بھارت کی سب سے بڑی سیمنٹ کمپنی الٹراٹیک نے صاف توانائی کے میدان میں ایک نیا تاریخ ساز سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کی مجموعی نصب شدہ سبز توانائی کی صلاحیت 2024 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس کے ساتھ وہ بھارت کی پہلی سیمنٹ کمپنی بن گئی ہے جس نے اپنی ضرورت کے لیے 2 گیگاواٹ سے زائد سبز توانائی کی صلاحیت نصب کی ہے۔
اہم نکات
- الٹراٹیک نے راجستھان کے بارمیر میں بادی اور شمسی ہائبرڈ منصوبے کی 116.55 میگاواٹ بادی صلاحیت نصب کی ہے۔
- کرناٹک کے سارلانگر سیمنٹ ورکس میں فضلہ حرارت کی بازیافت کے نظام کی 10 میگاواٹ صلاحیت بھی شامل ہوئی ہے۔
- مجموعی سبز توانائی کی صلاحیت 2024 میگاواٹ ہو گئی: 1580 میگاواٹ قابل تجدید توانائی اور 444 میگاواٹ فضلہ حرارت کی بازیافت۔
- یہ صلاحیت کمپنی کی موجودہ بجلی کی ضروریات کا تقریباً 48 فیصد پوری کرتی ہے۔
- مالی سال 27 میں اب تک بھارت کے 76 یونٹوں میں سے تقریباً ایک تہائی یونٹوں میں سبز توانائی کا استعمال 50 فیصد سے زائد رہا؛ پانچ یونٹوں میں یہ 95 فیصد سے بھی بڑھ گیا۔
- 2030 تک بجلی کے مجموعی مرکب میں 85 فیصد سبز توانائی کا ہدف؛ آر ای 100 کے رکن کی حیثیت سے 2050 تک 100 فیصد قابل تجدید بجلی کا عزم۔
صاف توانائی کی جانب بڑا قدم
پانچ اکتوبر 2026 کو کیے گئے اعلان کے مطابق الٹراٹیک — جو آدتیہ برلا گروپ کا حصہ ہے اور چین کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی سیمنٹ کمپنی ہے — نے بارمیر میں بین ریاستی ترسیلی نظام سے منسلک بادی و شمسی ہائبرڈ منصوبے میں 116.55 میگاواٹ بادی صلاحیت کا افتتاح کیا۔ اسی کے ساتھ سارلانگر سیمنٹ ورکس، کرناٹک میں فضلہ حرارت کی بازیافت کے نظام کی 10 میگاواٹ اضافی صلاحیت بھی چالو کی گئی۔ ان دونوں کے بعد کمپنی کی مجموعی نصب شدہ سبز توانائی کی صلاحیت 2024 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
مجموعی صلاحیت کی تفصیل
کمپنی کے توانائی کے ذخیرے میں اب 1580 میگاواٹ قابل تجدید توانائی اور 444 میگاواٹ فضلہ حرارت کی بازیافت کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ دونوں مل کر کمپنی کی موجودہ بجلی کی ضروریات کا تقریباً 48 فیصد پورا کرتی ہیں۔ الٹراٹیک اس طرح بھارت کی پہلی سیمنٹ کمپنی بن گئی ہے جس نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے 2 گیگاواٹ سے زائد سبز توانائی کی صلاحیت نصب کی ہے۔
| توانائی کا جزو | صلاحیت |
|---|---|
| قابل تجدید توانائی | 1580 میگاواٹ |
| فضلہ حرارت کی بازیافت | 444 میگاواٹ |
| مجموعی سبز توانائی | 2024 میگاواٹ |
| بجلی کی ضروریات کا حصہ | 48 فیصد |

دہائی بھر کی حکمت عملی کا ثمر
کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے سی جھانور کے مطابق 2 گیگاواٹ کا یہ سنگ میل گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل اپنائی گئی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ ایک توانائی طلب اور مشکل سے صاف ہونے والا شعبہ ہے؛ اب جب بجلی کی تقریباً نصف ضروریات سبز توانائی سے پوری ہو رہی ہیں تو کمپنی جیواشم ایندھن کی فراہمی کی رکاوٹوں اور بجلی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے خطرات سے نمایاں حد تک محفوظ ہو گئی ہے۔
مالی سال 26 کے دوران کمپنی نے 430 میگاواٹ سبز توانائی کی صلاحیت نصب کی تھی۔ مالی سال 27 میں اب تک بھارت میں اس کے 76 یونٹوں میں سے تقریباً ایک تہائی یونٹوں میں سبز توانائی کا استعمال بجلی کی ضرورت کا 50 فیصد سے زائد رہا، جبکہ پانچ یونٹوں میں یہ حصہ 95 فیصد سے بھی بڑھ گیا۔ کمپنی تیزی سے بیٹری سے بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) بھی نصب کر رہی ہے۔
پہلا چوبیس گھنٹے کا ہائبرڈ منصوبہ
2025 میں الٹراٹیک نے گجرات کے سیواگرام سیمنٹ ورکس میں بھارت کا پہلا شمسی، بادی اور بیٹری ذخیرہ پر مبنی چوبیس گھنٹے کام کرنے والا قابل تجدید توانائی کا منصوبہ چالو کیا تھا، جو بھاری صنعت میں اس ٹیکنالوجی کی عملی کامیابی کی مثال بنا۔

2030 اور 2050 کے اہداف
کمپنی کا ہدف ہے کہ 2030 تک اس کی بجلی کے مجموعی مرکب میں سبز توانائی کا حصہ 85 فیصد تک پہنچ جائے۔ آر ای 100 کی رکنیت کے تحت الٹراٹیک 2050 تک اپنی 100 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ کمپنی ایک دہائی سے زائد عرصے سے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے کوئی نیا تھرمل بجلی کا منصوبہ نہیں لگا رہی۔
نتیجہ
الٹراٹیک کا 2 گیگاواٹ کا سنگ میل یہ ثابت کرتا ہے کہ بھاری صنعت بھی صاف توانائی کی طرف تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ بجلی کی تقریباً نصف ضرورت سبز ذرائع سے پوری کرنا نہ صرف ماحولیات کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے — اور 2030 کا 85 فیصد ہدف اس سمت میں اگلا بڑا قدم ہو گا۔
عمومی سوالات
الٹراٹیک نے کتنی سبز توانائی کی صلاحیت نصب کی ہے؟
کمپنی کی مجموعی نصب شدہ سبز توانائی کی صلاحیت 2024 میگاواٹ ہے، جس میں 1580 میگاواٹ قابل تجدید توانائی اور 444 میگاواٹ فضلہ حرارت کی بازیافت کی صلاحیت شامل ہے۔
کیا الٹراٹیک بھارت کی پہلی سیمنٹ کمپنی ہے جو اس سنگ میل تک پہنچی؟
جی ہاں، الٹراٹیک بھارت کی پہلی سیمنٹ کمپنی ہے جس نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے 2 گیگاواٹ سے زائد سبز توانائی کی صلاحیت نصب کی ہے۔
کمپنی کے مستقبل کے اہداف کیا ہیں؟
2030 تک بجلی کے مجموعی مرکب میں 85 فیصد سبز توانائی کا ہدف ہے، جبکہ آر ای 100 کی رکنیت کے تحت 2050 تک 100 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔
سبز توانائی سے کمپنی کو کیا فائدہ ہوا؟
تقریباً 48 فیصد بجلی کی ضرورت سبز ذرائع سے پوری ہونے سے کمپنی جیواشم ایندھن کی فراہمی کی رکاوٹوں اور بجلی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نمایاں حد تک محفوظ ہو گئی ہے۔
ماحولیات سے متعلق مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔




















