لندن: برطانوی حکومت نے اس خدشے کو مسترد کر دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے باعث برطانیہ میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ چانسلر جان ہیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور ملک کے پاس اپنے ایندھن کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 199.72 پنس فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اہم حقائق
- ٹرمپ کی دھمکی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی پر “بہت سنجیدگی سے” غور کر رہے ہیں؛ تاہم وائٹ ہاؤس نے 90 روزہ پابندی کے منصوبے کی خبروں کی تردید کی ہے، اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق امریکہ ڈیزل کی برآمدات بند نہیں کرے گا۔
- ریکارڈ قیمت: 30 ستمبر کو برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 199.72 پنس فی لیٹر رہی (آر اے سی) — یہ جون 2022 کے 199.09 پنس کے سابق ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے؛ پٹرول کی اوسط قیمت 174.13 پنس فی لیٹر ہے۔
- امریکی انحصار: 2025 میں برطانیہ کی ڈیزل درآمدات کا تقریباً 31 فیصد امریکہ سے آیا (محکمہ توانائی تحفظ، DESNZ)۔
- ہنگامی ذخائر: برطانیہ کے پاس تقریباً 42 دن کے ہنگامی ڈیزل ذخائر موجود ہیں۔
- فاولی ریفائنری: برطانیہ کی سب سے بڑی ریفائنری دس ہفتوں کی منصوبہ بند دیکھ بھال کے لیے بند ہے؛ اس کا انتظام سنبھالنے والی ایکسن موبل برطانیہ کے سڑک ایندھن کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتی ہے۔
- فیول ڈیوٹی: پٹرول اور ڈیزل پر فیول ڈیوٹی میں 5 پنس کی عارضی کٹوتی سال 2026 کے آخر تک برقرار رہے گی؛ یکم جنوری 2027 سے ڈیوٹی میں 3 پنس فی لیٹر اضافہ ہوگا۔
برطانیہ میں ڈیزل کی قلت کا خدشہ اور ٹرمپ کی دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اقوام متحدہ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ہمراہ کہا تھا کہ وہ اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ڈیزل کی برآمدات پر مکمل یا جزوی پابندی کا جائزہ لے رہے ہیں، اور 27 ستمبر کو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر “بہت سنجیدگی سے” غور کر رہے ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں۔
برطانوی چانسلر جان ہیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ امریکی حکام سے ممکنہ پابندی پر بات چیت کر رہا ہے اور اس خطرے کو “بہت سنجیدگی سے” لے رہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے پاس برطانیہ میں اپنے ذخائر موجود ہیں”۔ ان کے مطابق طویل مدتی حل ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر مبنی سفارتی تصفیہ ہوگا۔ دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ اگر پابندی عائد ہوئی تو وہ برطانیہ کے لیے استثنیٰ طلب کریں گے۔
محکمہ توانائی تحفظ (DESNZ) کے ترجمان نے کہا: “ہماری سپلائی متنوع اور لچکدار ہے۔ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں اور برطانیہ کی ایندھن کی صنعت سے رابطے میں ہیں۔” دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ “ہم امریکی ڈیزل کی برآمدات بند نہیں کریں گے”، جبکہ وائٹ ہاؤس نے پابندی کے منصوبے کی میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے۔
ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر
آر اے سی کے مطابق 30 ستمبر کو برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 199.72 پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے — اس سے قبل 28 ستمبر کو یہ 199.18 پنس تھی اور جون 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد قائم ہونے والا 199.09 پنس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ آر اے سی فاؤنڈیشن کے تجزیے کے مطابق ایک تہائی پٹرول اسٹیشنوں پر ڈیزل دو پاؤنڈ فی لیٹر سے بھی مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔
توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے برطانیہ کی کاروباری برادری میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ پٹرول کی اوسط قیمت بھی بڑھ کر 174.13 پنس فی لیٹر ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔

برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 30 ستمبر کو 199.72 پنس فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ (تصویر: وطن نیوز)
یورپ کے ساتھ ہنگامی مذاکرات
دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور آئرلینڈ کے حکام نے جمعرات کو ہنگامی اجلاس میں ڈیزل کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کی ممکنہ ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے جرمنی اور فرانس سے کہا تھا کہ وہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر استعمال کریں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ انتظامیہ کو توقع ہے کہ یورپ جلد ڈیزل کی نئی سپلائی کے بارے میں اعلانات کرے گا۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ اور چین سے ڈیزل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث عالمی سپلائی دباؤ کا شکار ہے۔
فاولی ریفائنری کی دس ہفتوں کی بندش
ہیمپشائر میں واقع فاولی ریفائنری — برطانیہ کی سب سے بڑی ریفائنری — ستمبر سے دسمبر 2026 تک دس ہفتوں کی منصوبہ بند دیکھ بھال کے لیے بند ہے۔ اس کا انتظام سنبھالنے والی ایکسن موبل برطانیہ کے سڑک ایندھن کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتی ہے، اس لیے اس بندش سے ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ دیکھ بھال کا کام محفوظ اور قابل اعتماد آپریشن کے لیے ضروری ہے، اور فاولی کے سمندری درآمدی ٹرمینل کے ذریعے تیار شدہ ایندھن درآمد کر کے صارفین کی سپلائی جاری رکھی جائے گی۔ یہ سائٹ ہیتھرو سمیت ایندھن کے ٹرمینلز اور ہوائی اڈوں سے براہ راست منسلک ہے۔ واضح رہے کہ 2025 میں گرینج ماؤتھ اور لنزے ریفائنریز کی بندش کے بعد برطانیہ کی گھریلو ریفائننگ صلاحیت مزید کم ہوئی ہے؛ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں گھریلو ریفائنریز نے برطانیہ کی سڑک ڈیزل کی طلب کا 54.9 فیصد پورا کیا تھا۔

ہیمپشائر کی فاولی ریفائنری برطانیہ کی سب سے بڑی ریفائنری ہے اور دس ہفتوں کی منصوبہ بند دیکھ بھال کے لیے بند ہے۔ (تصویر: وطن نیوز)
فیول ڈیوٹی میں 5 پنس کی کٹوتی برقرار
بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر فیول ڈیوٹی میں 5 پنس کی عارضی کٹوتی کو سال 2026 کے آخر تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہاؤس آف کامنز لائبریری کے مطابق مئی 2026 میں کیے گئے اس اعلان کے تحت یکم جنوری 2027 سے فیول ڈیوٹی میں 3 پنس فی لیٹر اضافہ ہوگا، اور مارچ 2027 تک 5 پنس کی کٹوتی مکمل طور پر واپس لے لی جائے گی۔
اس سے قبل بجٹ 2025 میں کٹوتی کو اگست 2026 تک بڑھایا گیا تھا اور ستمبر سے اسے مرحلہ وار واپس لینے کا منصوبہ تھا، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے اس میں توسیع کر دی۔
نتیجہ
برطانوی حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے خدشات کو بے بنیاد قرار دے رہی ہے اور عوام کو یقین دلا رہی ہے کہ ملک میں ڈیزل کی قلت کا کوئی امکان نہیں۔ چانسلر جان ہیلی کے مطابق حکومت امریکہ سے بات چیت کر رہی ہے، یورپی اتحادیوں کے ساتھ ہنگامی ذخائر پر مشاورت جاری ہے، اور ملک کے پاس تقریباً 42 دن کے ذخائر موجود ہیں۔
تاہم ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں، فاولی ریفائنری کی بندش اور امریکہ پر درآمدی انحصار کے باعث مارکیٹ دباؤ میں رہے گی۔ فیول ڈیوٹی میں کٹوتی کی توسیع سے صارفین کو عارضی ریلیف ملے گا، لیکن جنوری 2027 سے ڈیوٹی میں اضافے کا مطلب ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا مسئلہ آئندہ برس بھی سرخیوں میں رہے گا۔
























