تیل کی عالمی قیمتوں میں منگل کے روز مزید اضافہ ہوا اور امریکی معیار ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 106 سے 109 ڈالر فی بیرل کی حد میں آ گیا، جو پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد تاجروں نے قیمتوں میں جنگ کے خطرے کا اضافی حصہ شامل کرنا جاری رکھا۔
اہم نکات
- ڈبلیو ٹی آئی خام تیل منگل کو 106 سے 109 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
- عالمی معیار برینٹ 110 سے 111.5 ڈالر فی بیرل تک گیا، مئی کے بعد کی بلند ترین سطح۔
- حوثیوں نے سعودی توانائی کے مراکز پر حملوں کا دعویٰ کیا، جب کہ گذشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 18 بحری جہاز نشانے بنے۔
- ایران کی انقلابی گارڈ کور نے آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں کے جلنے کی تصدیق کی۔
- نومبر کا ڈبلیو ٹی آئی معاہدہ منگل کو ختم ہو رہا ہے، لگاتار نویں سیشن میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے اثرات سے کیوں بڑھ رہی ہیں
تیل کی قیمتیں ایران جنگ اور مشرق وسطی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے براہ راست اثرات کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ منگل کی صبح امریکی وقت کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی کے فرنٹ منتھ معاہدوں میں تقریباً 4 سے 5 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 106 سے 109 ڈالر فی بیرل کے درمیان دیکھی گئی۔ یہ وہ معاہدے ہیں جو منگل کو ہی ختم ہو رہے ہیں۔ دسمبر کے زیادہ فعال ڈبلیو ٹی آئی معاہدے میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
برینٹ خام تیل، جو عالمی قیمتوں کا معیار ہے، دسمبر کی ترسیل کے لیے 110 سے 111.5 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہوا۔ منگل کو اس نے 19 مئی کے بعد کی بلند ترین سطح کو چھوا۔ رواں ماہ اب تک ڈبلیو ٹی آئی کے فرنٹ منتھ معاہدے لگاتار نو سیشنوں میں بڑھے ہیں اور اس ماہ تقریباً 20 فیصد ماہانہ اضافے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
حملوں اور خطرے کی صورتحال
یمن کے حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف پر متعدد حملے کیے۔ ان کے بیان کے مطابق آرامکو کے ینبع میں واقع مرکز، شیبہ آئل فیلڈ، ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا ہوائی اڈے نشانے پر تھے۔ سعودی حکام نے ان دعووں کی فوری تصدیق نہیں کی۔
بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی فرم کیپلر کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 18 بحری جہازوں پر حملے ہوئے۔ ایران کی انقلابی گارڈ کور نے منگل کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں دو غیر تعمیل کرنے والے تیل بردار جہاز اس کی بحری یونٹ کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ ایران کے حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملے نئی حکمت عملی کے ساتھ مزید تیز کیے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں قیمتوں میں خطرے کا قابل ذکر حصہ شامل ہے کیونکہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات برقرار ہیں۔ آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ اگر ترسیل بغیر رکاوٹ جاری رہے تو یہ خطرے کا حصہ آہستہ آہستہ کم ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال ایسے کوئی آثار نہیں ہیں۔
موازنہ: تیل کے معیارات کی تازہ صورتحال
| معیار | قیمت (فی بیرل) | تازہ صورتحال |
|---|---|---|
| ڈبلیو ٹی آئی (نومبر معاہدہ) | تقریباً 106 سے 109 ڈالر | مئی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب |
| برینٹ (دسمبر معاہدہ) | تقریباً 110 سے 111.5 ڈالر | 19 مئی کے بعد بلند ترین |
عالمی معیشت پر اثرات
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی روز حصص کی منڈیوں پر دباؤ رہا اور ٹیکنالوجی کے حصص میں پچھلے ہفتے کے نقصانات کے بعد بحالی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطی میں کشیدگی جاری رہی تو قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جب کہ سعودی وزیر توانائی کی مشرق مغرب پائپ لائن کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں کو تجزیہ کاروں نے ممکنہ طور پر قیمتوں کے لیے منفی خبر قرار دیا۔
متعلقہ مضامین
- برینٹ تیل 105 ڈالر: بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی کا نیا خطرہ
- سونے کی قیمت میں نیا اضافہ: پاکستان میں فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
نتیجہ
ایران جنگ اور مشرق وسطی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے و بحری ترسیل پر حملوں نے تیل کی عالمی قیمتوں کو پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ خطرے کا حصہ اس وقت تک قیمتوں میں شامل رہے گا جب تک صورتحال مستحکم نہیں ہو جاتی۔






























