شنگھائی: ٹینس کی دنیا کے نمبر 1 کھلاڑی یونیک سنر دائیں گھٹنے کی مسلسل تکلیف کے باعث رواں سال کے شنگھائی ماسٹرز سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ 25 سالہ اطالوی اسٹار نے ہفتے کو انسٹاگرام پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ شنگھائی کے شائقین کے سامنے کھیلنے سے محروم رہنے پر معذرت خواہ ہیں۔ 12 جولائی کو ومبلڈن کا ٹائٹل جیتنے کے بعد سے وہ کسی مسابقتی میچ میں نہیں اترے۔
اہم حقائق
- اعلان: 3 اکتوبر 2026 (ہفتہ) — یونیک سنر نے انسٹاگرام پر شنگھائی ماسٹرز سے دستبرداری کی تصدیق کی۔
- وجہ: دائیں گھٹنے کی مسلسل تکلیف؛ واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
- آخری میچ: 12 جولائی 2026 — ومبلڈن فائنل میں الگزینڈر زویریو کو 6-7(7)، 7-6(2)، 6-3، 6-4 سے شکست دے کر ٹائٹل کا دفاع کیا۔
- چھوٹے ہوئے ایونٹس: مونٹریال، سنسناٹی، یو ایس اوپن اور بیجنگ کا چائنا اوپن۔
- شنگھائی ماسٹرز 2026: 7 تا 18 اکتوبر — دفاعی چیمپئن والنٹن واشیروٹ سمیت انتہائی مضبوط میدان۔
- نمبر 1 کی دوڑ: الگزینڈر زویریو بیجنگ اور شنگھائی دونوں ٹورنامنٹس جیت کر پہلی بار عالمی نمبر 1 بن سکتے ہیں۔
انسٹاگرام پر دستبرداری کا اعلان
سنر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا: “بدقسمتی سے میں اس سال رولیکس شنگھائی ماسٹرز میں اس طرح نہیں کھیل سکوں گا جیسا کہ میں نے امید کی تھی۔ میں ہمیشہ شنگھائی کے شائقین کے سامنے کھیلنے سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور مجھے بہت افسوس ہے کہ اگلے ہفتے ایسا نہیں کر سکوں گا۔ آپ کی تمام حمایت کا شکریہ — میں اگلے سال آپ سے دوبارہ ملنے کا منتظر ہوں۔”
اطالوی میڈیا ان کی شنگھائی میں واپسی کے حوالے سے خاصا پرامید تھا، کیونکہ انہوں نے 2024 میں یہی ٹورنامنٹ جیتا تھا، لیکن گھٹنے نے ساتھ نہ دیا۔ سنر نے واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی، اور ان کی تمام توجہ اب گھٹنے کو مکمل طور پر ٹھیک کرنے پر مرکوز ہے۔
یونیک سنر کا چوٹ سے متاثرہ سیزن
سنر نے 12 جولائی کو ومبلڈن کے فائنل میں الگزینڈر زویریو کو چار سیٹوں میں شکست دے کر اپنے کیریئر کا پانچواں گرینڈ سلیم اور مسلسل دوسرا ومبلڈن ٹائٹل جیتا تھا۔ اسی ٹورنامنٹ کے دوران انہیں دائیں گھٹنے میں تکلیف شروع ہوئی، جو بعد میں تربیت کے دوران دوبارہ بھڑک اٹھی۔
اس چوٹ نے ان کا سیزن بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے شمالی امریکہ کے ہارڈ کورٹ ایونٹس (مونٹریال اور سنسناٹی)، یو ایس اوپن اور گزشتہ ہفتے بیجنگ کے چائنا اوپن سے دستبرداری اختیار کی۔ رواں سال ان کا ریکارڈ صرف 3 شکستوں کے مقابلے میں 44 فتوحات اور چھ ٹائٹلز پر مشتمل ہے، لیکن جولائی کے بعد وہ ایک بھی مسابقتی میچ نہیں کھیل سکے۔

شنگھائی ماسٹرز: مضبوط میدان، بڑا موقع
رواں سال کا شنگھائی ماسٹرز 7 سے 18 اکتوبر تک کھیلا جائے گا، اور سنر کی غیر موجودگی کے باوجود میدان انتہائی مضبوط ہے۔ چار بار کے چیمپئن نواک جوکووچ اس ایونٹ کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ الگزینڈر زویریو، کارلوس الکاراز، دانیال میدویدیف، بین شیلٹن اور فیلکس اوجر-الیئسیم بھی حصہ لے رہے ہیں۔ دفاعی چیمپئن والنٹن واشیروٹ اپنے ٹائٹل کا دفاع کریں گے۔
سنر نے 2024 میں شنگھائی ماسٹرز کا ٹائٹل جیتا تھا، جب فائنل میں انہوں نے نواک جوکووچ کو شکست دی تھی — اسی لیے ان کی اس بار کی غیر موجودگی شائقین کے لیے خاص طور پر مایوس کن ہے۔ ٹینس کی مزید خبریں وطن نیوز کے کھیل سیکشن میں ملاحظہ کریں۔

زویریو کے لیے عالمی نمبر 1 کا سنہری موقع
سنر کی دستبرداری سے سب سے زیادہ فائدہ ان کے قریبی حریف الگزینڈر زویریو کو ہو سکتا ہے۔ 29 سالہ جرمن کھلاڑی نے رواں سال اپنے کیریئر کے پہلے دو گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتے — فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن، جہاں فائنل میں انہوں نے بین شیلٹن کو 6-3، 7-6(2)، 5-7، 6-2 سے شکست دی۔
اگر زویریو جاری چائنا اوپن (بیجنگ) اور اس کے بعد شنگھائی ماسٹرز دونوں جیت لیتے ہیں تو وہ پہلی بار عالمی رینکنگ میں سرفہرست آ سکتے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اس وقت 1,370 پوائنٹس کا فرق ہے، اور سنر کو سال کے آخر تک مزید پوائنٹس کا دفاع کرنا ہے، اس لیے سال کے اختتام پر نمبر 1 کی دوڑ اب پوری طرح کھل گئی ہے۔
نتیجہ
یونیک سنر کا شنگھائی ماسٹرز سے باہر ہونا ان کے لیے ایک اور دھچکا ہے، لیکن ایشین سوئنگ اب الگزینڈر زویریو کے لیے تاریخ رقم کرنے کا موقع بن گئی ہے۔ ٹینس کے شائقین اطالوی اسٹار کی جلد صحت یابی اور کورٹ میں واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ شنگھائی میں اگلے دو ہفتے عالمی نمبر 1 کی جنگ کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

























