ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز پیش کر دی ہے، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے سمیت عالمی سلامتی کے اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، پوٹن نے یہ تجویز نو اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران پیش کی تھی، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان ابتدائی سفارتی رابطے جاری ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔
اہم نکات
- پوٹن نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز پیش کی
- تجویز نو اکتوبر کو پوٹن اور ٹرمپ کی ٹیلی فونک بات چیت میں سامنے آئی — وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
- ممکنہ اجلاس نومبر میں چین کے شہر شینزن میں اے پی ای سی کانفرنس کے موقع پر ہو سکتا ہے
- ایجنڈے میں یوکرین جنگ کا خاتمہ اور جوہری تخفیفِ اسلحہ شامل ہونے کا امکان
- کریملن نے رابطوں کی تصدیق کر دی؛ حتمی تاریخ اور ایجنڈا ابھی طے نہیں ہوا
اجلاس کی تجویز اور پس منظر
رپورٹ کے مطابق، روس نے اس تجویز سے متعلق چین کو سفارتی ذرائع کے ذریعے آگاہ کیا، جس پر بیجنگ نے اشارہ دیا کہ اگر امریکی صدر رضامند ہوں تو چین کو ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی اجلاس کی حتمی تاریخ، ایجنڈا یا کسی باضابطہ معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور روس کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے روس سے ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے جبکہ امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے روس پر عائد اہم پابندیوں کی معطلی کا حکم بھی جاری کیا تھا۔
پوٹن کا سہ فریقی اجلاس — فریقین کا ردعمل
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ پوٹن، ٹرمپ اور شی کے ممکنہ اجلاس کا معاملہ زیر بحث آیا ہے، تاہم ان کے بقول ابھی اجلاس یا اس کے ممکنہ ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح تفہیم موجود نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطحی بات چیت جاری ہے اور امریکی صدر یوکرین اور روس کی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس کو دی جانے والی حالیہ مراعات سے پوٹن کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، جس سے جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
ممکنہ اثرات
اگر یہ اجلاس ہوتا ہے تو یہ امریکہ، روس اور چین کے سربراہان کی پہلی باضابطہ سہ فریقی سربراہی ملاقات ہوگی، جس کے عالمی سلامتی، یوکرین جنگ کے مستقبل اور جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دُور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے اجلاس سے قبل تمام فریقین کے درمیان باضابطہ ایجنڈے اور شرکت کی شرائط پر اتفاق ناگزیر ہوگا۔
مزید بین الاقوامی خبریں یہاں پڑھیں۔































