LIVE
اہم خبر
میونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیںکاپ17 میں عالمی نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا مطالبہ: 12716 نوجوانوں کی نئی عالمی تحقیقسان فرانسسکو کی خلیج کے اوپر برقی فضائی ٹیکسی ‘مڈنائٹ’ کی آزمائشی پروازیں مکملبرازیل کے اٹلانٹک جنگل میں دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا منصوبہ مکملکاپ31 ایکشن ایجنڈا: 2035 تک بجلی کاری 35 فیصد، فضلے کی نمو آدھی کرنے کا ہدفہوائی: سمندری پلاسٹک اور ماہی گیری کے جالوں سے سڑکیں بنانے کا کامیاب تجربہشمسی توانائی سے پاکستان کی زراعت بدل رہی ہے، مگر زیرزمین پانی کو خطرہدبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی: ایک ہفتے میں 13.47 ارب درہم کے سودےکائلی جینر کا وکٹوریا سیکرٹ فیشن شو میں 50 ملین ڈالر کے ڈائمنڈ فینٹیسی برا کے ساتھ ریمپ ڈیبیودوشنبے میں اسحاق ڈار کی تاجک وزیراعظم سے ملاقات، قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربات شیئر کرنے کی پیشکشامریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپسعودی سفیر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت سے اطمینانکولکتہ کا ’جیون کاٹھی‘ درگا پوجا پنڈال: کوڑے سے بنایا گیا فن، سبز طرزِ زندگی کا پیغامتیسری سہ ماہی کا جائزہ: پاکستانی تفریحی صنعت میں نئی کامیابیاںجی ڈی پی گروتھ پر نظرثانی: مالی سال 26-2025 کی شرح نمو 3.65 فیصد مقررجنوبی آسٹریلیا کا بڑا فیصلہ: وائیلا کے قریب تقریباً 13 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کے چار منصوبےکاپ31 سے انسینیریٹرز باہر: گایا کی عالمی مہم، فضلہ جلانے کو موسمیاتی حل ماننے سے انکارہمارے فوجی بڑی دلیری کے ساتھ لڑ رہے ہیں: نواز شریف کا پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسینڈی جی آئی ایس پی آر: حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتاپالمٹو پرائیڈ کے 2026-27 کے 16 نوجوان سفیر: جنوبی کیرولائنا کو کوڑے سے پاک رکھنے کا عزممیونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیںکاپ17 میں عالمی نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا مطالبہ: 12716 نوجوانوں کی نئی عالمی تحقیقسان فرانسسکو کی خلیج کے اوپر برقی فضائی ٹیکسی ‘مڈنائٹ’ کی آزمائشی پروازیں مکملبرازیل کے اٹلانٹک جنگل میں دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا منصوبہ مکملکاپ31 ایکشن ایجنڈا: 2035 تک بجلی کاری 35 فیصد، فضلے کی نمو آدھی کرنے کا ہدفہوائی: سمندری پلاسٹک اور ماہی گیری کے جالوں سے سڑکیں بنانے کا کامیاب تجربہشمسی توانائی سے پاکستان کی زراعت بدل رہی ہے، مگر زیرزمین پانی کو خطرہدبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی: ایک ہفتے میں 13.47 ارب درہم کے سودےکائلی جینر کا وکٹوریا سیکرٹ فیشن شو میں 50 ملین ڈالر کے ڈائمنڈ فینٹیسی برا کے ساتھ ریمپ ڈیبیودوشنبے میں اسحاق ڈار کی تاجک وزیراعظم سے ملاقات، قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربات شیئر کرنے کی پیشکشامریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپسعودی سفیر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت سے اطمینانکولکتہ کا ’جیون کاٹھی‘ درگا پوجا پنڈال: کوڑے سے بنایا گیا فن، سبز طرزِ زندگی کا پیغامتیسری سہ ماہی کا جائزہ: پاکستانی تفریحی صنعت میں نئی کامیابیاںجی ڈی پی گروتھ پر نظرثانی: مالی سال 26-2025 کی شرح نمو 3.65 فیصد مقررجنوبی آسٹریلیا کا بڑا فیصلہ: وائیلا کے قریب تقریباً 13 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کے چار منصوبےکاپ31 سے انسینیریٹرز باہر: گایا کی عالمی مہم، فضلہ جلانے کو موسمیاتی حل ماننے سے انکارہمارے فوجی بڑی دلیری کے ساتھ لڑ رہے ہیں: نواز شریف کا پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسینڈی جی آئی ایس پی آر: حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتاپالمٹو پرائیڈ کے 2026-27 کے 16 نوجوان سفیر: جنوبی کیرولائنا کو کوڑے سے پاک رکھنے کا عزم
Climate

کاپ17 میں عالمی نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا مطالبہ: 12716 نوجوانوں کی نئی عالمی تحقیق

News Desk 6شائع شدہ 20 اکتوبر، 2026
کاپ17 میں عالمی نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا مطالبہ: 12716 نوجوانوں کی نئی عالمی تحقیق
Share this story

یریوان — اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے سربراہی اجلاس کاپ17 کے لیے عالمی رہنما یریوان میں جمع ہو رہے ہیں، اور اسی موقع پر 12716 نوجوانوں پر مبنی نئی عالمی تحقیق سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کا مطالبہ پہلے سے کہیں زیادہ زور پکڑ چکا ہے: 13 سے 29 سال کے 10 میں سے 6 سے زائد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ تین سال پہلے کے مقابلے حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر زیادہ فکر مند ہیں، جبکہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے نصف نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ بحران ان کی زندگیوں اور اہم فیصلوں — بشمول بچے پیدا کرنے کے فیصلے — پر پہلے ہی اثر ڈال رہا ہے۔

اسٹیٹ آف یوتھ گلوبل پریفرینڈم نامی یہ تحقیق 19 اکتوبر 2026 کو کاپ17 سے پہلے بچوں کے حقوق کی تنظیم کڈز رائٹس نے جاری کی ہے، اور یہ نوجوانوں اور حیاتیاتی تنوع پر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی تحقیقات میں سے ایک ہے۔ اس تحقیق کو آزاد تحقیقی ادارے گلوکیلٹیز نے مربوط کیا، اور اس میں سات قومی نمائندہ پینلز — برازیل، چین، کولمبیا، ایتھوپیا، جرمنی، کینیا اور امریکہ کے 2189 نوجوان — کے ساتھ ساتھ 77 ممالک کے 10527 نوجوانوں کے ایک کھلے سروے کو شامل کیا گیا ہے۔

اہم نکات

  • 12716 نوجوانوں نے حصہ لیا جن کی عمریں 13 سے 29 سال کے درمیان تھیں: برازیل، چین، کولمبیا، ایتھوپیا، جرمنی، کینیا اور امریکہ کے سات قومی نمائندہ پینلز کے ذریعے 2189، اور 77 ممالک میں کھلے سروے کے ذریعے 10527 نوجوان۔
  • 10 میں سے 6 سے زائد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ تین سال پہلے کے مقابلے حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر زیادہ فکر مند ہیں۔
  • 18 سال یا اس سے زائد عمر کے نصف نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا نقصان ان کی زندگیوں اور اہم فیصلوں پر پہلے ہی اثر ڈال رہا ہے، بشمول بچے پیدا کرنے کا فیصلہ۔
  • نصف سے زائد نوجوانوں کا ماننا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے — لیکن تین میں سے ایک سے بھی کم نوجوان حکومتوں پر مؤثر قیادت کا اعتماد رکھتے ہیں۔ کھلے سروے میں صرف 13 فیصد نے حکومتوں پر اعتماد ظاہر کیا۔
  • 97 فیصد نوجوان اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ انہیں اپنے خیالات کو عمل میں بدلنے کے لیے مزید مدد اور وسائل درکار ہیں؛ 10 میں سے تقریباً 8 کا ماننا ہے کہ وہ واقعی فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
  • جن نوجوانوں نے حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، ان میں سے دو تہائی سے زائد سخت حیاتیاتی تنوع کے قوانین چاہتے ہیں جن پر صحیح طریقے سے عمل درآمد ہو، اور نصف سے زائد مزید قدرتی علاقوں کا تحفظ اور پائیدار انتخاب کو آسان اور سستا بنانے کے خواہاں ہیں۔

اسٹیٹ آف یوتھ گلوبل پریفرینڈم کے اہم نتائج

یہ تحقیق ایک ایسی نسل کی تصویر پیش کرتی ہے جو گہری فکر میں ہے لیکن ہمت نہیں ہاری۔ صرف تین سال میں حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر تشویش میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور بڑی عمر کے جواب دہندگان کے لیے یہ بحران اب کوئی دور کی بات نہیں: نصف نوجوان بالغوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر پہلے ہی اثر انداز ہو رہا ہے۔

کاپ17 کا افتتاح اس ہفتے یریوان میں حیاتیاتی تنوع کے وعدوں کو عمل میں بدلنے کی اپیل کے ساتھ ہوا، جہاں مذاکرات کار کُنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ شروع کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق اسی بحث میں براہ راست اترتی ہے: نوجوان فطرت کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں — انہیں صرف اپنے خیالات کو عمل میں بدلنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے۔

اعتماد کا فقدان: حکومتیں ذمہ دار مگر ناقابل اعتماد

شاید تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا نتیجہ اعتماد کے بارے میں ہے۔ نصف سے زائد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومتوں پر ہے، پھر بھی تین میں سے ایک سے بھی کم نوجوانوں کو یقین ہے کہ حکومتیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مؤثر قیادت کر سکتی ہیں۔ کھلے سروے میں، جہاں شرکاء خود سے شامل ہوئے، عدم اعتماد اور بھی گہرا تھا: صرف 13 فیصد نے کہا کہ وہ حکومتوں پر قیادت کا اعتماد رکھتے ہیں۔

اس کے باوجود نوجوان انگلی صرف دوسروں کی طرف نہیں اٹھاتے۔ وہ خود کو اور عالمی شہریوں کو بھی حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں — اور 97 فیصد کہتے ہیں کہ وہ اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، بشرطیکہ انہیں مزید مدد اور وسائل ملیں۔ 10 میں سے تقریباً 8 کا ماننا ہے کہ وہ واقعی فرق پیدا کر سکتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا رخ موڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

غروب آفتاب کے وقت حیاتیاتی تنوع سے بھرپور دلدلی علاقہ — وہ فطرت جس کا تحفظ نوجوان چاہتے ہیں
غروب آفتاب کے وقت حیاتیاتی تنوع سے بھرپور ایک دلدلی علاقہ — وہ فطرت جس کا تحفظ دنیا کے نوجوان چاہتے ہیں۔

نوجوانوں کا حیاتیاتی تنوع کا مطالبہ کیوں بڑھ رہا ہے

عالمی رہنماؤں کے لیے نوجوانوں کی ترجیحات واضح ہیں۔ جن نوجوانوں نے حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، ان میں سے دو تہائی سے زائد سخت حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی قوانین چاہتے ہیں جن پر صحیح طریقے سے عمل درآمد ہو، جبکہ نصف سے زائد مزید قدرتی علاقوں کا تحفظ اور پائیدار انتخاب کو سب کے لیے آسان اور سستا بنانے کے خواہاں ہیں۔

اس پیغام کو یونیسف کی حمایت بھی حاصل ہے، جس نے 16 اکتوبر کو کاپ17 کے لیے اپنے بیان میں حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کو حیاتیاتی تنوع کے اقدامات کے مرکز میں رکھیں — خبردار کرتے ہوئے کہ حیاتیاتی تنوع کا نقصان، موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی بچوں کے حقوق، صحت اور فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یونیسف نے مطالبہ کیا کہ بچوں کے حقوق کو قومی حیاتیاتی تنوع کی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے، بچوں کے لیے مؤثر اقدامات کے لیے مزید مالی وسائل فراہم کیے جائیں، اور نوجوان ماحولیاتی فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت کریں۔

کاپ17: حیاتیاتی تنوع کا پہلا عالمی جائزہ

کاپ17 یریوان میں 19 سے 30 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا اور بین الاقوامی حیاتیاتی تنوع کے وعدوں کو آگے بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے، جس میں کُنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ بھی شامل ہے۔ سربراہی اجلاس سے ٹھیک پہلے، یریوان میں فطرت کے لیے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے یریوان اعلامیہ اپنایا، جس میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور الٹنے اور 2050 تک فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنے کے عزم کی تجدید کی گئی۔

نتیجہ

کڈز رائٹس کی تحقیق کاپ17 کے مذاکرات کاروں کو اس نسل کی طرف سے واضح مینڈیٹ دیتی ہے جو ان کے فیصلوں کے ساتھ سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہے گی: نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ فکر مند ہیں، وہ حکومتوں کے تنہا عمل کرنے پر اعتماد نہیں رکھتے، اور وہ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں — بشرطیکہ انہیں مدد، وسائل اور فیصلہ سازی کی میز پر حقیقی جگہ دی جائے۔ 10 میں سے تقریباً 8 کا ماننا ہے کہ وہ حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا رخ موڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یریوان کا سربراہی اجلاس انہیں یہ موقع دے گا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

میونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیںماحولیات

میونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیں

میونخ میں پہلا میونخ کلائمیٹ ویک 19 اکتوبر 2026 کو شروع ہوا ہے، اور اسی دوران اسپین کے باسک علاقے میں بھی موسمیاتی اور توانائی کا ہفتہ جاری ہے — یہ اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی آگاہی کانفرنس ہالوں سے نکل کر شہروں کی گلیوں تک پہنچ رہی ہے، اور یہ سب کاپ31

مزید پڑھیں
سان فرانسسکو کی خلیج کے اوپر برقی فضائی ٹیکسی ‘مڈنائٹ’ کی آزمائشی پروازیں مکملماحولیات

سان فرانسسکو کی خلیج کے اوپر برقی فضائی ٹیکسی ‘مڈنائٹ’ کی آزمائشی پروازیں مکمل

آرچر ایوی ایشن نے اپنی مکمل برقی فضائی ٹیکسی 'مڈنائٹ' کی سان فرانسسکو کی خلیج کے گرد ایک ہفتے کی آزمائشی پروازیں مکمل کر لی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ کی کار کی مسافت ایک خاموش دس منٹ کی پرواز میں تبدیل ہو سکتی ہے — بغیر کسی اخراج

مزید پڑھیں
برازیل کے اٹلانٹک جنگل میں دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا منصوبہ مکملماحولیات

برازیل کے اٹلانٹک جنگل میں دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا منصوبہ مکمل

واشنگٹن ڈی سی — برازیل کے اٹلانٹک جنگل میں مقامی برادریوں کے ساتھ دس لاکھ سے زائد مقامی درخت لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ فارسٹ ٹرینڈز اور آربور ڈے فاؤنڈیشن کے مشترکہ منصوبے آربورڈو کے تحت ساؤ پالو ریاست کی ریبیرا اور پارائیبا وادیوں میں 2023 سے اب تک 1015594 درخت

مزید پڑھیں
کاپ31 ایکشن ایجنڈا: 2035 تک بجلی کاری 35 فیصد، فضلے کی نمو آدھی کرنے کا ہدفماحولیات

کاپ31 ایکشن ایجنڈا: 2035 تک بجلی کاری 35 فیصد، فضلے کی نمو آدھی کرنے کا ہدف

کاپ31 صدارت نے انطالیہ اجلاس کو «نفاذی کاپ» قرار دیا ہے — دس موضوعات اور 2035 تک کے چھ عالمی اہداف پر مشتمل ایکشن ایجنڈا۔ (تصویر: وطن نیوز) کاپ31 کے انطالیہ، ترکیہ میں آغاز سے تین ہفتے قبل اجلاس کی صدارت نے ٹھوس اعداد پیش کر دیے ہیں: کاپ31 ایکشن ایجنڈے میں 2035 تک کے

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

میونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیں
نمایاں خبر

میونخ میں پہلا کلائمیٹ ویک: یورپی شہر موسمیاتی آگاہی کو گلیوں تک لے جا رہے ہیں

میونخ میں پہلا میونخ کلائمیٹ ویک 19 اکتوبر 2026 کو شروع ہوا ہے، اور اسی دوران اسپین کے باسک علاقے میں بھی موسمیاتی اور توانائی کا ہفتہ جاری ہے — یہ اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی آگاہی کانفرنس ہالوں سے نکل کر شہروں کی گلیوں تک پہنچ رہی ہے، اور یہ سب کاپ31

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں
ایکویالٹی فنڈ کی پہلی صحافتی فیلوشپ: گلوبل ساؤتھ کے صحافیوں سے درخواستوں کا آغاز
گرین جرنلزم

ایکویالٹی فنڈ کی پہلی صحافتی فیلوشپ: گلوبل ساؤتھ کے صحافیوں سے درخواستوں کا آغاز

کینیڈا۔ ایکویالٹی فنڈ نے اپنی پہلی صحافتی فیلوشپ کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ یہ فیلوشپ گلوبل ساؤتھ کے ان صحافیوں کے لیے ہے جو عالمی بحرانوں کے مقامی حل پر صنفی نقطہ نظر کے ساتھ رپورٹنگ کرتے ہیں — اور موسمیاتی بحران بھی انہی بحرانوں میں شامل ہے۔ یہ فیلوشپ کینیڈین جرنلسٹس فار

مکمل خبر پڑھیں
ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ
گرین جرنلزم

ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027 کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں۔ یہ آٹھ ماہ کا پروگرام امریکہ کے دس مقامی اور علاقائی صحافیوں کو ان کی اپنی کمیونٹی میں موسمیاتی حلول پر رپورٹنگ کے لیے فی کس 7500 ڈالر معاوضہ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔