LIVE
اہم خبر
بخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقعموسمیاتی تعلیم کا یورپی دن: 22 اکتوبر کے پروگرام کی رجسٹریشن شروع، نسل در نسل انصاف موضوعکینیڈا کے پندرہ نوجوان اوٹاوا کے خلاف عدالت میں: موسمیاتی مقدمے کی تاریخی سماعت 26 اکتوبر کو وینکوور میںڈبلیو ٹی ٹی سی کا 26واں عالمی اجلاس مالٹا میں شروع، پائیدار سیاحت ایجنڈے میں سرِفہرستبھارت کا افغانستان میں دہشت گردی کی سرپرستی، پاکستان نے اقوام متحدہ میں ثبوت پیش کردیےآئرلینڈ کا 15 لاکھ یورو منصوبہ: جنوب مشرقی لائبیریا میں 50 ہیکٹر مینگرو جنگلات کی بحالیسعودی عرب کا حوثی حملوں کے بعد جوابی کارروائی: ریاض اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیاپلاسٹک بینک فلپائن میں پلاسٹک فضلہ جمع کرنے کے لیے مزید شراکت دار چاہتا ہےاقوام متحدہ کے سربراہ گوتیرس کا مطالبہ: کاپ31 سے قبل ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی مالی اعانت فراہم کریںعالمی ادارہ صحت: روس میں طاعون سے موت کی مکمل تفصیلات نہیںہسپانوی ہاؤسنگ احتجاج کی علامت ماریہ ڈیل کارمین اباسکل 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئیںغزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میںدنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکاستنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزمعالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحانبھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئیماحول دوست نوجوان: کاپ31 یوتھ کلائمٹ آئیڈیاتھون ترکیہ کے سات شہروں میںڈارک سائیڈ آف دی بوم: بنگلہ دیش کی رپورٹنگ کو سوپا 2026 ماحولیاتی صحافت اعزازبخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقعموسمیاتی تعلیم کا یورپی دن: 22 اکتوبر کے پروگرام کی رجسٹریشن شروع، نسل در نسل انصاف موضوعکینیڈا کے پندرہ نوجوان اوٹاوا کے خلاف عدالت میں: موسمیاتی مقدمے کی تاریخی سماعت 26 اکتوبر کو وینکوور میںڈبلیو ٹی ٹی سی کا 26واں عالمی اجلاس مالٹا میں شروع، پائیدار سیاحت ایجنڈے میں سرِفہرستبھارت کا افغانستان میں دہشت گردی کی سرپرستی، پاکستان نے اقوام متحدہ میں ثبوت پیش کردیےآئرلینڈ کا 15 لاکھ یورو منصوبہ: جنوب مشرقی لائبیریا میں 50 ہیکٹر مینگرو جنگلات کی بحالیسعودی عرب کا حوثی حملوں کے بعد جوابی کارروائی: ریاض اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیاپلاسٹک بینک فلپائن میں پلاسٹک فضلہ جمع کرنے کے لیے مزید شراکت دار چاہتا ہےاقوام متحدہ کے سربراہ گوتیرس کا مطالبہ: کاپ31 سے قبل ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی مالی اعانت فراہم کریںعالمی ادارہ صحت: روس میں طاعون سے موت کی مکمل تفصیلات نہیںہسپانوی ہاؤسنگ احتجاج کی علامت ماریہ ڈیل کارمین اباسکل 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئیںغزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میںدنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکاستنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزمعالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحانبھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئیماحول دوست نوجوان: کاپ31 یوتھ کلائمٹ آئیڈیاتھون ترکیہ کے سات شہروں میںڈارک سائیڈ آف دی بوم: بنگلہ دیش کی رپورٹنگ کو سوپا 2026 ماحولیاتی صحافت اعزاز
صاف توانائی

بھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی

Usman javed
بھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی
Share this story

بھارت نے صاف توانائی کے میدان میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے؛ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے اعلان کے مطابق ملک کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 31 جولائی 2026 تک 300.50 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو 2030 تک 500 گیگاواٹ کے قومی ہدف کا 60 فیصد سے زائد ہے۔

اہم نکات

  • بھارت کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت 300.50 گیگاواٹ ہو گئی ہے جو کل نصب شدہ صلاحیت کا 54 فیصد سے زائد ہے۔
  • شمسی توانائی 164.59 گیگاواٹ کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد ہوا سے بجلی 58.14 گیگاواٹ اور پن بجلی 57.24 گیگاواٹ ہے۔
  • مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 55.29 گیگاواٹ نئی غیر فوسل صلاحیت شامل ہوئی، جس میں 44.6 گیگاواٹ شمسی اور 6 گیگاواٹ ہوا کی توانائی تھی۔
  • 2014 میں محض 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر شمسی صلاحیت آج تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
  • ماہرین کے مطابق گرڈ اور ترسیلی نظام کی سست توسیع بڑھتی ہوئی بجلی ضائع ہونے (کٹیلمنٹ) کا سبب بن رہی ہے، جو اگلا بڑا چیلنج ہے۔

300 گیگاواٹ کی تفصیل: کون سا ذریعہ کہاں کھڑا ہے

وزارت کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق غیر فوسل ذرائع کی مجموعی صلاحیت میں شمسی توانائی نے سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ صاف توانائی کی مزید خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں شمسی اور ہوا کی توانائی اس وقت سب سے تیزی سے بڑھنے والے ذرائع ہیں۔

توانائی کا ذریعہ نصب شدہ صلاحیت (گیگاواٹ)
شمسی توانائی 164.59
ہوا سے بجلی 58.14
پن بجلی 57.24
حیاتیاتی ایندھن سے بجلی 11.75
ایٹمی بجلی 8.78

شمسی توانائی کی قیادت اور ریکارڈ اضافہ

شمسی توانائی اس کامیابی کی اصل انجن رہی ہے۔ 2014 میں صرف 2.8 گیگاواٹ سے شروع ہو کر آج یہ تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہوا کی توانائی اسی عرصے میں 21 گیگاواٹ سے بڑھ کر 58 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ مالی سال 2025-26 میں شامل کی گئی 55.29 گیگاواٹ صلاحیت ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

بھادلہ سولر پارک میں صاف توانائی کے لیے قطاروں میں لگے شمسی پینل
راجستھان کے بھادلہ سولر پارک کی فضائی تصویر؛ ایسے بڑے منصوبوں نے بھارت کو 300 گیگاواٹ کے سنگِ میل تک پہنچایا۔

حکومتی پالیسیوں نے اس رفتار کو سہارا دیا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے مقامی سولر ماڈیولز کے لیے پیداواری حوصلہ افزائی کی اسکیم کے تحت ملک میں سولر آلات کی تیاری کی صلاحیت 2014 میں 2.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر اب 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح گرین ہائیڈروجن مشن کے ذریعے صنعت کو کاربن سے پاک کرنے اور بھارت کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار و برآمد کا عالمی مرکز بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

چیلنج: گرڈ بجلی کی رفتار سے پیچھے

اس کامیابی کے ساتھ ایک سنگین چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔ وزارت کے سیکرٹری سنتوش سارنگی کے مطابق بجلی کے گرڈ کی توسیع قابلِ تجدید تنصیبات کی تیزی سے پیچھے رہ گئی ہے، جس کے باعث پیدا ہونے والی صاف بجلی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اب سولر ڈویلپر اپنے منصوبوں کے ساتھ بیٹری اسٹوریج بھی لگانے لگے ہیں تاکہ گرڈ کی عدم دستیابی کے دوران بجلی محفوظ کی جا سکے۔

راجستھان میں صاف توانائی کے لیے گھومتی ہوئی ہوا کی ٹربائنز
راجستھان میں ہوا کی ٹربائنز؛ ہوا سے بجلی 58 گیگاواٹ کے ساتھ بھارت کی صاف توانائی کی ٹوکری میں دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔

2030 کا ہدف اور عالمی تناظر

نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر پرالہاد جوشی نے ایک صنعتی تقریب میں کہا کہ بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل صلاحیت کے ہدف کو پورا کرنے کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔ اس سنگِ میل کو نومبر میں نئی دہلی میں ہونے والی بھارت قابلِ تجدید توانائی کانفرنس سے قبل جے پور میں منعقدہ علاقائی روڈ شو میں بھی اجاگر کیا گیا، جہاں وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری راجیش کلہری نے کہا کہ وسائل سے مالا مال ریاستیں اس قومی مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار بھی تیزی سے بڑھی ہے؛ 2014-15 میں 190.96 ارب یونٹ سے بڑھ کر 2025-26 میں 477.79 ارب یونٹ تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرڈ کی توسیع اسی رفتار سے جاری رہی تو بھارت عالمی صاف توانائی کی دوڑ میں مزید آگے نکل سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

نتیجہ

300 گیگاواٹ کا سنگِ میل ثابت کرتا ہے کہ بھارت کی صاف توانائی کی منتقلی محض موسمیاتی وعدہ نہیں بلکہ صنعتی مسابقت، توانائی کی خودمختاری اور معاشی مضبوطی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اب اگلا امتحان گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج کی توسیع اور 2030 کے 500 گیگاواٹ ہدف کی جانب مسلسل رفتار برقرار رکھنا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

بخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقعClimate

بخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع

بخارسٹ کے محل پارلیمنٹ میں 14 اکتوبر 2026 کو پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ کا آغاز ہو رہا ہے، جہاں وسطی اور مشرقی یورپ کے سب سے بڑے موسمیاتی اجتماعوں میں سے ایک میں ایک ہزار سے زائد ماہرین، کاروباری رہنما، بین الاقوامی ادارے اور پالیسی ساز شریک ہوں گے۔ یہ بات منتظمین نے بتائی ہے۔

مزید پڑھیں
کینیڈا کے پندرہ نوجوان اوٹاوا کے خلاف عدالت میں: موسمیاتی مقدمے کی تاریخی سماعت 26 اکتوبر کو وینکوور میںClimate

کینیڈا کے پندرہ نوجوان اوٹاوا کے خلاف عدالت میں: موسمیاتی مقدمے کی تاریخی سماعت 26 اکتوبر کو وینکوور میں

26 اکتوبر کو وینکوور کی فیڈرل کورٹ میں کینیڈا کے پندرہ نوجوان اوٹاوا کے خلاف مقدمہ لڑیں گے — ان کا موقف ہے کہ اخراجات کم نہ کر کے ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

بخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع
نمایاں خبر

بخارسٹ میں پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو ایک ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع

بخارسٹ کے محل پارلیمنٹ میں 14 اکتوبر 2026 کو پانچویں کلائمیٹ چینج سمٹ کا آغاز ہو رہا ہے، جہاں وسطی اور مشرقی یورپ کے سب سے بڑے موسمیاتی اجتماعوں میں سے ایک میں ایک ہزار سے زائد ماہرین، کاروباری رہنما، بین الاقوامی ادارے اور پالیسی ساز شریک ہوں گے۔ یہ بات منتظمین نے بتائی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔