شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی منظرِ عام پر واپسی نے ان کی صحت سے متعلق پھیلنے والی سنگین افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے پیر کے روز ایسی تصاویر جاری کیں جن میں کم جونگ ان کو ملبوسات اور جوتوں کی ایک نمائش کا معائنہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر ان غیر مصدقہ دعوؤں کے بعد سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریائی رہنما دماغ میں خون بہنے کے بعد کومے میں چلے گئے تھے اور ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
اہم نکات
- کے سی این اے کے مطابق کم جونگ ان نے پیر کو پیانگ یانگ میں قومی ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا دورہ کیا، جہاں ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
- تصاویر میں کم جونگ ان کو جوتوں اور ملبوسات کا جائزہ لیتے اور حکام سے بات چیت کرتے دیکھا گیا، تاہم آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
- ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ کم جونگ ان کو دماغ میں شدید خون بہنے کے بعد بیجنگ منتقل کیا گیا ہے اور ان کا انتقال ہو گیا ہے۔
- یہ افواہیں امریکہ میں مقیم چینی اختلاف کرنے والے وانجون شے کی پوسٹوں کے بعد پھیلیں، جن کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔
- ماضی میں 2020ء میں بھی کم جونگ ان کی کئی روزہ غیر موجودگی کے بعد اسی طرح کی افواہیں پھیلی تھیں، اور وہ بعد میں منظرِ عام پر آ گئے تھے۔
افواہوں کا آغاز کیسے ہوا؟
اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس سمیت مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر کم جونگ ان کی صحت سے متعلق سنسنی خیز دعوے پھیلنے لگے۔ امریکہ میں مقیم چینی اختلاف کرنے والے وانجون شے نے، جو چائنا ڈیموکریسی پارٹی سے وابستہ ہیں، ایکس پر لکھا کہ کم جونگ ان کو دماغ میں شدید خون بہنے کے بعد ہنگامی علاج کے لیے بیجنگ منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا میں طبی سہولتیں محدود ہونے کی وجہ سے انہیں بیجنگ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا ہے۔
اپنی بعد کی پوسٹوں میں وانجون شے نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ کم جونگ ان کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کی لاش کو خفیہ طور پر شمالی کوریا واپس پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ چین نے ممکنہ جانشینی کے بحران کے خوف سے پیانگ یانگ میں ہزاروں فوجی روانہ کیے ہیں اور بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج اسپتال کے ماہرین کو شمالی کوریا بھیجا گیا ہے۔ ان دعوؤں میں سے کسی کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اور نہ ہی شمالی کوریا یا چین کی حکومتوں نے ان کی تصدیق کی۔
کم جونگ ان کی منظرِ عام پر واپسی اور نئی تصاویر
ان افواہوں کے چند گھنٹوں بعد شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے کم جونگ ان کی نئی تصاویر جاری کیں۔ ان تصاویر میں کم جونگ ان کو ایک نمائش میں بچوں کے جوتوں اور خواتین کے کوٹوں کا معائنہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصویر میں وہ ایک نوجوان خاتون کے ہاتھ میں تھامے گئے گلابی جوتے کو دیکھ رہے ہیں، دوسری میں وہ حکام سے بات چیت کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ایک اور تصویر میں وہ مینی کِن پر رکھے گئے خواتین کے کوٹ کی آستین کو چھو رہے ہیں۔
کے سی این اے کے مطابق کم جونگ ان نے 2026 کی قومی ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا دورہ کیا اور ملک کی ملبوسات اور جوتوں کی صنعتوں کی ترقی کی کوششوں کو سراہا۔ جنوبی کوریائی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اس موقع پر ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے بھی ان کے ساتھ تھیں۔ تاہم ان تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ وہ کب لی گئی تھیں۔

جانشینی کی قیاس آرائیاں اور ماضی کی مثال
کم جونگ ان کی صحت سے متعلق افواہوں کے ساتھ ہی ان کی ممکنہ جانشینی کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کی بیٹی کم جو اے اور ان کی بااثر بہن کم یو جونگ کے نام لیے، تاہم کسی بھی دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ شمالی کوریا نے کم جونگ ان کے کسی باقاعدہ جانشین کا باضابطہ اعلان کبھی نہیں کیا۔
واضح رہے کہ کم جونگ ان کی صحت سے متعلق سوالات پہلی مرتبہ نہیں اٹھے۔ 2020ء میں بھی عوام کی نظروں سے کئی روز تک غائب رہنے کے بعد ان کی موت یا کومے میں ہونے کی افواہیں پھیلی تھیں، تاہم وہ بعد میں دوبارہ منظرِ عام پر آ گئے تھے۔ شمالی کوریا میں معلومات کی رازداری کی وجہ سے ان کی مختصر غیر موجودگی بھی صحت اور ممکنہ جانشین کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہے۔
غیر ملکی حکومتیں اور انٹیلی جنس ادارے بھی کم جونگ ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، کیونکہ شمالی کوریا کی قیادت میں کسی بھی تبدیلی کے علاقائی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اہم بین الاقوامی خبروں کی مزید تفصیل کے لیے وطن نیوز کی اردو ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔






























