اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ سنہ 2022 سے اب تک ملک میں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 349 حادثات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے حادثات کی روک تھام کے لیے پرانا ٹریک تبدیل کیا جائے گا اور نئے ٹریک کی تعمیر کے ساتھ ریلوے اسٹیشنوں کی بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔
اہم نکات
- سنہ 2022 سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 349 حادثات ہوئے ہیں۔
- 331 حادثات اور واقعات کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔
- 349 حادثات میں سے 229 پر مقدمات درج ہوئے جبکہ 120 مقدمات زیر التوا ہیں۔
- ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے 480 کلومیٹر کا نیا ٹریک بچھایا جائے گا، جو کراچی سے شروع ہوگا۔
- کراچی سے روہڑی تک کا ٹریک 1800 کلومیٹر کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔
- ملک بھر سے ریلوے کی 2 لاکھ ایکڑ زمین واگزار کرائی جا چکی ہے۔
پاکستان ریلوے حادثات کی تفصیل
وفاقی وزیر ریلوے نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ 349 حادثات میں سے 331 کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 229 حادثات پر مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 120 مقدمات ابھی زیر التوا ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثات کا سلسلہ مسلسل توجہ کا متقاضی ہے، کیونکہ ریلوے لاکھوں مسافروں اور بڑی مقدار میں مال کی نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔
وزیر ریلوے کے مطابق ملک میں ریلوے ٹریک بہت پرانا ہے اور اس کی حالت حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے ٹریک کی جگہ نیا اور مضبوط ٹریک بچھانا حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔ نئے ٹریک سے ٹرینوں کی رفتار اور حفاظت دونوں میں بہتری کی امید ہے۔
نیا ٹریک اور اسٹیشنوں کی بحالی
حنیف عباسی نے بتایا کہ ڈھائی ارب ڈالر سے 480 کلومیٹر کا نیا ٹریک بنایا جائے گا اور اس کا آغاز کراچی سے ہوگا۔ کراچی سے روہڑی تک کا ٹریک 1800 کلومیٹر کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے، اور اس ٹریک کے مکمل ہونے سے حادثات میں کمی آنے کی توقع ہے۔

وزیر ریلوے نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر ریلوے اسٹیشنوں کو بحال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی حالت بھی بہتر کی جا رہی ہے، تاکہ مسافروں کو بہتر سہولتیں مل سکیں۔
مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح
ریلوے ملک کے دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت براہ راست عام لوگوں کی جان و مال سے جڑی ہوئی ہے۔ نئے ٹریک، اسٹیشنوں کی بحالی اور قبضہ شدہ زمین کی واگزاری جیسے اقدامات کا مقصد ریلوے کے نظام کو محفوظ اور قابل اعتماد بنانا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے حادثات میں کمی آئے گی اور مسافروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھی جا سکتی ہیں۔






























