آسٹریلوی وزیر خزانہ جم چیمبرز نے خبردار کیا ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر وفاقی بجٹ پر دباؤ میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت دسمبر میں آنے والے وسط سالانہ اقتصادی و مالیاتی جائزے سے پہلے آسٹریلیا بجٹ کٹوتیاں کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔ اتوار کو اے بی سی کے پروگرام ان سائیڈرز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری طویل تنازعے اور عالمی سطح پر بڑھتی مہنگائی نے آسٹریلوی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم ان کے مطابق ملک میں کساد بازاری کی توقع نہیں ہے۔
اہم نکات
- انتباہ: وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ پر “انتہائی بڑا اور بڑھتا ہوا” دباؤ ہے
- مہنگائی: اگست تک سالانہ شرح 4 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس سے پہلے 3.5 فیصد تھی
- شرح سود: ریزرو بینک نے بنیادی شرح بڑھا کر 4.6 فیصد کر دی — 2011 کے بعد بلند ترین سطح
- بچت: مئی کے بجٹ میں چار سال کے دوران 44.9 ارب ڈالر کی بچت کی نشاندہی ہو چکی ہے
- اگلا قدم: دسمبر کے وسط سالانہ جائزے میں مزید بچت کے راستے تلاش کیے جائیں گے؛ کساد بازاری کی توقع نہیں
مشرق وسطیٰ کا تنازعہ اور تیل کی رسد پر دباؤ
جم چیمبرز نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں ایران کے خلاف آٹھ ماہ سے جاری جنگ نے تیل کی عالمی رسد کو شدید متاثر کیا ہے، اور انہوں نے اس صورتحال کو زندگی گزارنے کے اخراجات کے لیے “تباہ کن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازعہ جتنا طول پکڑے گا، عالمی معیشت اور آسٹریلوی معیشت پر اتنا ہی بڑا اثر پڑے گا — مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑے گی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی معیشت کے لیے اس وقت سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔

آسٹریلیا بجٹ کٹوتیاں اور دسمبر کا منصوبہ
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت دسمبر میں آنے والے وسط سالانہ اقتصادی و مالیاتی جائزے کے تحت بجٹ میں مزید بچت کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ مئی میں پیش کیے گئے بجٹ میں پہلے ہی چار سال کے دوران 44.9 ارب ڈالر کی بچت کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ چیمبرز نے حکومتی اخراجات پر تنقید کرنے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ بتائیں کہ کن خدمات میں کٹوتی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ نہیں چاہتے کہ حکومت میڈیکیئر کو مضبوط کرے، انکم ٹیکس میں کمی کرے یا زندگی گزارنے کے اخراجات میں کسی اور طرح ریلیف دے، تو انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ یہ کٹوتیاں کہاں سے کی جائیں۔ وفاقی بجٹ پر عالمی دباؤ کے اثرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ نجی شعبے پر تنقید
جم چیمبرز نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی میں اضافے کی واحد وجہ حکومتی اخراجات نہیں ہیں۔ انہوں نے مہنگائی بڑھانے کا جزوی ذمہ دار نجی شعبے کو ٹھہرایا۔ ان کے مطابق آسٹریلوی معیشت میں مجموعی طلب کا صرف پانچواں حصہ سرکاری شعبے سے آتا ہے جبکہ چار پانچواں حصہ نجی شعبے سے، اس لیے بجٹ کی ترتیبات قیمتوں میں اضافے کی بنیادی محرک نہیں ہیں۔

کساد بازاری کا خدشہ نہیں، لیکن خطرات برقرار
وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کا اثر آسٹریلوی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے، خاص طور پر مہنگائی اور ترقی کی رفتار میں کمی کے حوالے سے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا: “ہم آسٹریلیا میں کساد بازاری کی توقع نہیں کر رہے، لیکن عالمی ترقی پر یقینی طور پر اس کا بوجھ پڑ رہا ہے، اور ہم اس سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔”
نتیجہ
عالمی اقتصادی بحران کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر آسٹریلوی حکومت کے لیے بجٹ میں کٹوتیاں ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ جم چیمبرز نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات عالمی دباؤ اور بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں اٹھائے جا رہے ہیں، اور ناقدین کو متبادل بھی بتانا ہوگا۔ اگرچہ کساد بازاری کا فوری خدشہ نہیں، لیکن معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے سخت فیصلوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔


























