واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ماضی کے انتخابات یا آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ووٹ میں دھاندلی کی ایسی اطلاع دینے والے کو دس لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ذمہ دار شخص کی گرفتاری اور عدالت سے سزا ہو جائے۔ یہ اعلان وسط مدتی انتخابات سے صرف آٹھ روز پہلے سامنے آیا ہے، جن میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان 26 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تحریر کے ذریعے کیا، اور اس کے کچھ دیر بعد صحافیوں سے گفتگو میں بھی اسے دہرایا۔ اس وقت وہ مسی سیپی کے شہر کورنتھ میں ایک انتخابی جلسے کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ان کی تحریر میں کہا گیا کہ ماضی کے انتخابات یا آئندہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ میں دھاندلی کی اطلاع دینے والے کو دھاندلی کرنے والے کی گرفتاری اور سزا پر دس لاکھ ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
اہم نکات
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 اکتوبر کو ووٹ میں دھاندلی کی اطلاع پر دس لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا۔
- انعام صرف اس صورت میں ملے گا جب اطلاع کے نتیجے میں گرفتاری اور عدالت سے سزا دونوں ہو جائیں۔
- یہ پیشکش ماضی کے انتخابات اور تین نومبر کو ہونے والے 2026 کے وسط مدتی انتخابات دونوں پر لاگو ہوگی۔
- انعام کی ادائیگی کے لیے فنڈ کا ذریعہ، ذمہ دار ادارہ یا درخواست کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں کیا گیا۔
- اس سے چھ روز پہلے 20 اکتوبر کو وفاقی پروگراموں میں دھوکہ دہی کی اطلاع پر دس ہزار سے تیس ہزار ڈالر تک انعام کا ایک الگ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔
اعلان کی تفصیل
صدر ٹرمپ نے اپنی تحریر میں کہا کہ ووٹ میں دھاندلی کی اطلاع دینے والے کو اس وقت دس لاکھ ڈالر دیے جائیں گے جب دھاندلی کرنے والے کو گرفتار کر کے عدالت سے سزا دلوائی جائے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے بونس یا انعام قرار دیا اور کہا کہ یہ رقم اس شخص کو دی جائے گی جس کی اطلاع سے کسی کی گرفتاری اور سزا ممکن ہو۔
اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اطلاع کہاں اور کیسے دی جائے، کس ادارے کو اس کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ کوئی دعویٰ انعام کا حقدار ہے یا نہیں، اور اگر ایک ہی معاملے میں کئی افراد اطلاع دیں تو رقم کس کو ملے گی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم سرکاری خزانے سے دی جائے گی یا صدر کی ذاتی وسائل سے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

علامتی تصویر: امریکہ میں ووٹ ڈالنے کا منظر
انعام کی شرائط اور غیر واضح پہلو
اس پیشکش کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ محض اطلاع دینا کافی نہیں ہوگا۔ رقم کی ادائیگی گرفتاری اور سزا دونوں سے مشروط ہے، یعنی اطلاع کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش، گرفتاری اور عدالت میں سزا کا پورا عمل مکمل ہونا ضروری ہوگا۔ یہ شرط اس پیشکش کو اس سے پہلے شروع کیے گئے پروگرام سے مختلف بناتی ہے، جس میں الزامات عائد ہونے پر ہی انعام دیا جا سکتا ہے۔
20 اکتوبر کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے وفاقی پروگراموں میں دھوکہ دہی کی اطلاع دینے والوں کے لیے ایک پروگرام کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت معلومات دینے والے کو دس ہزار سے تیس ہزار ڈالر تک مل سکتے ہیں اور اس پروگرام کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ نئی پیشکش کی رقم اس پروگرام سے کئی گنا زیادہ ہے، لیکن اس کے لیے سزا تک کا انتظار کرنا ہوگا۔
قانونی ماہرین اور انتخابی حکام کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ریاستی عدالتوں میں ہونے والی سزائیں بھی اس پیشکش میں شامل ہوں گی یا صرف وفاقی مقدمات شمار ہوں گے، اور انعام کی درخواستوں کا جائزہ کون لے گا۔ ان سوالات کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کا پس منظر اور ردعمل
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات تین نومبر کو ہوں گے، جن میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول طے ہوگا۔ اس وقت ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ریپبلکن جماعت کو معمولی اکثریت حاصل ہے، اور رائے عامہ کے جائزوں میں اس جماعت کو مشکلات کا سامنا دکھایا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں صدر کے اس اعلان کو انتخابی مہم کے آخری مرحلے کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں بھی انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کرتے رہے ہیں، جن میں 2020 کے انتخابات کے بارے میں ان کے دعوے بھی شامل ہیں۔ ان دعووں کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا اور وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ دوسری جانب انتخابی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ثابت شدہ ووٹر فراڈ کے واقعات کم ہوتے ہیں اور قومی انتخابات کے نتائج بدلنے کا ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی جانچ اور سخت اقدامات سے انتخابات پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انعام کا اعلان انتخابی عمل پر سوالات کھڑا کر سکتا ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے اطلاع دینے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ تاہم اس اعلان کے عملی پہلو واضح ہونے تک یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ پیشکش کس طرح نافذ ہوگی اور اس سے کتنے افراد مستفید ہو سکیں گے۔
مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا صفحہ ملاحظہ کریں۔































