اہم نکات
- سی ٹی ڈی پنجاب نے صوبے بھر میں 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 8 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کر لیے۔
- گرفتار افراد کی شناخت شہزاد، محمود، نعمان، عدنان اور فاروق کے ناموں سے ہوئی ہے۔
- قبضے سے دھماکا خیز مواد، 2 ہینڈ گرنیڈ، 3 ڈیٹونیٹرز اور 20 فٹ فیوز تار برآمد ہوا۔
- گرفتار افراد کے خلاف 7 مقدمات درج کر کے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
- رواں ہفتے 1,484 کومبنگ آپریشنز میں 50,865 افراد کی جانچ اور 77 مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔
لاہور: محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے سی ٹی ڈی آپریشنز کے دوران صوبے بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 8 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔ ترجمان کے مطابق گرفتار افراد سے دھماکا خیز مواد اور دستی بم سمیت خطرناک اسلحہ برآمد ہوا ہے، اور ان کے خلاف 7 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی آپریشنز کی تفصیلات
ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق کارروائیاں صوبے کے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ گرفتار افراد کی شناخت شہزاد، محمود، نعمان، عدنان اور فاروق سمیت دیگر افراد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، اور ان سے برآمد ہونے والا سامان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بڑی تخریبی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔
برآمد ہونے والے سامان میں دھماکا خیز مواد کے علاوہ 2 ہینڈ گرنیڈ، 3 ڈیٹونیٹرز اور 20 فٹ فیوز تار شامل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف 7 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
مزید قومی خبروں کے لیے ملاحظہ کریں وطن نیوز اردو۔

محفوظ پنجاب کا ہدف
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق رواں ہفتے صوبے بھر میں 1,484 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، جن کے دوران 50,865 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی اور 77 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ محفوظ پنجاب کے ہدف کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور کومبنگ آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ دہشت گردی کے خطرات کی روک تھام اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔































