لاہور (وطن نیوز) — قصور کے قصبہ کنگن پور کے گاؤں محمود خانیکے میں گھر کی پکی کھیر میں چھپکلی گرنے کا افسوسناک واقعہ پورے خاندان کی جان لے گیا۔ چھ روز کے دوران گھر کے پانچوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔
جاں بحق ہونے والوں میں قاسم، ان کی اہلیہ حسنہ اور ان کے تین بیٹے ناظم، آصف اور امانت شامل ہیں۔ پولیس اور مقامی لوگوں کے مطابق 22 اکتوبر کو گھر میں پکی کھیر کھانے کے بعد سب سے پہلے ناظم کی طبیعت بگڑی۔ کھیتی باڑی کرنے والے اس خاندان نے ناظم کا پیر سے دم کروایا مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ تین روز یونہی گزر گئے، جس کے بعد 25 اکتوبر کو گھر کے تمام افراد کو کنگن پور لے جایا گیا، جہاں سے انہیں ڈی ایچ کیو قصور ریفر کیا گیا اور پھر لاہور جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لاہور جنرل ہسپتال میں سب سے پہلے ناظم کا انتقال ہوا، جسے اسی روز بغیر کسی قانونی کارروائی کے دفن کر دیا گیا۔ ایک روز بعد قاسم اور ان کے دونوں بیٹوں امانت اور آصف کا بھی انتقال ہو گیا۔ جب باپ بیٹوں کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو اسی دوران حسنہ بھی ہسپتال میں چل بسیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وفات سے قبل قاسم نے پولیس کو بتایا تھا کہ گھر میں کھیر پکی تھی جو سب نے کھائی۔ کھیر میں ایک چھپکلی گری تھی جسے نکال کر پھینک دیا گیا اور کھیر کا کچھ حصہ بھی ضائع کر دیا گیا، تاہم باقی کھیر گھر والوں نے کھا لی۔ پولیس کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے تمام نعشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ناظم کے علاوہ تمام افراد کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے اور جسمانی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہ تھی۔





























