غیر قانونی کان کنی سے تباہ شدہ ٹانو نمری جنگلاتی ذخیرے کی گھانا جنگلاتی بحالی اس ہفتے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ 35 ملین سیڈیز کی لاگت سے کی جانے والی بحالی کے بھاری انجینئرنگ کام تقریباً مکمل ہو چکے ہیں، اور توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ زمین گھانا کی فارسٹری کمیشن کے حوالے کر دی جائے گی تاکہ درخت لگانے کا مرحلہ شروع کیا جا سکے۔
اس منصوبے کی مالی معاونت گھانا گولڈ بورڈ فراہم کر رہا ہے، جس میں گھانا کی مسلح افواج کی انجینئرنگ رجمنٹ زمین کی بحالی کا کام کر رہی ہے اور دس سالہ جنگل لگانے کا پروگرام ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ یہ گولڈ بورڈ کے قومی بحالی پروگرام کا پہلا منصوبہ ہے، اور اسے غیر قانونی کان کنی سے متاثرہ دیگر جنگلات کی بحالی کے لیے نمونہ بنانے کا ارادہ ہے۔
گھانا جنگلاتی بحالی: 35 ملین سیڈیز کا بحالی منصوبہ
گھانا کی وزارت دفاع کے مطابق گولڈ بورڈ، مسلح افواج اور فارسٹری کمیشن کے درمیان معاہدے پر 17 جون 2026 کو دستخط ہوئے تھے اور یہ 6 جولائی 2026 سے نافذ ہوا۔ منصوبے کی کل لاگت تقریباً 35 ملین سیڈیز ہے، جو دو حصوں میں تقسیم ہے:
- 27.9 ملین سیڈیز سول انجینئرنگ کے کام کے لیے، جو مسلح افواج کی انجینئرنگ رجمنٹ کو ادا کیے جائیں گے؛
- 7.2 ملین سیڈیز جنگل لگانے کے لیے، جو فارسٹری کمیشن اگلے دس برس میں خرچ کرے گی، جن میں سے 2.2 ملین سیڈیز 2026 اور 2027 کے پہلے مرحلے کے لیے مختص ہیں۔
پہلا مرحلہ ویسٹرن نارتھ ریجن میں واقع ٹانو نمری جنگلاتی ذخیرے کے کمپارٹمنٹ 161 پر مرکوز ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق اس حصے کے تقریباً 200 ہیکٹر متاثرہ علاقے میں سے 50 ہیکٹر کی بحالی کا ہدف ہے؛ بعض ذرائع ابلاغ میں فوری بحالی کا علاقہ تقریباً 60 ہیکٹر بتایا گیا ہے۔
گولڈ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو سیمی گیمفی نے کہا کہ اس ذخیرے کو اس وسیع تباہی کی وجہ سے پروگرام کا پہلا منصوبہ چنا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج کے ساتھ شراکت کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا، کیونکہ ماضی میں بحالی کے منصوبوں کو مزید غیر قانونی کان کنی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس لیے اس کام کے لیے دیانت اور نظم و ضبط کی شہرت رکھنے والے ادارے کی ضرورت تھی۔
2021 سے 2024 تک غیر قانونی کان کنی کی تباہی
یہ تباہی غیر قانونی چھوٹے پیمانے پر سونے کی کان کنی کی وجہ سے ہوئی، جسے مقامی طور پر گالمسی کہا جاتا ہے۔ منصوبے کی معلومات کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران تقریباً 192.4 ہیکٹر جنگلاتی زمین تباہ ہوئی، جس کے پیچھے گہرے گڑھے، غیر مستحکم زمین اور تباہ شدہ نباتات رہ گئے۔
سیمیٹیکس کمپنی لمیٹڈ کے پائیداری کے مینیجر سیمیول ڈانسو نے بتایا کہ 2022 میں غیر قانونی کان کنوں کی بڑی یلغار نے علاقے کی حیاتیاتی تنوع اور کمپنی کے زیر انتظام لکڑی کے ٹھیکوں کو شدید متاثر کیا۔
انجینئرنگ کے جائزے میں 10 بڑے گڑھے دریافت ہوئے، جن کے ساتھ پانی سے بھرے متعدد چھوٹے گڑھے بھی تھے۔ ایسے گڑھے انسانوں اور جنگلی حیات کے لیے خطرناک حالات پیدا کرتے ہیں، اور اکھڑی ہوئی مٹی کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے؛ بہتا ہوا پانی قریبی دریائے ٹانو میں مٹی بہا کر پانی کے معیار اور آبی حیات کو متاثر کر سکتا ہے۔
پہلے انجینئرنگ، پھر جنگل لگانا
میجر شیم آدولیناما کی قیادت میں مسلح افواج کی انجینئرنگ رجمنٹ بھاری زمینی کام انجام دے رہی ہے: خطرناک کان کنی کے گڑھے بھرنا، زمین کو ہموار کرنا، اکھڑی ہوئی مٹی کو مستحکم کرنا، اور سطحی پانی کی نکاسی کے لیے نالیاں بنانا تاکہ دریائے ٹانو میں مٹی کا بہاؤ محدود رہے۔ انجینئرز نے زمین کی حالت بہتر بنانے کے لیے گیلی مٹی کو خشک مٹی میں ملا کر نباتات اگانے کے قابل بنایا ہے۔
یہاں صرف درخت لگانا کافی نہیں تھا۔ جہاں مٹی کی ساخت بنیادی طور پر بدل گئی ہو اور نباتات ختم ہو چکے ہوں، وہاں زمین قدرتی طور پر دوبارہ نہیں اگ سکتی — پہلے گڑھے بھرنے اور زمین ہموار کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ محفوظ اور مستحکم ہو کر نئی نمو کے لیے تیار ہو سکے۔
انجینئرنگ کا مرحلہ تقریباً مکمل ہے۔ جب بحال شدہ زمین فارسٹری کمیشن کے حوالے کر دی جائے گی تو اگلے مرحلے میں درخت لگائے جائیں گے اور مقامی نباتاتی اقسام کی دوبارہ نمو کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
صرف درخت لگانا کیوں کافی نہیں
اس منصوبے کی کامیابی آنے والے برسوں میں جنگل کی حالت سے ناپی جائے گی — صرف لگائے گئے پودوں کی تعداد سے نہیں۔ پودوں کے زندہ رہنے کی شرح، جگہ کے لیے منتخب اقسام کی موزونیت، اور نوجوان نباتات کو مزید خلل سے بچانا، یہ سب نتائج پر اثر انداز ہوں گے، اور درختوں کی بقا، مٹی کے استحکام اور پانی کے معیار کی طویل مدتی نگرانی ضروری ہوگی۔
اقوام متحدہ یونیورسٹی میں ذمہ دار کان کنی کے ڈائریکٹر پروفیسر اسماعیل کوائیکو نے کہا ہے کہ اگلے سال مزید 100 ہیکٹر متاثرہ جنگلاتی زمین کی بحالی کی جائے گی، اور ٹانو نمری منصوبے کو مستقبل کی بحالی کی کوششوں کے لیے نمونہ بنانے کی توقع ہے۔ فارسٹری کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ہیو براؤن نے کہا کہ یہ منصوبہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی ذخائر کے تحفظ اور جنگلاتی وسائل کی طویل مدتی پائیداری میں مدد دے گا، اور انہوں نے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے اسی طرح کی کوششوں کی حمایت کی اپیل کی۔
نئی غیر قانونی کان کنی کو روکنا انتہائی اہم ہوگا: اگر زمین مستحکم ہو گئی، مقامی نباتات واپس آ گئے اور علاقہ محفوظ رہا تو یہ منصوبہ اس بات کا عملی نمونہ بن سکتا ہے کہ گھانا ماحولیاتی نقصان کی مرمت کے ساتھ ذمہ دار قدرتی وسائل کے انتظام کو کیسے مضبوط کرتا ہے۔ مزید بین الاقوامی موسمیاتی اور بحالی کی رپورٹنگ کے لیے دیکھیں واٹن نیوز کی اردو موسمیاتی خبریں۔
اہم نکات
- سرمایہ کاری: تقریباً 35 ملین سیڈیز (27.9 ملین انجینئرنگ؛ دس برس میں 7.2 ملین جنگل لگانے کے لیے)۔
- مقام: کمپارٹمنٹ 161، ٹانو نمری جنگلاتی ذخیرہ، ویسٹرن نارتھ ریجن، گھانا۔
- نقصان: 2021 سے 2024 کے دوران غیر قانونی کان کنی سے تقریباً 192.4 ہیکٹر جنگلاتی زمین تباہ ہوئی۔
- شراکت دار: گھانا گولڈ بورڈ (مالی معاونت)، مسلح افواج کی انجینئرنگ رجمنٹ (انجینئرنگ)، فارسٹری کمیشن (جنگل لگانا)۔
- معاہدہ: 17 جون 2026 کو دستخط، 6 جولائی 2026 سے نافذ؛ انجینئرنگ کا کام تقریباً مکمل؛ آنے والے ہفتوں میں درخت لگانے کے لیے حوالگی متوقع۔

























