وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو ایک روزہ دورے پر پشاور پہنچے، جہاں وہ خیبر پختونخوا کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیں گے اور اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ وزیر اعظم پشاور دورہ کے دوران صوبے میں امن و امان، انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ پشاور پہنچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دورے کے دوران گورنر ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہو گا، جس کی صدارت وزیر اعظم خود کریں گے۔
اہم نکات
- وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر پشاور پہنچے ہیں۔
- گورنر ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
- اپیکس کمیٹی سمیت دیگر اہم اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
- صوبے میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔
- دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شہداء کی فیملیز کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان متوقع ہے۔
- شیر شاہ سوری روڈ اور ایئر پورٹ روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
- وزیر اعظم کا 20 اکتوبر کو طے شدہ پشاور کا دورہ ملتوی ہو گیا تھا۔
وزیر اعظم پشاور دورہ: اجلاسوں کا ایجنڈا
ذرائع کے مطابق پشاور میں وزیر اعظم اپیکس کمیٹی کے اجلاس سمیت دیگر اہم اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ ان اجلاسوں میں انہیں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی جائے گی۔
اجلاسوں میں صوبے کی سیاسی صورت حال اور حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو ترقیاتی منصوبوں اور نئے مقررہ اہداف سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر اعظم کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شہداء کی فیملیز کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان متوقع ہے۔ یہ اعلان متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومتی تعاون کا حصہ ہو گا۔
وفد اور شہر میں انتظامات
وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ پشاور پہنچے ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی دورے میں شریک ہیں۔

دورے کے موقع پر شیر شاہ سوری روڈ اور ایئر پورٹ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اور شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شہر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
دورے کا پس منظر
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 20 اکتوبر کو پشاور جانا تھا، تاہم ان کا یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ آج کا دورہ اس ملتوی شدہ دورے کے بعد ہو رہا ہے، اور اسے صوبے کی صورت حال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران ہونے والے اجلاسوں اور متوقع اعلانات کو صوبے میں امن و امان کی بہتری اور ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز پر پڑھی جا سکتی ہیں۔































