سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض اور ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر کیے گئے مہلک حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جس کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
حوثی حملوں کی تفصیلات
حوثی باغیوں نے حال ہی میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت کئی اہم شہروں کے ہوائی اڈوں پر بیک وقت ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حملوں سے ہوائی اڈوں پر شدید نقصانات ہوئے اور پروازوں کا سلسلہ بھی متاثر ہوا۔
- حملوں کا وقت: حملے جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح کے دوران کیے گئے۔
- نشانہ: ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا کے علاقائی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
- ہلاکتیں و زخمی: کم از کم 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
- نقصانات: ہوائی اڈوں پر شدید مادی نقصانات ہوئے اور کئی طیارے بھی متاثر ہوئے۔
سعودی عرب کا ردعمل
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سعودی فضائیہ نے یمن میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور میزائل لانچ سائٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
فضائیہ کی کارروائی
- مخصوص اہداف: فضائیہ نے صنعا، حدیدہ اور صعدہ کے علاقوں میں موجود حوثی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
- کامیابی: حملوں میں حوثیوں کے متعدد اسلحہ ڈپو اور میزائل لانچ سائٹیں تباہ کر دی گئیں۔
- جانی نقصان: ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان فضائی حملوں میں حوثی جنگجوؤں کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔
- مزید کارروائی: سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل
سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں پر بین الاقوامی برادری نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور دیگر کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
- اقوام متحدہ: سیکرٹری جنرل نے حملوں کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
- امریکہ: امریکہ نے سعودی عرب کی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا اور حوثیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
- یورپی یونین: یورپی یونین نے بھی حملوں کی مذمت کی اور علاقائی استحکام پر زور دیا۔
- دیگر ممالک: متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن سمیت کئی عرب ممالک نے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کیا۔
حوثیوں کے حملوں کی وجوہات
ماہرین کے مطابق حوثیوں کے یہ حملے یمن میں جاری جنگ کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ حوثی اس طرح کے حملوں کے ذریعے سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جنگ کا پس منظر
- یمن کی خانہ جنگی: یمن میں 2014 سے خانہ جنگی جاری ہے، جس میں حوثی اور یمنی حکومت کے حامی فوجی آمنے سامنے ہیں۔
- سعودی اتحاد: 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔
- انسانی بحران: اس جنگ کے نتیجے میں یمن میں شدید انسانی بحران پیدا ہوا ہے، جس میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
- مذاکرات کی ناکامی: امن مذاکرات کے کئی ادوار ناکام ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔
سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت
سعودی عرب نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک کے پاس جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہے، جس نے حالیہ حملوں میں حوثیوں کے متعدد ڈرون اور میزائلوں کو مار گرایا۔ سعودی فضائیہ نے بھی جوابی کارروائی میں مؤثر کردار ادا کیا۔
- جدید دفاعی نظام: سعودی عرب کے پاس پیٹریاٹ اور دیگر جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں۔
- فضائیہ کی استعداد: سعودی فضائیہ جدید جنگی طیاروں اور تربیت یافتہ عملے سے لیس ہے۔
- بحری افواج: ملک کی بحری افواج بھی خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
- سرمایہ کاری: سعودی عرب دفاعی شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ اپنی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
نتیجہ
سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ریاض اور ہوائی اڈوں پر ہونے والے حالیہ حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سعودی عرب کی جوابی کارروائی سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی کوششیں ہیں کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔
یمن میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور دیرپا سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ جب تک اس مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر اسے حل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس طرح کے حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ حوثیوں کی جانب سے حملوں کو روکا جائے اور امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔


























