لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو ارسال کر دیا ہے۔ استعفے میں انہوں نے ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کو اپنے فیصلے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور رواں سال اپریل میں ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ ہوا تھا۔
اہم نکات
- جسٹس محسن اختر کیانی نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
- استعفیٰ صدر پاکستان کو ارسال کیا گیا ہے۔
- استعفے میں ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کا حوالہ دیا گیا ہے۔
- اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔
- 23 دسمبر 2015 کو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔
- رواں سال اپریل میں ان کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ ہوا تھا۔
- نئے ججز روسٹر میں ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں کیا گیا تھا۔
- وہ 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھے۔
محسن اختر کیانی کا استعفیٰ: استعفے میں کیا لکھا گیا
استعفے کے متن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا ہے کہ ان کا ضمیر موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔
استعفے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ججز کی تقرریوں اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، عام سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور انصاف کے متلاشی افراد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
عدالتی سفر اور تبادلے
جسٹس محسن اختر کیانی 11 فروری 1970 کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1994 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 23 دسمبر 2015 کو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، جہاں وہ سینیارٹی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔ لاہور ہائی کورٹ میں ان کا سینیارٹی نمبر دسواں تھا۔

رواں سال اپریل میں جوڈیشل کمیشن نے ان کے لاہور ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد نئے ججز روسٹر میں انہیں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تعینات کیا گیا تھا۔ استعفے سے ایک روز قبل یہ تبادلہ سامنے آیا تھا۔
استعفے کے بعد کیا ہوگا
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ وکالت کے شعبے میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ان کا استعفیٰ صدر پاکستان کو موصول ہو چکا ہے اور اب اس پر آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی ہوگی۔
مزید خبریں اور تازہ ترین صورت حال وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔































