سندھ طاس معاہدہ: ثالثی عدالت کا انڈیا کو ہدایت نامہ
سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے نافذ العمل ہے، کے بارے میں دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاہدے پر عملدرآمد کرے اور اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں پن بجلی گھر پر تعمیرات محدود

سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے نافذ العمل ہے، کے بارے میں دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاہدے پر عملدرآمد کرے اور اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں پن بجلی گھر پر تعمیرات محدود کرے۔
سندھ طاس معاہدہ کی اہمیت
سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 80 فیصد زرعی شعبے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے، جس کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔ انڈیا نے اپریل 2025 کے دوران اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا۔
ثالثی عدالت کا فیصلہ
ثالثی عدالت نے اپنے ایوارڈ میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے کیونکہ انڈیا کے پاس اس معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ عدالت نے انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے، جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی پوزیشن
پاکستان نے ثالثی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ انڈیا کو اس معاہدے پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔
- سندھ طاس معاہدہ 1960 سے نافذ العمل ہے۔
- انڈیا نے اپریل 2025 کے دوران اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا تھا۔
- ثالثی عدالت نے انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔
ثالثی عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور ہمیں امید ہے کہ انڈیا اس پر عملدرآمد کرے گا۔
مزید تفصیلات کے لیے وطن نیوز پر جائیں۔
