
سڈنی کے طلبہ نے نومبر میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 سے قبل حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے 24 اکتوبر کو ایک بڑے ماحولیاتی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سڈنی اسٹوڈنٹس فار کلائمیٹ کے زیر اہتمام یہ ریلی دوپہر ایک بجے سڈنی ٹاؤن ہال کے باہر گڈیگل کنٹری میں ہوگی، جس میں طلبہ کوئلے اور گیس کے نئے منصوبوں کے خاتمے سمیت تین مطالبات پیش کریں گے۔ منتظمین کے مطابق یہ احتجاج عوامی دباؤ کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش ہے تاکہ حکومت حقیقی اور بامعنی ماحولیاتی اقدامات پر مجبور ہو۔
اہم نکات
- 24 اکتوبر 2026، دوپہر ایک بجے سڈنی ٹاؤن ہال (گڈیگل کنٹری) میں احتجاجی ریلی کا اعلان
- منتظم: سڈنی اسٹوڈنٹس فار کلائمیٹ؛ ریلی کا عنوان: ماحولیاتی اقدام اب — کاپ31 میں کوئی بہانہ نہیں
- تین مطالبات: نئے کوئلے اور گیس منصوبوں کا خاتمہ، پابند اخراج کے اہداف، متاثرہ کمیونٹیز کے لیے منصفانہ منتقلی
- پس منظر: اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لیبر حکومت نے 37 فوسل فیول منصوبوں کی منظوری دی یا ان میں توسیع کی
- 30 ستمبر کو ہنٹر ویلی کوئلہ منصوبے کی منظوری سے 80 کروڑ ٹن اضافی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا خدشہ
- آسٹریلیا نومبر میں ترکیہ کے ساتھ مل کر کاپ31 کی مشترکہ میزبانی کرے گا
ریلی کی تفصیلات اور پروگرام
منتظمین کے اعلان کے مطابق ریلی ہفتے کے روز 24 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے سڈنی ٹاؤن ہال، جارج اسٹریٹ کے باہر شروع ہوگی۔ یہ وہی طلبہ تنظیم ہے جو 2019 اور 2020 کے بلیک سمر کے جنگلاتی آگ کے بحران کے دوران کلاسوں سے واک آؤٹ کر کے سامنے آئی تھی۔ منتظمین نے مختلف تنظیموں سے ریلی کی حمایت اور توثیق کی اپیل بھی کی ہے تاکہ کاپ31 سے پہلے ایک مضبوط عوامی آواز اٹھائی جا سکے۔
ریلی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ صرف نئے وعدوں اور مقررہ تاریخوں کے اعلانات کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے بقول، لیبر حکومت کو کوئلے اور گیس کے ایسے منصوبوں کی منظوری فوراً روکنی چاہیے جو ملک کے کاربن اثرات میں اضافہ کر رہے ہیں، اور کاپ31 میں ایسے اہداف پیش نہیں کیے جانے چاہئیں جو صرف کاغذ پر اچھے لگیں۔
تین بنیادی مطالبات
طلبہ نے حکومت کے سامنے تین واضح مطالبات رکھے ہیں جنہیں وہ اس ریلی کے ذریعے اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔
نئے اور توسیع شدہ کوئلے اور گیس کی کانوں کا خاتمہ
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ کوئلے اور گیس کی نئی کانوں اور موجودہ منصوبوں کی توسیع کو مکمل طور پر روکا جائے۔ منتظمین کے مطابق اس سے فوسل فیول کی پیداوار اور ان کی برآمد کا سلسلہ رکے گا، جس سے دنیا بھر میں خطرناک اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کوئلے اور گیس کے شعبے کے لیے پابند اخراج کے اہداف
دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ کوئلے اور گیس کے شعبے کے لیے قانونی طور پر پابند اخراج کے اہداف مقرر کیے جائیں، تاکہ کمپنیاں رضاکارانہ وعدوں کے بجائے قابل نفاذ حدوں کی پابند ہوں۔
متاثرہ کمیونٹیز کے لیے مناسب فنڈنگ کے ساتھ منصفانہ منتقلی
تیسرا مطالبہ فوسل فیول کے خاتمے سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے لیے ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جلد خاتمے کے ساتھ مقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری، کوئلے اور گیس کے کارکنوں کی دوبارہ تربیت اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کے ذریعے روزگار کے طویل مدتی مواقع محفوظ کیے جائیں۔

یہ ماحولیاتی احتجاج کیوں ہو رہا ہے
منتظمین کے مطابق احتجاج کی بڑی وجہ حکومت کی پالیسی اور عمل میں فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے لیبر حکومت نے 37 فوسل فیول منصوبوں کی منظوری دی ہے یا ان میں توسیع کی ہے۔ ان منصوبوں میں مغربی آسٹریلیا میں وڈ سائڈ کا نارتھ ویسٹ شیلف گیس برآمدی منصوبہ (2070 تک)، وکٹوریہ کے اوٹویز کے قریب نئی گیس کی کھدائی (2045 تک)، گلین کور کا اولان کول منصوبہ (2035 تک)، کوئینز لینڈ میں مڈل ماؤنٹ کوئلہ کان کی توسیع (2053 تک)، گیس برآمدی تنصیبات کے لیے 1695 نئے گیس کنوؤں کی کھدائی (2081 تک) اور بی ایچ پی کی سراجی کوئلہ کان کی توسیع (2063 تک) شامل ہیں۔
تازہ ترین محرک 30 ستمبر کو نیو ساؤتھ ویلز کے آزاد منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے ہنٹر ویلی آپریشنز کے تسلسل کے منصوبے کی منظوری ہے۔ منتظمین کے مطابق اس دیوہیکل کوئلہ کان سے مزید 80 کروڑ ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوگا۔ کلائمیٹ کونسل کے رکن اور فائر اینڈ ریسکیو نیو ساؤتھ ویلز کے سابق کمشنر گریگ ملنز نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ اس کی قیمت ریاست کی ہر کمیونٹی کو چکانی پڑے گی، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو ماحولیاتی آلودگی سے بڑھتی ہوئی آگ اور سیلاب سے ابھی تک سنبھل نہیں پائے۔ ان کے بقول، نیو ساؤتھ ویلز جو کوئلہ برآمد کرتا ہے، وہی جنگلاتی آگ، سیلاب، گرمی کی لہروں اور خشک سالی کی صورت میں واپس آتا ہے۔
لیبر حکومت نے 2035 تک 2005 کی سطح کے مقابلے میں اخراج میں 62 سے 70 فیصد کمی اور 2050 تک خالص صفر اخراج کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن کلائمیٹ کونسل جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ رفتار پیرس معاہدے کے تحت درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔ آسٹریلیا کو دنیا کے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
کاپ31 میں آسٹریلیا کا کردار
یہ احتجاج اس وقت ہو رہا ہے جب آسٹریلیا نومبر میں ترکیہ کے ساتھ مل کر کاپ31 کی مشترکہ میزبانی کرنے جا رہا ہے اور مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ آسٹریلیا اس موقع پر قیادت کا مظاہرہ کرے اور فوسل فیول کی برآمدات کی توسیع کو روکے۔ منتظمین اس ریلی کو عوامی توجہ کو دوبارہ مرکوز کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، جو اتنی مضبوط ہو کہ حکومت کو حقیقی اقدامات پر مجبور کر سکے۔
ماحولیاتی جدوجہد سے متعلق مزید خبریں یہاں پڑھیں
نتیجہ
سڈنی کے طلبہ کی 24 اکتوبر کی ریلی محض ایک احتجاج نہیں بلکہ کاپ31 سے پہلے حکومت کو اس کی ماحولیاتی پالیسیوں کا حساب دینے کی ایک منظم کوشش ہے۔ تین واضح مطالبات، فوسل فیول منصوبوں کی منظوریوں کا ریکارڈ اور مشترکہ میزبان کی حیثیت سے آسٹریلیا کی ذمہ داری — یہ سب مل کر اس احتجاج کو آنے والے موسمیاتی مذاکرات کے تناظر میں خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ نوجوان آواز حکومت کو وعدوں سے آگے بڑھ کر عمل کی جانب لے جا سکے گی۔

















