تہران میں پیر کے روز ایران اور مکہ معاہدہ ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ معاہدے کے تینوں رکن ممالک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک ساتھ ایران کی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شریک فریقوں نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اہم نکات
- ملاقات پیر 26 اکتوبر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
- سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی، جب کہ پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی جانب سے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شامل تھے۔
- ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے مہمان وفود سے ملاقات کی۔
- ملاقات کی تجویز پاکستانی فیلڈ مارشل نے گزشتہ ہفتے اپنے دورہ تہران کے دوران پیش کی تھی۔
- شرکا نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم ایجنڈے کی تفصیل سے متعلق کوئی جامع اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔
- مکہ معاہدہ اگست میں طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ملاقات میں کیا طے پایا
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مختصر مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فریقین علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ مکہ معاہدہ ممالک کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد موجودہ بحران کے فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنا، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور سفارتی حل کی حمایت کرنا ہے، جب کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کی جائے گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اہم اسلامی ممالک کی شرکت سے اتحاد اور ہم آہنگی کو تقویت ملے گی، اور مسلمان ممالک کو درپیش چیلنجوں اور خطرات کے مقابلے میں مشترکہ اور مربوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق ملاقات میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا سب سے اہم موضوع رہا، تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

ملاقات کیوں غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں یمن کے حوثیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے، جب کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں جانب نے وسیع تر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے بھی تیار کر رکھے ہیں، جن پر ممکنہ طور پر 3 نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد عمل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب، سعودی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا ہے، جب کہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ اس پس منظر میں تینوں معاہدہ ممالک کا ایک ساتھ تہران میں ایرانی قیادت سے ملنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ قطری ثالثوں نے اتوار کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی، تاہم وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والا عبوری امن معاہدہ بھی چند ہفتوں بعد ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔
مکہ معاہدہ کیا ہے اور آگے کیا ہوگا
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، اور ارکان ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خود مختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے پابند ہیں۔ اکتوبر کے اوائل میں معاہدے کی دفاعی کمیٹی نے ریاض میں ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیزی سے تعیناتی پر بھی اتفاق کیا تھا۔
ولسن سینٹر کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق تہران ملاقات سے ایران کی یہ تشویش کم ہو سکتی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف روک تھام کے لیے بنایا گیا ہے، تاہم ان کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ایران کا اس معاہدے میں شامل ہونا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔ ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے تجویز دی ہے کہ اس ملاقات کو مغربی ایشیا کے لیے ایک علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد بنایا جائے، جو عدم جارحیت، باہمی اعتماد اور مشترکہ خوش حالی پر مبنی ہو اور جس میں خطے کی سلامتی خطے کے ممالک خود سنبھالیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ رابطہ محض ایک ملاقات تک محدود رہتا ہے یا اس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی سامنے آتے ہیں۔ فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جسے خطے میں سفارت کاری کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی خبروں کے لیے وطن نیوز کا صفحہ ملاحظہ کریں۔































