اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف کا آج پشاور کا طے شدہ ایک روزہ دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتِ حال اور دیگر انتظامی امور پر بریفنگ دی جانی تھی۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف کا بیس اکتوبر کا پشاور کا ایک روزہ دورہ ملتوی ہو گیا۔
- دورے میں صوبے کی سیکیورٹی صورتِ حال اور گورنر راج کے بعد کی صورتِ حال پر غور ہونا تھا۔
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر وفاقی وزراء بھی وزیراعظم کے ہمراہ جانے تھے۔
- یہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم کا پشاور کا پہلا دورہ تھا۔
دورے کی اہمیت
صوبے میں گیارہ اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ وزیراعظم کا صوبائی دارالحکومت کا پہلا دورہ ہوتا۔ ذرائع کے مطابق دورے کے دوران گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہونا تھا، جس میں صوبے کے امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جانی تھی۔
اے آر وائے کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ بارہ اضلاع کے بارے میں بھی آگاہ کیا جانا تھا، جبکہ قبائلی عمائدین سے ملاقات بھی طے تھی۔ کشمیر انگلش کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی پیکیج کے اعلان کی بھی توقع کی جا رہی تھی۔

ملتوی ہونے کی وجوہات اور آگے کا لائحہ عمل
ذرائع نے دورہ ملتوی ہونے کی وجوہات واضح نہیں کیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دورے کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں متوقع ہے۔ یہ دورہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی دعوت پر طے ہوا تھا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے اور وفاقی کابینہ کے فیصلے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہے۔ صوبے میں گورنر فیصل کریم کنڈی انتظامی امور چلا رہے ہیں۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔






























