اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستان ایران سرحد کی صورتحال پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کی بندش کے حوالے سے ان کے پاس کوئی زمینی معلومات نہیں ہیں، اور دونوں ملکوں کے درمیان زائرین کی آمد و رفت جاری ہے۔ ترجمان نے علاقائی کشیدگی میں کمی، امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے کردار اور اہم معاہدوں پر بھی پاکستان کا مؤقف بیان کیا۔
اہم نکات
- پاکستان ایران سرحد کی بندش سے متعلق کوئی زمینی معلومات دستیاب نہیں؛ زائرین کی آمد و رفت جاری ہے۔
- پاکستان امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ بطور ثالث رابطے میں ہے اور کشیدگی میں کمی پر یقین رکھتا ہے۔
- حوثی حملوں کے معاملے پر مکہ معاہدے کے تحت متعلقہ تینوں ملک مل کر فیصلہ کریں گے؛ بدر مفاہمتی یادداشت کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
- امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کا نوٹس لیا گیا؛ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔
- سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے، تاہم یہ مستقبل کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان ایران سرحد اور زائرین کی آمد و رفت
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سرحد کی بندش کے بارے میں زمینی معلومات نہ ہونے کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان زائرین کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وضاحت سے ان خبروں پر بھی روشنی پڑی ہے جن میں سرحدی آمد و رفت کی معطلی کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
اس سے قبل سرحدی تجارت اور آمد و رفت میں رکاوٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جبکہ ایرانی جانب سے اس صورتحال کو تکنیکی نوعیت کے مسائل سے تعبیر کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کی تازہ وضاحت کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ زائرین کے سفر کا راستہ کھلا ہوا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بطور ثالث امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے، اور پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ میں کمی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی خطے میں پائیدار امن ممکن ہے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے، اور دفتر خارجہ کے مطابق یہ رابطے آج بھی قائم ہیں۔ ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان علاقائی تناؤ میں کمی چاہتا ہے اور ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو کشیدگی کو کم کرے۔
مکہ معاہدہ، بدر یادداشت اور علاقائی صورتحال
حوثی حملوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ مکہ معاہدے کے مطابق اس معاملے پر تینوں ملک مل کر فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بدر مفاہمتی یادداشت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شامل چاروں ملک دفاعی صنعت کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، اور امید ہے کہ چاروں ملک اس یادداشت سے ایک دوسرے سے مفید نتائج حاصل کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان کا بیان دیکھا گیا ہے، جس میں پاکستان کو جوہری ریاست قرار دیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان انتہائی مضبوط تجارتی و سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ بلاشبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے، تاہم یہ مستقبل کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے آخر میں ایک بار پھر کہا کہ پاکستان علاقائی تناؤ میں کمی چاہتا ہے۔
مزید قومی خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔






























