کراچی کی ایک عدالت نے جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کی جان لینے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی مجرم پولیس اہلکار کو سزائے موت کی سزا دی ہے، جب کہ اس کے دو ساتھی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ عدالت نے تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ مقدمہ کراچی جعلی پولیس مقابلہ کیس سے متعلق تھا، جو گلستان جوہر میں پیش آیا تھا اور جس میں نوجوان عامر جان سے گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ ثابت ہوا کہ یہ مقابلہ حقیقی نہیں تھا، بلکہ نوجوان کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا۔
اہم نکات
- کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان عامر کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
- پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت، جب کہ شریک ملزمان ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
- عدالت نے تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو فی کس پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔
- ملزمان کے خلاف مقدمہ 2022ء میں تھانہ شارع فیصل میں درج کیا گیا تھا۔
- استغاثہ کے مطابق اہلکاروں نے نوجوان کا تعاقب کر کے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو کر اس پر فائرنگ کی تھی۔
کراچی جعلی پولیس مقابلہ کیس کا پس منظر
استغاثہ کے مطابق شاہین فورس کے اہلکاروں نے گلشن اقبال میں علاء الدین پارک کے قریب عامر کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ نوجوان کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے اس کا پیچھا کیا اور وہ ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو گئے، جہاں انہوں نے اس پر گولیاں چلا دیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں عامر موقع پر ہی جان سے گیا۔
واقعے کے بعد اہلکاروں نے اسے پولیس مقابلہ قرار دیا تھا۔ تاہم تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں یہ موقف درست ثابت نہ ہو سکا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیے گئے شواہد سے یہ واضح ہوا کہ نوجوان کے خلاف کارروائی قواعد کے مطابق نہیں تھی اور اس کی جان لینے کا جواز موجود نہیں تھا۔

عدالت کا فیصلہ اور اس کے اثرات
عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد تینوں اہلکاروں کو مجرم قرار دیا۔ فیصلے میں مرکزی ملزم کو سزائے موت دی گئی، جب کہ دونوں شریک ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ ہر مجرم کو مقتول کے ورثا کو پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور اختیارات کے غلط استعمال پر قانون کی گرفت سے بچا نہیں جا سکتا۔ متاثرہ خاندان کے لیے یہ فیصلہ ایک طویل عدالتی جدوجہد کے بعد انصاف کی صورت میں سامنے آیا ہے، کیونکہ یہ مقدمہ 2022ء سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔
کراچی سمیت ملک بھر کی مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔































