں ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی: چہرے اور آواز کی نقل بغیر اجازت شیئر کرنا غیر قانونی ہوگاسینٹینری بینک، کابالے ڈائیوسس اور گڈ فارسٹس فاؤنڈیشن نے کاننگو میں 12,000 درخت لگائےکوکاکولا، نیسلے اور ڈینون یورپی یونین میں پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعوے تبدیل کریں گےکاپ31 توانائی سفارت کاری: ترکیہ موسمیاتی اہداف کو قابل عمل منصوبوں میں بدلنا چاہتا ہےآئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہانتخابات کے بعد ایران پر امریکی حملوں کا خدشہ، خلیج میں تیسرا بحری بیڑا اور دس ہزار اہلکار روانہایشیائی ترقیاتی بینک نے کمبوڈیا کے کسانوں کے لیے 72 ملین ڈالر کے موسمیاتی لچک پیکج کی منظوری دے دیآئرلینڈ نے 2027 کے کلائمیٹ ایمبیسیڈر پروگرام کے لیے درخواستیں کھول دیں، آخری تاریخ 30 نومبر 2026وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: ہائیکورٹس انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیںعارف الرحمان کو موسمیاتی انصاف میں ایک دہائی کی محنت پر یوتھ والنٹیئر ایوارڈکاپ17 کا آخری ہفتہ: عالمی فطری جائزے میں 149 اختلافات کے ساتھ وزرا کی آمدورلڈ فوڈ چیمپئن شپ 2026: 10 کیٹیگریز کے عالمی چیمپئنز کا اعلان، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکہ کے شیف سر فہرستیورپ بھر میں مظاہروں کی لہر: فرانس میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی احتجاجگرسٹ اور کلائمیٹ سینٹرل کی ڈسٹورٹڈ گفتگو: شدید موسم میں غلط معلومات کا مقابلہارتھ ایکو کے نوجوان رہنما یریوان میں کاپ17 میں سمندر کے تحفظ کی آوازاپالو کے ماہر معاشیات کا انتباہ: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ اے آئی سے کسی کو مالی فائدہ نہیں ہواچین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹ کے ایک اور گروپ کو خلا میں بھیج دیا، گووانگ نیٹ ورک میں اب 231 سیٹلائٹآسکر کی دوڑ میں پاکستانی مختصر فلم: دی لاسٹ گلانس نے سیئٹل میں جیوری ایوارڈ جیت لیاچیانگ مائی نے اسمارٹ سٹی سیاحت کے لیے گرین ای وی ٹرام متعارف کرا دیامریکہ میں مکانات کی طلبی قیمتیں مارچ کے بعد پہلی بار گر گئیں، خریداروں کو کچھ ریلیف کا امکانڈنمارک میں ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی: چہرے اور آواز کی نقل بغیر اجازت شیئر کرنا غیر قانونی ہوگاسینٹینری بینک، کابالے ڈائیوسس اور گڈ فارسٹس فاؤنڈیشن نے کاننگو میں 12,000 درخت لگائےکوکاکولا، نیسلے اور ڈینون یورپی یونین میں پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعوے تبدیل کریں گےکاپ31 توانائی سفارت کاری: ترکیہ موسمیاتی اہداف کو قابل عمل منصوبوں میں بدلنا چاہتا ہےآئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: ہائیکورٹس انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں

News Desk 2شائع شدہ 26 اکتوبر، 2026
وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: ہائیکورٹس انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں
Share this story

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ عدالتی نظرثانی کے دائرے اور انتظامیہ کے اختیارات کی حدود واضح کرتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ تو لے سکتی ہیں، لیکن عام حالات میں وہ انتظامیہ کی جگہ خود فیصلے نہیں کر سکتیں۔ دو رکنی بینچ نے پولیس افسر منیر سامو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ کا 30 جون 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

اہم نکات

  • وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے پولیس افسر منیر سامو کی اپیل منظور کر لی۔
  • سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ کا 30 جون 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔
  • جسٹس روزی خان بریچ نے دس صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
  • انکوائری میں افسر کا مبینہ چھاپے میں کردار ثابت نہیں ہو سکا؛ ان کا کردار گروپ افسر کی حیثیت سے انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے تک محدود پایا گیا۔
  • عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹس انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہیں، مگر عام حالات میں انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں۔

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ: اختیارات کی تقسیم کا اصول

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر قائم ہے، اور ریاست کا کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے آئینی دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ قانون سازی مقننہ کا کام ہے، قوانین پر عمل درآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور قانون کی تشریح عدلیہ کے سپرد ہے۔ پالیسی سازی، قواعد و ضوابط اور روزمرہ انتظامی معاملات انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی اختیار نگرانی اور غیر قانونی اقدامات کی اصلاح کے لیے ہے۔ عدالتی نظرثانی عام حالات میں انتظامی حکام کے فیصلہ سازی کے اختیارات سنبھالنے کی اجازت نہیں دیتی۔ البتہ اگر کوئی انتظامی افسر اپنے اختیار سے تجاوز کرے، اپنی قانونی ذمہ داری ادا نہ کرے، یا قانون میں مقررہ طریقہ کار سے نمایاں انحراف کرے، تو عدالتی مداخلت ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 199 کا صوابدیدی اختیار ٹھوس قانونی بنیاد کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور آئینی عدالت کا اختیار قیاس آرائیوں، مفروضوں یا ریکارڈ سے غیر متعلق بنیادوں پر استعمال نہیں ہو سکتا۔

عدالت کی عمارت کے سامنے قانون کی کتابیں اور ترازو
عدالت کی عمارت کے سامنے قانون کی کتابیں اور ترازو

کیس کا پس منظر اور انکوائری کے نتائج

سندھ ہائیکورٹ نے منیر سامو کو فوری طور پر اسپیشل برانچ سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ افسر کو ایک سال تک کراچی میں رکھا جائے اور انہیں آپریشنل یا فیلڈ ڈیوٹی نہ دی جائے، جبکہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائیکورٹ کی ہدایت پر ہونے والی انکوائری میں افسر کا مبینہ چھاپے میں کردار ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کردار بطور گروپ افسر انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے تک محدود پایا گیا۔ عدالت نے اس بات کو ایک اہم قانونی معاملہ قرار دیا کہ عدالت کی اپنی ہدایت پر ہونے والی انکوائری کے نتائج کو نظرانداز کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق، مقدمے کے حالات میں ہائیکورٹ کے احکامات عدالتی نظرثانی کی جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے، اور ملازم کی تعیناتی، ڈیوٹی اور تادیبی امور کا فیصلہ قانون کے تحت مجاز انتظامی حکام نے کرنا ہے۔

ملازمین کے حقوق کا تحفظ

فیصلے میں سرکاری ملازمین کے آئینی حقوق پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ منصفانہ انکوائری اور مؤثر حق سماعت کو آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10 اے کا تحفظ حاصل ہے۔ آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کا تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 9 کے تحت حق زندگی میں روزگار کا حق بھی شامل ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ سرکاری ملازم کو قانون کے مطابق ملازمت کے حق سے محروم کرنا حق روزگار کو متاثر کرتا ہے۔ آرٹیکل 14 انسانی وقار کا اور آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کا تحفظ دیتا ہے۔ اس لیے انتظامی اور تادیبی اقدامات قانونی، منصفانہ اور متناسب ہونے چاہئیں۔ یہ فیصلہ آئندہ اس نوعیت کے مقدمات میں عدالتی نظرثانی کی حدود اور انتظامی اختیارات کے درمیان توازن کے لیے ایک رہنما اصول کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مزید قومی خبریں یہاں پڑھیں۔

متعلقہ خبریں

اسلام آباد پولیس پالیسی 2026: افسران و اہلکاروں کے لیے ہفتہ وار آرام لازمیپاکستان

اسلام آباد پولیس پالیسی 2026: افسران و اہلکاروں کے لیے ہفتہ وار آرام لازمی

وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے لیے نئی پالیسی جاری کر دی گئی ہے جس کے تحت تمام افسران و اہلکاروں کے لیے ہفتہ وار آرام لازمی قرار دیا گیا ہے اور رخصتوں کی منظوری کے اختیارات واضح کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں
غریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشافپاکستان

غریبوں کے لیے مختص اربوں روپے سرکاری ملازمین کی جیب میں، بے نظیر پروگرام میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشاف

قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں — ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے غریبوں کے لیے مختص رقم وصول کی، جب کہ اب تک صرف 71 کروڑ روپے کی واپسی ہو سکی ہے۔

مزید پڑھیں
دفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاریپاکستان

دفتر خارجہ کی بریفنگ: ایران سرحد کی بندش سے متعلق زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاری

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان ایران سرحد کی بندش سے متعلق کوئی زمینی معلومات نہیں ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان زائرین کی آمد و رفت جاری ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کمبوڈیا کے کسانوں کے لیے 72 ملین ڈالر کے موسمیاتی لچک پیکج کی منظوری دے دی
نمایاں خبر

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کمبوڈیا کے کسانوں کے لیے 72 ملین ڈالر کے موسمیاتی لچک پیکج کی منظوری دے دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کمبوڈیا کے لیے 72 ملین ڈالر کے پیکج کی منظوری دی ہے: مزید 7000 ہیکٹر کے لیے آبپاشی، 190 کلومیٹر سڑکیں اور تقریباً 200,000 چھوٹے کسانوں کی لچک، جس میں خواتین مرکز میں ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔