پشاور کے علاقے دیر کالونی میں جمعرات کی صبح ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا، جس میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ اسکول کی چھت گرنا حالیہ برسوں میں پاکستان کے مہلک ترین اسکولی حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- پشاور کی دیر کالونی میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
- حادثے کے وقت چھت پر 110 سے 115 بچے موجود تھے؛ اسکول میں تقریباً 1200 طلبہ زیر تعلیم ہیں
- اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا؛ مقدمہ درج، انکوائری کمیٹی قائم
- پشاور ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے 21 اکتوبر کو سماعت مقرر کر دی
اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ — کیسے پیش آیا
متاثرہ اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر ہے، جو دیر کالونی کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے۔ امدادی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملی، جس کے فوراً بعد ریسکیو 1122، پولیس اور فوج کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ دوپہر تک ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق اسکول کی عمارت پرانی تھی اور چھت وزن برداشت نہ کر سکی۔ چھت گر کر نیچے والی کلاسوں پر آن گری، جس سے بچے ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 33 جبکہ نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال میں 2 لاشیں لائی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچیاں بھی شامل ہیں، اور تمام بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے مرتب کردہ ابتدائی رپورٹ میں عمارت کی پرانی حالت اور ناقص تعمیر کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، اور اسے سی سی پی او کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، جبکہ سیکریٹری تعلیم نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ادارے سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں درخواست — 21 اکتوبر کو سماعت
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے سے متعلق درخواست دائر کی تھی، جسے پشاور ہائی کورٹ نے منظور کر لیا ہے اور سماعت کے لیے 21 اکتوبر مقرر کر دیا ہے۔ درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومت، پی ڈی اے، پی ایس آر اے اور اسکول انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے، اور حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کو فوری طور پر بند یا درست کیا جائے۔
پاکستان کی مزید اہم خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔






























