ریمکو ایونپول نے اتوار کو سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں یورپی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کی مردوں کی ایلیٹ روڈ ریس جیت لی۔ بیلجیم کے اولمپک چیمپئن نے تقریباً 196 کلومیٹر طویل دوڑ 4 گھنٹے 16 منٹ 37 سیکنڈ میں مکمل کی اور اٹلی کے جولیو چیکونے کو انتہائی سنسنی خیز فوٹو فنش میں شکست دی۔ دونوں سوار ایک ہی وقت کے ساتھ اختتامی لکیر عبور کر گئے، جبکہ اٹلی کے ہی کرسٹین سکارونی نے 59 سیکنڈ کے فرق سے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
اہم نکات
- مقابلہ: یورپی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ 2026 — مردوں کی ایلیٹ روڈ ریس
- تاریخ و مقام: اتوار، 4 اکتوبر 2026 — لیوبلیانا، سلووینیا
- فاصلہ و وقت: تقریباً 196 کلومیٹر؛ جیت کا وقت 4 گھنٹے 16 منٹ 37 سیکنڈ
- پوڈیم: طلائی — ریمکو ایونپول (بیلجیم)؛ چاندی — جولیو چیکونے (اٹلی، وہی وقت)؛ کانسی — کرسٹین سکارونی (اٹلی، 59 سیکنڈ پیچھے)
- فیصلہ کن موڑ: 37 کلومیٹر باقی رہتے ایونپول کا حملہ؛ حملے کے چند لمحوں بعد گرنے کے باوجود شاندار واپسی
- دفاعی چیمپئن: تادی پوگاچار اس بار دوڑ میں شریک نہیں تھے
- پس منظر: یہ دوڑ مونٹریال میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ہوئی، جہاں امریکا کے برینڈن میک نلٹی نے طلائی تمغہ جیتا تھا
یورپی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا فیصلہ کن حملہ
بیلجیم کی ٹیم نے سارا دن دوڑ کو اپنے قابو میں رکھا اور ہر حملے کو ناکام بنایا۔ پھر تقریباً 37 کلومیٹر باقی رہتے ایونپول نے فیصلہ کن حملہ کیا اور صرف چیکونے ہی ان کے پہیے پر رہ سکے۔ ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب حملے کے چند لمحوں بعد ایونپول ایک موڑ پر پھسل کر گر پڑے — لیکن وہ فوراً سنبھلے، واپس آئے اور چند کلومیٹر بعد دوبارہ حملہ کر کے چیکونے کے ساتھ سب سے آگے نکل گئے۔

لیوبلیانا سے شروع ہونے والی دوڑ شینچور کے مقامی سرکٹ پر ختم ہوئی، جہاں سواروں کو 2.1 کلومیٹر طویل اور اوسطاً 10 فیصد ڈھلوان والی موژانکا چڑھائی پانچ مرتبہ عبور کرنا پڑی۔ آخری چڑھائی پر دونوں سوار اکٹھے رہے اور اختتامی لکیر کی جانب بڑھتے رہے۔
آخری میٹروں میں فوٹو فنش کا سنسنی خیز مقابلہ
آخری 10 کلومیٹر میں چیکونے نے آگے نکل کر ہوا چیرنے سے انکار کر دیا، جس پر ایونپول نے مایوسی کا اظہار بھی کیا۔ آخری 300 میٹر کے موڑ پر ایونپول سب سے آگے تھے، لیکن چیکونے اندرونی لائن سے نکل کر آگے ہو گئے اور یوں لگا جیسے جیت ان کی جھولی میں ہے۔ اسی لمحے ایونپول نے زبردست رفتار پکڑی اور دونوں نے اپنی سائیکلیں لکیر کی طرف اچھالیں — نتیجہ اتنا قریبی تھا کہ دونوں کو تصدیق کا انتظار کرنا پڑا، پھر ایونپول خوشی سے چلائے جبکہ چیکونے مایوس رہ گئے۔

سکارونی کے حصے میں کانسی کا تمغہ
پیچھے رہ جانے والے گروپ سے اٹلی کے کرسٹین سکارونی نے 14 کلومیٹر باقی رہتے چھلانگ لگائی اور تیسری پوزیشن پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ وہ اختتامی لکیر فاتح سے 59 سیکنڈ پیچھے عبور کر کے کانسی کا تمغہ لے اڑے۔
عالمی چیمپئن شپ کے ایک ہفتے بعد یورپی تاج
یہ یورپی ٹائٹل مونٹریال میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ کے ٹھیک ایک ہفتے بعد آیا ہے۔ 27 ستمبر کو امریکا کے برینڈن میک نلٹی نے 273 کلومیٹر طویل دوڑ میں سب کو حیران کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا تھا — امریکا کا 33 سال بعد پہلا مردوں کا روڈ ریس عالمی ٹائٹل — جبکہ مائیکل میتھیوز اور میتھیو وین ڈر پول بالترتیب چاندی اور کانسی کے تمغے لے اڑے۔ دفاعی چیمپئن تادی پوگاچار وویلٹا میں لگنے والی چوٹوں کے باعث اپنا اعزاز بچانے نہیں آئے تھے، اور ایونپول آخری چکر میں تعاقب کی قیادت کے باوجود پہلے دس سواروں میں جگہ نہ بنا سکے تھے۔ لیوبلیانا کی جیت اس مایوسی کا بھرپور جواب تھی۔ کھیلوں کی مزید خبریں وطن نیوز کھیل سیکشن میں ملاحظہ کریں۔
ایونپول کے لیے ایک ادھورا خواب پورا
یورپی روڈ ریس کا طلائی تمغہ ایونپول کے تمغوں کے خزانے میں ایک کمی تھی۔ وہ 2021 میں سونی کولبریلی کے پیچھے چاندی کا تمغہ لے چکے تھے اور گزشتہ سال پوگاچار کے ہاتھوں پھر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اب 26 سال کی عمر میں انہوں نے یہ ٹائٹل بھی اپنے نام کر لیا ہے — پیرس اولمپکس کے روڈ ریس چیمپئن ہونے کے اعزاز کے ساتھ۔
نتیجہ
گرنے کے باوجود واپسی، دو سواروں کی سنسنی خیز جنگ اور فوٹو فنش پر فیصلہ — لیوبلیانا کی یہ دوڑ یورپی سائیکلنگ کی یادگار دوڑوں میں شمار ہوگی۔ ایونپول نے ثابت کر دیا کہ وہ دباؤ کے لمحوں میں بھی ہار نہیں مانتے، جبکہ چیکونے اور سکارونی نے اٹلی کے لیے دو تمغے یقینی بنائے۔ یورپ کی مزید خبریں وطن نیوز یورپ سیکشن میں پڑھیں۔

























